لالو کا تنازعہ،فوجیوں کو ہدایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے لیے خاندان اب بھی اہم بیشتر ہندوستانی آج بھی خاندان کے طور پر ساتھ رہنا پسند کرتے ہیں۔ جائزے کےمطابق طلاق کی شرح میں جو پرانی قدروں کے ٹوٹنے کی سب سے اہم پیمانہ سمجھی جاتی ہے وہ ہندوستان میں ایک فیصد سے کم ہے۔ ہندوستان کی بیاسی فیصد آبادی بال بچوں کے گہرے اور لمبے رشتے میں یقین رکھتی ہے۔ خاندان کی قدریں اتنی گہری ہيں کہ شہروں میں اکیلے رہنے والے بالغ افراد کی تعداد ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ شہری علاقوں میں ایک گھر میں اوسط تقریباً پانچ افراد رہتے ہیں۔ لڑکیوں سے دور رہیں حالیہ ہفتوں میں ہندوستان کے زير انتظام کشمیر میں آبروریزی، چھیڑ خانی اور لڑکیوں سے تعلقات کے کئي معاملات میں فوجیوں کہ مبینہ طور پر ملوث ہونے کے بعد ہندوستانی فوج نے کشمیر میں فوجیوں کو متنبہ کیا ہےکہ وہ لڑکیوں سے دور رہے ہیں۔
فوج نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیمیں خاتون خود کش بممباروں کو ’ ہنی ٹریپ‘ یعنی فوجیوں کو پھسانے کے لیے استعمال کر سکتی ہے۔ فوج کایہ بھی کہنا ہےکہ چھیڑخانی اور آبروریزی جیسے معاملات کو علحدگی پسند تنظیمیں بقول اس کے اپنی دم تورتی ہوئی تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے کے لیے استعمال کررہی ہیں۔ لالو کا نیا تنازعہ ریلوے کے وزير لالو پرساد یادو کا نام آئے اور کوئی تنازعہ نہ ہو ایسا کم ہی ہوتا ہے۔پچھلے دنوں لالو بہار کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے گئے ریاست کی صورت حال دیکھ کر وہ پریشان ہوئے۔ یہاں تک ساری بات ٹھیک تھی لیکن مشکل اس وقت شروع ہوئی جب انہوں نے اپنے پائلٹ سے ہیلی کاپٹر ایک شاہرہ پر ہی لینڈ کرا دیا۔ ایک مقامی وکیل نے مظفر پور کی ایک ذیلی عدالت میں لالو اور ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کے خلاف کیس دائر کردیا ہے۔ وکیل کا کہنا ہےکہ کسی وارننگ کے بغیر شاہرہ پر اچانک ہیلی کاپٹر اترنے سے وہ اور ان کے ساتھی زخمی ہوگيے۔ طلاق کا دارلحکومت دلی سیاسی دارالحکومت کے ساتھ ساتھ طلاق کا بھی دارالحکومت بنتی جارہی ہے۔ سماجی ماہرین کا خیال ہے کہ تیز رفتار زندگی، ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے وقت کی کمی۔ میاں بیوی دونوں کا کام کرنا بڑھتے ہوئے طلاق کی وجوہات ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہےکہ بڑی تعداد میں طلاق کی دوخواستیں عرتوں کی طرف سے داخل کی جارہی ہیں۔ طلاق کے بیشتر معاملات شادی کے ابتدائی برسوں کے ہوتے ہيں۔ دلی میں طلاق کا ایک بڑا سبب یہ بھی بتایا جاتا ہےکہ اب سماج میں اسے بری نظر سے نہيں دیکھا جاتا۔
انصاف کے دو پیمانے ہندوستان میں گزشتہ پورا ہفتہ ممبئی اور کوئمبٹور کے بم دھماکوں کے معاملات میں عدالت کے فیصلوں پر مرکوز رہا۔ دونوں ہی معاملوں میں سو سے زيادہ مسلمانوں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ پورے ہفتے یہ بحث چھڑی رہی کہ جن لوگوں کو سزائیں ملی ہيں اور جنہیں قصوروار قرارد یاگیا ہے کیا وہ سبھی قصوروار تھے۔ اس وقت یہ بحث زوروں پر ہے۔ ذرائع ابلاغ میں تفتیش اور انصاف کے عمل کے بارے میں بہت سارے ایسے سوالات کیے جارہے ہیں جو حکومت، عدلیہ اور تفتیشی اداروں سبھی کے لیے غور و فکر کا سبب بن رہے ہیں۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: وزیر خارجہ کیلیئے دوڑ22 October, 2006 | انڈیا دلی ڈائری:’ملا کی دوڑ اسمبلی تک‘15 April, 2007 | انڈیا دلی ڈائری:عدلیہ، بالی ووڈ اور عراق27 May, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کی سادگی، مہنگی کاریں08 July, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: کشمیر میں جسم فروشی قانونی 14 May, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: آیتوں کے رِنگ ٹونز پر اعتراض19 November, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||