کرناٹک: فرقہ وارانہ فسادات، کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست کرناٹک کے مینگلور ضلع کے ملکی قصبے میں فرقہ وارانہ فسادات بھڑکنے کے بعد کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ جمعہ کی رات حساس ملکی قصبے ميں پولیس نے بلوائیوں پر گولی چلائی جس میں دو افراد ہلاک اور دو افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ ریاست کے وزیر داخلہ ایم پی پرکاش نے بتایا کہ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک رہنما کے قتل کے بعد علاقہ میں تشدد کے واقعات شروع ہوئے تھے۔ تشدد کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامیوں نے مسلمانوں کی کئی دکانوں کو آگ لگا دی اور نقصان پہنچایا۔ بی جے پی کے حامیوں کو شبہ تھا اک ان کے رہنما 32 سالہ سدانند گوؤڈا کو بعض مسلمانوں نے قتل کر دیا تھا ۔ جس وقت سدانند گوؤڈا کے جنازہ کو آخری روسومات ادا کرنے کے لئے لے جایا جا رہا تھا اس وقت بھی لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ مسٹر پرکاش کا کہنا تھاکہ کرفیو پیر کے روز تک جاری رہے گا۔ ریاستی وزیر داخلہ کے مطابق بی جے پی کے رہنما کے قتل کی تفتیش کا حکم جاری کیا جا چکا ہیں۔ اس سے قبل اکتوبر میں بھی اسی علاقہ میں فرقہ وارانہ فسادات میں دو افراد ہلاک اور تقریبا 70 لوگ زخمی ہو گئے تھے۔ یہ قصبہ فرقہ وارانہ فسادات کے اعتبار سے حساس مانا جاتا ہے۔ اس علاقے میں بی جے پی کا بول بالہ ہے۔ | اسی بارے میں فرقہ وارانہ فسادات: متاثرین کو انصاف ملےگا؟ 21 September, 2006 | انڈیا آندھرا پردیش فرقہ وارانہ تشدد کی زد میں07 October, 2006 | انڈیا فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات07 October, 2006 | انڈیا کرناٹک میں بی جے پی کا کھیل14 October, 2006 | انڈیا گجرات: ’5 ہزار خاندان بےگھر‘24 October, 2006 | انڈیا پرامن عید،مادام تساؤ ممبئی میں29 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||