بابری مسجد:’مقدمہ رائے بریلی میں ہی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام کے معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے سرکردہ رہنما لال کرشن اڈوانی سمیت آٹھ افراد کے خلاف رائے بریلی کی عدالت ميں ہی مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔ ریاست اترپردیش کی حکومت نے بابری مسجد کے انہدام کے مقدمہ کی سماعت رائے بریلی کی عدالت ميں کرنے کا حکم دیا تھا جس کے خلاف نومبر 2002 میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی کہ اس مقدمے کی سماعت لکھنؤ میں کرائی جائے۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ سال بھی ریاستی حکومت کے فیصلے کو صحیح قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ معاملے کی سماعت رائے بریلی میں ہی ہونی چاہیے تاہم درخواست گزار نے عدالت ميں نظر ثانی کی اپیل داخل کی تھی لیکن سپریم کورٹ نے ایک بار پھر واضح کردیا ہے کہ معاملے کی سماعت رائے بریلی میں ہی کی جائے۔ بابری مسجد کے انہدام کے معاملے میں اڈوانی سمیت بھارتیہ جنتا پارٹی کے مرلی منوہر جوشی، ونئے کٹیار، اوما بھارتی، سادھوی رتمابھرا، وشو ہندو پریشدھ کے رہنما وشنو ہری ڈالمیا، اشوک سنگھل اور گری راج کیشور پر فساد برپا کرنے اور نفرت پھیلانے کا الزام ہے۔ بابری مسجد کے انہدام کو پندہ برس گزر چکے ہیں اور ابھی اس معاملے میں فرد جرم عائد کرنے کی بجائے صرف یہ طے ہو پایا ہے کہ آخر مقدمہ کن عدالتوں میں چلایا جائے گا۔ مقدمے کی سماعت لکھنؤ منتقل کرنے کے درخواست گزار محمد اسلم کا کہنا تھا کہ چونکہ بابری مسجد سے متعلق دوسرے معاملات کی سماعت لکھنؤ ميں ہو رہی ہے اس لیے یہ معاملہ بھی لکھنؤ منتقل ہونا چاہیے۔ بابری مسجد منہدم ہونے کے بعد پہلی ایف آئی آر ميں انتالیس افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس مقدمہ کی سماعت لکھنؤ کی عدالت ميں کی جا رہی ہے۔
دوسری ایف آئی آر ميں اڈوانی سمیت بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے آٹھ رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اس کی سماعت رائے بریلی کی عدالت میں شروع ہوئی تھی۔ دو ہزار تین ميں رائے بریلی کی عدالت نے لال کرشن اڈوانی کے خلاف الزمات کو خارج کر دیا تھا اور باقی افراد کے خلاف مقدمہ جاری رکھنے کا فیصلہ سنایا تھا۔ تحریک کے دوران 6 دسمبر 1992 کو ہزاروں ہندو کارسیوکوں نے بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کےا علیٰ رہنماؤں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں تاریخی مسجد کو منہدم کر دیا تھا۔ | اسی بارے میں ’راہل کا بیان مذہبی جذبات کی توہین‘20 March, 2007 | انڈیا بی جے پی اور جے ڈی یو کا اتحاد11 March, 2007 | انڈیا انڈیا: روایتی سوچ زیادہ نہیں بدلی11 February, 2007 | انڈیا ’قوم پرستی کی جانب واپسی‘23 December, 2006 | انڈیا بابری مسجد: عدالت خاموش ہے06 December, 2006 | انڈیا آر ایس ایس: بھرتی پر پابندی ختم 14 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||