BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 August, 2007, 09:21 GMT 14:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان پر حملے کی عرضی، مفت ہنی مون

گجرات ہائی کورٹ
جج نے درخواست گزار کو پندرہ ہزار روپے جرمانے کیا ہے
پاکستان پر حملے کی پٹیشن

گجرات میں ایک وکیل نےہا ئی کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی داخل کی جس میں عدالت سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وہ مرکزی حکومت کو پاکستان پر حملہ کرنے کی ہدایت جاری کرے ۔
وکیل نے اپنی عرضی میں دلیل دی تھی کہ اگر ہندوستان میں دہشت گردانہ حملوں کے لیے پاکستان ذمہ دار ہے تو جس طرح گیارہ ستمبر کے حملے کے بعد امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تھا اسی طرح ہندوستان کو بھی پاکستان پر حملہ کرنا چاہیے۔

گجرات ہائی کورٹ نے اس پٹیشن کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ کہہ کر ناصرف اسے مسترد کر دیا بلکہ عرضی گزار پر پندرہ ہزار روپے کا جرمانہ بھی عا ئد کیا۔

وزیروں کے لیے غیر ملکی دورے اب مشکل

مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے وزراء اور سرکاری اہلکاروں کو اگر غیر ممالک کے دورے پر جانا ہے تو انہيں وزارت خارجہ کا ایک لمبا چوڑا سوالنامہ بھرنا ہوگا۔

غیر ملکی دورے کے لیے وزارت خارجہ سے سیاسی منظوری پہلے بھی لازمی تھی لیکن اب جونیا فارم ہے اس میں غیر ممالک جانے والے وفد کے لیڈر کا نام، مقصد، کس کی دعوت پر جارہے ہيں اور کیا اس ملک کے ہندوستانی سفارتخانے سے صلاح و مشورہ کیا گيا ہے یا نہيں؟ ان سبھی سوالات کی تفصیل لکھنی ہوگي۔ اگر غیر ممالک میں کوئي تنظیم یا گروپ قیام و طعام کا انتظام کررہا ہے تو اس کے لیے وزارت داخلہ سے بھی منظوری لینی ہوگي۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہےکہ اگر یہ سبھی تفصیلات فراہم کی گئیں تو دورے کی منظوری ایک ہفتے کے اندر مل جائے گي۔

بینگلور اور ممبئی کے یہ مہنگے ہوٹل

بینگلور، ممبئی اور دلی کے فائیو سٹار ہوٹلوں کے کمروں کے کرائے دنیا میں سب سے زیادہ ہیں۔ سیاحت سے متعلق ’انڈس ویو ایڈوائزر کے ذریعے کرائے گئے ایک جائزے کے مطابق بینگلور میں ایک کمرے کا ایک رات کا کرایہ اوسط پانچ سو ڈالر یا اس سے زیادہ ہے۔ ممبئی میں اوسط چار سو ڈالر اور دلی میں ساڑھے تین سو ڈالر ہے۔

ہوٹل
ممبئی میں اوسطاً چار سو ڈالر میں ہوٹل میں کمرہ ملتا ہے

مہنگا کرایہ ہونے کا کچھ تو سبب بڑھتی ہوئي سیاحت اور معیشت ہے لیکن اس کا بنیادی سبب ہوٹلوں کی کمی ہے۔

ایوانِ صنعت اور تجارت کے مطالعے کے مطابق ہندوستان میں مجموعی طور پر ایک لاکھ پانچ ہزار ہوٹل رومز یا کمرے ہیں جبکہ اکیلے چین کے شہر شنگھائی میں ایک لاکھ پینتیس ہزار کمرے ہیں۔ چین میں ہندوستان سے دس گنا اور امریکہ میں چالیس گنا زيادہ ہوٹل ہیں۔

یورپ میں ہندوستانیوں کی مانگ

یورپ میں بہتر زندگی کے معیار اور آبادی کے ایک بڑے حصے کے بڑھاپے کی طرف جانے سے باصلاحیت افرادی قوت کی زبردست کمی پیدا ہورہی ہے اور اب وہ ہندوستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

ہندوستان کی حکومت نے با ہنر پیشہ وروں کے مائیگریشن کے لیے گزشتہ مہینوں میں بلجیئم، پولینڈ، سویڈن اور فرانس سے بات چيت کی ہے۔

گزشتہ ہفتے غیر مقیم ہندوستانیوں کے امور کی وزارت نے یورپی یونین کے ممالک میں پیشہ وروں کے قانونی امیگریشن کے لیے انٹر نیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن سے ایک مفاہمت کی ہے۔ یہ تنظیم جلد ہی جرمنی، برطانیہ، اٹلی، سپین اور آئرلینڈ میں تجرے کے طور پر ان کی ضروریات کا جائزہ لے گی اور ان کے مطابق ہندوستانی پیشہ وروں کو تربیت دی گی۔

آئی ٹی سیکٹر پچاس بلین کی صنعت

اب سے کوئی پانچ برس قبل جب اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے کہا تھا کہ ائی ٹی سیکٹر کو سن دو ہزار دس تک پچاس بلین ڈالر کی صنعت تک پہنچانا ہے تو اس وقت بیشتر تجزیہ کاروں نے اسے ایک سیاسی رہنما کی مبالغہ آرائی قرار دیا تھا۔

نو بیاہتا جوڑے
اس سکیم سے بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے میں مدد ملے گی

’ڈیٹا کوئسٹ‘ کے سالانہ جائزے کے مطابق گزشتہ مالی برس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت پچاس بلین کی مالیت پار کر گئی۔

گزشتہ برس آئی ٹی اور اس سے متعلق سروسز کی برآمدات کی مالیت پندرہ سو سینتیس ارب روپے سے زیادہ تھی جو مجموعی برآمدات کی آمدنی کا نصف سے زيادہ حصہ ہے۔

جائزے کے مطابق آئی ٹی صنعت تیس فیصد کی سالانہ شرح سے آگے بڑھ رہی ہے۔

پیدائش میں تاخیر پر ہنی مون فری

پہلا بچہ شادی کے دو برس بعد پیدا کریں تو دوسرا ہنی مون منانے کے حکومت کی طرف سے سات ہزار روپے مفت ملیں گے ۔

مہاراشٹر کے ستارہ ضلع میں صحتِ عامہ کا محکمہ ضلع میں آبادی پر قابو پانے کے لیے 15 اگست سے اس ’ہنی مون پیکیج‘ کی اسکیم شروع کر رہا ہے۔ یہ سکیم بنیادی طور پرغریب گھروں کے لیے ہے ۔ اس کے تحت اگر نو شادی شدہ جوڑا پہلا بچہ دو سال بعد پیدا کرنے کا فیصلہ کرے تو پانچ ہزار روپے اور اگر اس میں مزید ایک سال کا اضافہ کر دے تو سات ہزار روپے ملیں گے۔

ضلعی انتظامیہ کا اندازہ ہے کہ اگر بیس فی صد نوشادی شدہ جوڑوں نے بھی اس سکیم کو قبول کیا تو کم ازکم پانچ ہزار بچے تاخیر سے پیدا ہوں گے۔

ضلع میں ہر برس پچیس ہزار جوڑے شادیاں کرتے ہیں اور انتظامیہ کے مطابق تقریباً پچاسی فی صد خواتین شادی کے پہلے برس ہی حاملہ ہو جاتی ہیں۔

لالودلی ڈائری
لالو کاہیلی کاپٹر سڑک پر معاملہ عدالت میں
محمد حنیفدلی ڈائری
حنیف کی رہائی، دلی کا گینگ اور موت کا انتظار
نریندر مودیدلی ڈائری
فوجی اڈے، شجرکاری اور ٹیکس کا شکنجہ
نریندر مودیدلی ڈائری
صدر کی پارٹی، مودی پر تنقید اور پاسپورٹ بابا
صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام (فائل فوٹو)دلی ڈائری
صدر کی سادگی، مہنگی کاریں اور مجاہدین آزادی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد