بابری کمیشن، پھر توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ ميں یہ بیان دینے کے بعد کہ لبراہن کمیشن جمعے تک اپنی مقررہ مدت میں رپورٹ پیش کردے گا، ایک بار پھر اس کی مدت میں توسیع کی گئی ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کی تحقیقات کرنے والے اس کمیشن کی یہ اکتالیسویں توسیع ہے لیکن اس بار اس کی مدت ميں صرف دو مہینے کا اضافہ کیاگيا ہے۔ بتایا گيا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ تیار ہے اور اسے صرف حتمی شکل دی جارہی ہے۔ بعض خبروں ميں بتایا جا رہا ہے کہ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں بی جے پی کے سینئرلیڈر مرلی منہور جوشی، کلیان سنگھ ، اوما بھارتی کو اشتعال انگیز تقریریں کرنے اور فرقہ وارانہ جذبات بھڑکانے کا قصوروار قرار دیا ہے۔ جبکہ کمیشن نے ایل کے اڈوانی کو تمام الزامات سے بری کیا ہے۔ کمیشن نے ان خبروں کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ابھی تو وہ اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ تاریخی مسجد کو انہدام کے جرم میں حکومت ایک شخص کو بھی گرفتار نہ کرسکی۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہيں ہےکہ پندرہ برس بعد اس کمیشن کے رپورٹ کا کیا نتیجہ نکلے گا۔ فضا میں ضمنی انتخاب کی علامتیں ظاہر ہو رہی ہيں۔ اس لحاذ سے یہ رپورٹ سیاست کے لیے تو ضرور اچھی ہوگی۔ سچر رپورٹ سیاست کی نذر مسلمانوں کی حالت کا اندازہ لگانے کے لیے سچر رپورٹ کو پہلی سنجیدہ کوشش مانا جاتا ہے۔ سچر کمیٹی نے اپنی جامع رپورٹ میں نہ صرف پسماندگی کی صورت حال کا جائزہ لیا تھا بلکہ یہ بھی بتایا تھا کہ یہ کیوں ہے اور اسے کس طرح دور کیا جا سکتا ہے۔ توقع کی جارہی تھی کہ حکومت ان سفارشات کی روشنی میں ٹھوس اقدامات کرے گی لیکن گزشتہ دنوں چار صفحات پر مشتمل جو منصوبہ عمل پیش کيا گیا ہے وہ صرف عمومی نوعیت کا ہے۔ اس میں کہیں یہ نہيں بتایا گيا ہے کہ حکومت کیا اور کب کرےگي۔
سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس میں فوج اور پولیس کی نمائندگی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ نے اسے کانگریس حکومت کی ’انتخابی بازیگری‘ کہا ہے۔ مودی کی انتخابی مشکلیں اس سال کے اواخر ميں گجرات میں انتخابات ہونے ہيں۔ وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے اپنی حکومت کی کارکردگی اجاگر کرنے کے لیے ایک فلم تیار کرائی ہے اور ریاست کے سبھی کیبل آپریٹروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شام میں پرائم ٹائم میں اس فلم کو لازمی طور پر دکھائیں۔ اطلاعات ہیں کہ کیبل آپریٹروں نے مرکز سے شکایت کی ہے اور مرکزی حکومت اس سلسلے میں مودی حکومت سے بات کرنے والی ہے۔ نریندر مودی کو گجرات میں اپنی پارٹی کے متعدد سرکردہ رہنماؤں اور ارکان اسمبلی کی مخالفت کا سامنا ہے۔ بعض رہنماؤں نے تو صاف کہہ دیا ہے کہ وہ مودی کی رہنمائی میں ہر گز انتخاب نہیں لڑيں گے لیکن مودی اپنی زمین پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ یوپی میں فسادات کی لہر ایک طویل عرصے کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر اترپردیش میں فرقہ وارانہ صورتحال نازک بنی ہوئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تصادم ہو رہے ہیں۔ معمول کے واقعات فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرلیتے ہیں۔
گزشتہ دنوں ٹانڈہ، رام پور، آگرہ اور الہ آباد میں ایک کے بعد ایک اس طرح کے واقعات ہوئے ہیں۔ ہر جگہ صورتحال خطرناک ہوتے ہوتے بچی ہے۔ اترپردیش کا شمار ہندوستان کی بدترین ریاستو ں میں ہوتا ہے۔ آبادی کے لحاظ سے یہ ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے لیکن تعلیم، صحت اور امن وقانون کے لحاظ سے یہ سب سے بری ریاستوں میں سے ایک ہے۔ ہندوستانی سفیر مشکل میں ہند امریکہ جوہری معاہدے سے صرف منموہن سنگھ کی حکومت ہی مشکل میں نہيں ہے۔ امریکہ میں ہندوستان کے سفیر رونین سین بھی مشکل میں پڑ گئے ہيں۔ جوہری معاہدے کی مخالفت کرنے والے ارکان پارلیمان کو مبینہ طور پر ’ہیڈ لیس چکن‘ کہنے کے نتیجے میں لوک سبھا کے سپیکر نے ان کے معاملے کو مراعات کمیٹی کو بھیج دیا ہے۔ پارلیمنٹ کی مراعات کمیٹی اگر مسٹر رونین کے بیان کو صحیح پاتی ہے تو وہ انہيں وضاحت کے لیے اپنے سامنے طلب کرسکتی ہے۔ مسٹر رونین نہ صرف اس بیان کے لیے پہلے ہی معافی مانگ چکے ہيں بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ’ہیڈ لیس چکن‘ کا استعارہ انہوں نے صحافیوں کے لیے استعمال کیا تھا۔ |
اسی بارے میں بابری انہدام پر رپورٹ جمعہ تک 30 August, 2007 | انڈیا 1992فسادات کی تفتیش کےلیےسیل11 August, 2007 | انڈیا بابری مسجد:’مقدمہ رائے بریلی میں ہی‘22 March, 2007 | انڈیا نرمدا : مودی کی بھوک ہڑتال ختم17 April, 2006 | انڈیا ’اڈوانی صاحب! نظرِ ثانی کریں‘08 June, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||