بابری انہدام پر رپورٹ جمعہ تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایودھیا کی تاریخی بابری مسجد کے انہدام کی تحقیات کرنے والے لبراہن کمیشن کی حتمی رپورٹ جمعہ تک آ جانے کی توقع ہے۔ یہ کمیشن چھ دسبمر انیس سو بانوے کو ہندو انتہا پسندوں کے ایک ہجوم کے ہاتھوں بابری مسجد کے انہداہم کے پندرہ دنوں بعد قائم کیا کيا گیا تھا۔ داخلی امور کے وزیرِمملکت شری پرکاش جیسوال نے راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا کہ لبراہن کمیشن اپنی مقررہ مدت اکتیس اگست تک اپنی رپورٹ پیش کردے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیمشن کی مدت میں اب مزید توسیع نہيں کی جائے گي۔ جسٹس منموہن سنگھ لبراہن کی سربراہی میں اس کمیشن کو اپنی رپورٹ چھ مہینے ميں پوری کرنی تھی لیکن رپورٹ اب پندرہ برس بعد پیش کیے جانے کی توقع ہے۔ پندرہ برس میں کمیشن کی مدت میں چالیس بار توسیع کرنی پڑی ہے۔ اور حکومت نے اس پر تقریبا سات کروڑ سترہ لاکھ روپے خرچ کیے ہيں۔ لبراہن کمیشن نے سو سے زیادہ گواہوں اور متعلقہ لوگوں کے بیانات قلمبند کیے ہيں۔ کمیشن کے سامنے سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ، بی جے پی کے رہنما ایل کے اڈوانی ، کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی اور سابق وزیر اعلی ملائم سنگھ یادو بھی پیش ہوئے تھے۔ | اسی بارے میں بابری مسجد، انہدام کے تیرہ سال06 December, 2005 | انڈیا بابری مسجد:’مقدمہ رائے بریلی میں ہی‘22 March, 2007 | انڈیا ’راہل بیان مذہبی جذبات کی توہین‘20 March, 2007 | انڈیا بابری مسجد کا انہدام06 December, 2004 | انڈیا ’کانگریس کو پتہ تھا بابری مسجد کب گرے گی‘01 November, 2005 | انڈیا بابری مسجدکی برسی پر خاموشی06 December, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||