انڈیا: روایتی سوچ زیادہ نہیں بدلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گلوبلائزیشن کےاس دور میں ایسا مانا جارہا ہے کہ دنیا ایک عالمی گاؤں بن گئی ہے۔ مسافت کی دوریاں کم ہونے کےسبب لوگ قریب آئے گئے ہیں اور اس کی وجہ سے نسل، ذات اور علاقے کی بنیاد پر تعصب کم ہورہا ہے ۔ لیکن حقیقت اس سےمختلف ہے اور ہندوستان شاید آج بھی ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں نسل، ذات، علاقے اور زبان کی بنیاد پر اقلیتیوں اور دیگر طبقوں کے تیئں تفریق کے معاملے اکثر سامنے آتے ہیں۔ اس کے سبب ان کے بارے میں ایک روایتی شبیہ بن جاتی ہے جو عام زندگی میں متاثرہ افراد کے لۓ مشکلات پیدا کرتی ہے۔ حال ہی جب ہندوستانی فلم اداکارہ شلپا شیٹی کے ساتھ برطانیہ کے ایک ٹی شو میں نسل پرستی کا معاملہ سامنے آیا تو برطانیہ سے لیکر ہندوستانی عوام اور حکومت نے اس کی زبردست مذمت کی۔ اس معاملے نے یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ کیا ہندوستان میں آج بھی ذات اور نسل کے بنیاد پر تفریق نہیں ہوتی ہے؟ کیا ہندوستان میں 1984کے سکھ مخالف، انسی سو بانوے کے بابری مسجد کےانہدام کے بعد مسلم مخالف ، اور دو ہزار دو کے گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات اور دلتوں کے ساتھ امیتازی سلوک کے معاملات سامنے نہیں آئیں ہیں؟ کیا آج بھی اخبار میں شادیوں کے اشتہار میں گورے رنگ کی لڑکی اور اپنی ذات کو ترجیج نہیں دی جاتی ہے؟ انہیں سب سوالوں۔۔۔۔ اور کسی بھی مخصوص برادری اورعلاقائی لوگوں کے بارے میں عوام کیا سوچتی ہے؟ یہ جاننے کے لیے میں نے دلی کی سڑکوں پر بعض لوگوں سے کچھ سوالات کئے۔
دلی میں کئی افراد سے بات کرنے کے بعد پتہ چلا کہ تقریباً سب کے ذہنوں میں علاقے، زبان، اور مذہب کی بنیاد پر کسی ایک مخصوص طبقے کے بارے میں ایک روایتی شبیہ ہے ۔ میں نے ان لوگوں سے بھی بات کی جو اس قسم کی تفریق کا شکار ہوتے ہیں۔ تاپتی کا تعلق اڑیسہ سے اور دلی تعلیم حاصل کرنے آئی ہیں انکا کہنا تھا ’اڑیسہ کے بارے میں لوگ کم جانتے ہیں اور اسکا نقصان یہ ہوا کہ لوگ انہیں منی پور کا سمجھ کر ’چنکی‘ کہتے ہیں‘۔ دلی میں بیشتر افراد شمال مشرق کی لڑکیوں کو ' چنکی' کہتے جو کہ ایک منفی شبیہ ہے۔ عامل افغانستان سے ہندوستان تعلیم حاصل کرنے آئے ہیں لیکن افغانستان سے تعلق رکھنے کا نقصان یہ ہوا کہ انہیں ہرکوئی شک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ان کا کہنا ہے ’مجھے میرے نام اور میرے افغانی ہونے کی وجہہ سے کرائے پر گھر ملنے میں پریشانی ہوئی کیونکہ سب لوگ یہ سمجھتے تھے میرا تعلق طالبان سے ہے۔ اور لوگ تعجب سے یہ پوچھتے کہ تمہیں ہندوستانی ویزا کس نے دی‘۔ عمرانیات کے ماہر امتیاز احمد کا کہنا ہے ’ہندوستان میں نسل پرستی، فرقہ پرستی اور ذات پات کی بنیاد پر تفریق عام بات ہے۔کیوں کہ ہندوستان کو ایک ہندو ملک کی طرح سے تصور کیا گیا تھا اور جو بھی اس دائرے سے باہر ہيں ان کے بارے میں ایک روایتی شبیہ بن گئی ہے‘۔ ان کا کہنا ہے’ہندوستان میں آج بھی ہندو مسلم کے بارے میں کوئی بھی بات چیت تفریق کے بغیر ممکن نہیں ہے کیوں کہ اس سماج میں آج بھی دوسرے کو قبول نہیں کیا جاتا ہے، مسلمان دہشت گر د ہیں، ایتھنیک گروپ کے لوگ گندے ہوتے ہیں، منی پوری اور ناگا غلط ہیں اور کبھی صحیح نہیں ہوسکتے‘۔ اس معاملے پر روشنی ڈالتے ہوئے ریاست آسام سے تعلق رکھنے والے گلوکار امتیاز سائکیا کا کہنا ہے" کسی بھی برادری اور مذہب کے افراد کی روایتی تصورات کو برقرار رکھنے میں میڈیا نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہندوستانی فلموں میں مسلمان عورت وہی ہے جو برقہ پہنتی ہو، پہاڑی آدمی ہمیشہ چوکی دار کا ہی رول کرتا ہے اور سردار صرف مذاحیہ کردار ادا کرتے ہیں۔ رشتوں کے لیے آج بھی اخباری اشتہارات میں گوری لڑکی کی ہی تلاش کی جاتی ہے"۔
وہ کہتے ہیں ’ہماری زبان خود ہی نسل پردستی کی بنیاد پر مبنی ہے، مثال کے طور پر ’فیئر اینڈ لوولی‘ ہے تو خوبصورت ہے اور اگر ’ کالا‘ ہے تو بدصورت۔ اگر لغت کو اٹھا کر دیکھیں تو ہر ’بلیک‘ یہ کالے لفظ کے منفی مطلب ہیں مثال کے طور پر بلیک مارکیٹ، بلیک میل، بلیک منی، بلیک شیپ وغیرہ‘۔ تجزیہ کار پشپیش پنت کا کہنا ہے ’ہندوستان میں نئی نسل اپنے تجربات سے لوگوں کے بارے میں اپنی رائے بناتے ہیں نہ کہ میڈیا اور ادب میں پیش کی گئی روایتی شبیہ کی بنیاد پر‘۔ امتیاز احمد کاخیال ہے ’ملک چاہے قومی یک جہتی کے کتنے ہی نعرے لگا لے، کتنے ہی ترقی کے دعوے کرلے لیکن اسے ابھی بھی ہزاروں برس پرانی نسل، ذات اور مذہب، رنگ اور زبان کی بنیاد پر ہونے والی تفریق کو مٹانا ہوگا اور یہ تب ہی ممکن ہوگا جب ملک اور اس کے میڈیا پر کسی ایک ذات اور مذہب کے لوگوں کا غلبہ نہ ہو‘۔ |
اسی بارے میں کرناٹک: فرقہ وارانہ فسادات، کرفیو02 December, 2006 | انڈیا فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات07 October, 2006 | انڈیا فرقہ وارانہ فسادات: متاثرین کو انصاف ملےگا؟ 21 September, 2006 | انڈیا بڑودہ فسادات اور ہندو مسلم تفریق09 May, 2006 | انڈیا گجرات کی صورتحال مزید خراب03 May, 2006 | انڈیا گجرات فسادات: قبریں، عدالتی حکم20 April, 2006 | انڈیا علیگڑھ فسادات: یو پی میں ریڈ الرٹ07 April, 2006 | انڈیا بش دورہ: لکھنؤ فسادات، چار ہلاک03 March, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||