BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 09 November, 2004, 13:09 GMT 18:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی کے عاشق جائیں تو کہاں جائیں

News image
دلی میں باغوں میں پھرنے والے نوجوان لڑکے لڑکیوں سے ہیجڑے پیسے وصول کرتے ہیں۔
ہندوستان کی دارالحکومت دلی میں عشق و محبت کرنے والے لڑکے و لڑکیوں کی تفریح کے لئے یوں تو کئی مقامات ہیں لیکن رومانوی لمحات گزارنے کے لئے سب سے مقبول جگہ شہر کے پارک ہیں۔ لیکن ان پارکوں میں انہیں عجیب و غریب مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواجہ سرا جنہیں عرف عام میں ہیحڑا کہا جاتا ہے انہیں وہاں بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتےہیں۔

معاشرے میں جدید اقدار تو پنپ رہی ہیں لیکن گرل فرینڈ کے ساتھ بے تکلفی سے بیٹھنا اب بھی معیوب سمجھاجاتا ہے اسی لئے نوجوان گوشہ تنہائی کی تلاش میں پارکوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ بے فکر ہوکر رومانس کا لطف اٹھاسکیں۔ لیکن وہاں پر خواجہ سرا ان پارکوں میں ان لڑکے و لڑکیوں سے زبردستی پیسے وصول کرتے ہیں۔

دلی کے مشہور بدھا گارڈن میں ہر روز بہت سے نوجوان تفریح کی غرض سے آتے ہیں۔ یہاں ہر مقام پر خواجہ سرا ؤں اور نوجوانوں کے درمیان اس بات پر توتو میں میں ہوتی رہتی ہے کہ پیسے دینگے یا نہیں؟ دینگے تو کتنے؟ یا وہ کتنے پیسوں میں راضی ہونگے ؟۔۔۔۔ ۔

پارک میں ایک شخص نے بی بی سی کو بتایا کہ ہیجڑے پچاس روپے سے کم مانگتے نہیں اور کم دینے پر بد تمیزی کرتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ پیسے دینے پر تو دعائیں دیتے ہیں کہ آپ کی جوڑی سلامت رہے لیکن نہ دینے پر گالیاں بکتے ہیں اور جھگڑا کرنے پر بھی آمادہ ہوجاتے ہیں۔

اس بارے میں پارک میں وصولی کرنےوالے خواجہ سراؤں سے جب میں نے بات کرنے کی کوشش کی تو پہلے تو وہ کچھ بتانے کے لئے راضی نہیں تھے لیکن بڑی خوشامد کے بعد ایک نے کہا کہ وہ زبر دستی نہیں کرتے ہیں بلکہ مانگتے ہیں اور جو خوشی سے دے اسی سے لیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دن میں وہ آسانی سے تین، چار سو روپے وہ کما لیتے ہیں۔

درختوں کے ساۓ ، پھولوں کی خوشبوؤں اور تنہائی کے گوشے میں جب عاشق و معشوق رومانس میں مدہوش ہوں اور ایسی حالت میں پیچھے سے اچانک کوئی دخل اندازہو تو یقینا بہت ناگوار گزرتا ہے۔ لودھی گارڈن میں ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ اچانک انکی آمد سے شرم اور سبکی بھی محسوس ہوتی ہے۔ہیجڑوں کو معلوم ہے کہ ایسی حالت میں ان نوجوانوں کے پاس پیسہ دینے کی علاوہ کوئی دوسری صورت نہیں اس لئے وہ ماحول کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔اور اگر پیسہ نہ دیں تو وہ بحث کرتے ہیں اس لئے کئی بار پارک چھوڑ کر جانے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔ ۔۔ لیکن اس بھیڑ بھری دلی میں جائیں تو کہاں جائیں؟

ایک لڑکی ٹینا کا کہنا تھا کہ اگر پیسہ ہی وصولنا ہے تو پارک میں داخلے کے لئے فیس مقرر کردیں لیکن اندر کسی طرح کی مداخلت نہیں ہونی چاہئیے تاکہ فرصت کے لمحات خوشگوار موڈ میں گزریں۔ ٹینا کا کہنا تھا کہ پارکوں میں خواجہ سراؤں کا سلوک انتہائی ذلت آمیز ہوتا ہے۔ ان سے چھٹکارہ حاصل کرنے کے لئے کچھ قیمت چکانی ہی پڑتی ہے۔

خواجہ سراؤں کا کہنا تھا کہ ایک پارک میں یومیہ وہ تین سے چار سو روپے تک کما لیتے ہیں۔ پارک میں درپہر میں ایک گروپ وصولی کرتا ہے اور دوپہر بعد دوسرے گروپ کی باری ہوتی ہے۔ دلی کے مشہور لودھی گارڈن میں ایک خواجہ سرا نے بتایا کہ انکے پاس اس طرح مانگنے کے علاوہ روزی روٹی کا کوئی دوسرا زریعہ نہیں ہے اس لئے وہ یہ کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں کوئی کام بھی نہیں دیتا جس کے سبب انہیں ادھر ادھر بھٹکنا پڑتا ہے۔

ایک عام تصور یہ ہے کہ خواجہ سراؤں کی بددعائیں نہیں لینی چاہیئے اسی لیے لوگ ان سے بچتے ہیں۔اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہیں لوگ انہیں پیسہ دے کر چلتا کرتے ہیں۔ دلی میں سیکڑوں پارک ہیں اور بعض تو ہزاروں ایکڑ میں پھیلے ہوۓ ہیں۔ ان میں سے اکثر پارک نوجوان عاشقوں کی آمجگاہ ہیں اور تقریبا سبھی میں خواجہ سراؤں کی یہ تجارت جاری ہے۔

بڑے پارکوں کے باہر پولس بھی تعنیات ہوتی ہے لیکن وہ بھی ان کی حرکتوں سے بے بس نظر آتی ہے۔ایک پولس اہلکار کا کہنا تھا کہ پارک میں خواجہ سراؤں کے داخلے کو روکنے کےلئے وہ نگرانی کرتے ہیں لیکن کئی گیٹ ہونے کے سبب وہ کہیں نہ کہیں سے اندر آہی جاتے ہیں اس لیۓاندر بھی دیکھ بھال ہوتی رہتی ہے۔ تاہم پارک میں آنے والے افراد کو یہ بھی شکایت تھی کہ ہیجڑے پولیس کو بھی پیسہ دیتے ہیں اسی لیۓ بڑی آزادی سے انکا یہ دھندہ جاری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد