BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 July, 2007, 08:09 GMT 13:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی ڈائری: صدر کی پارٹی اور پاسپورٹ بابا

فائل فوٹو
صدر نے بائیس جولائی کو اہم شخصیات کو الوداعی دعوت دی ہے
صدر کی الوداعی پارٹی
بھارتی صدر اے پی جے عبدالکلام نے اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے سے قبل اکیس جولائی کو راشٹرپتی بھون کے سارے عملے کا شکریہ ادا کرنے لیے انہیں ٹی پارٹی پر بلایا ہے ۔

ماضی میں عام طور پر صدر الوداعی پارٹی میں صرف سینیئر اہلکاروں کو بلایا کرتے تھے لیکن صدر کلام نے روایت سے انحراف کرتے ہوئے نہ صرف عملے کے تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد بلکہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی دعوت دی ہے۔

صدر نے بائیس جولائی کو اہم شخصیات کو الوداعی دعوت دی ہے جبکہ اپنی صدارت کے آخری دن 24 جولائی کو انہوں نے نئے منتخب ہونے والے صدر کے اعزاز میں وزراء اور دیگر اہم سیاسی شخصیات کو ایوان صدر میں مدعو کیا ہے۔

’را‘ کتاب پر پابندی کے حق میں
ہندوستان کی خارجہ خفیہ ایجنسی’را‘ پر لکھی جانے والی کتاب ’انڈیاز ایکسٹرنل انٹیلی جنس۔ سیکرٹس آف ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ‘ بظاہر ’را‘ کو پسند نہیں آئی ہے ۔ اس کتاب میں خفیہ ادارے کے اندرونی طریقہ کار پر نکتہ چینی کی گئی ہے اور یہ دلیل دی گئی ہے کہ بہتر جوابدہی کے لیے اس ادارے کو پارلیمانی؛ کمیٹی کی نگرانی میں لایا جائے۔

اطلاعات ہیں کہ را نے حکومت سے اس کتاب کی مزید اشاعت اور موجودہ ایڈیشن پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ حال ہی میں ’را‘ کے سربراہ نے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن اور کابینہ سیکرٹری سے ملاقات کی جس میں انہوں نے کتاب پر پابندی لگانے کی دلیل بھی پیش کی۔ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں بعض اہم باتیں افشاء کی گئی ہیں جس سے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن کتاب کے مصنف میجر جنرل وی کے سنگھ کا کہنا ہے کہ ’را‘ کو پارلیمانی جوابدہی کے دائرے میں لانا ضروری ہے ۔

چھ ہزار سے زائد ہندوستانی غیر ملکی جیلوں میں

پاکستان میں 655 بھارتی مختلف الزامات کے تحت قید ہیں
ہندوستان کے چھ ہزار سے زیادہ شہری اس وقت مختلف الزامات اور جرائم میں غیر ممالک کی جیلوں میں قید ہیں۔ وزارتِ خارجہ کی اطلاعات کے مطابق ان میں تقریباً دو ہز ار قیدی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں ہیں۔ ان دو ممالک میں ساٹھ لاکھ سے زیادہ ہندوستانی آباد ہیں اور قیدیوں کی تعداد اسی مناسبت سے یہاں زیادہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں 893، سنگاپور میں 791، پاکستان میں 655 اور ملائیشیا میں545 بھارتی قید ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کےعلاوہ دیگر ملکوں میں بیشتر افراد امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر قید کیے گئے ہیں۔

جمشید پور کے’پاسپورٹ بابا‘
بیرونِ ملک ملازمت اب بھی ہندوستان میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ غیر ممالک جانے کے لیے کتنے لوگ تو اب بھی کچھ بھی کرگزرنے کے لیے تیار ہیں لیکن صورتحال کی مطابقت سے گزشتہ دنوں جھارکھنڈ میں ایک پیر بابا کی درگاہ سامنے آئی ہے جہاں سجادہ نشینوں کے مطابق غیر ممالک میں ملازمتیں ملنے کی منتیں پوری ہوتی ہیں۔

بیرونِ ملک ملازمت اب بھی بہتر مستقبل کی ضمانت سمجھی جاتی ہے

جمشید پور میں واقع حضرت مسکین شاہ کی درگاہ ہر جمعرات کو غیر ممالک جانے کی تمنا لیے سینکڑوں نوجوانوں سے بھری رہتی ہے۔ مرادیں مانگنے والے درگاہ میں واقع ایک پرانے پیپل کے درخت سے اپنا پاسپورٹ باندھ کر لٹکا دیتے ہیں۔ مریدوں کو پورا بھروسہ ہے کہ ان کی مراد پوری ہوگی۔

درگاہ کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ یہاں ہر فرقے اور مذہب کے لوگ اپنے پاسپورٹ لیے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ حضرت مسکین شاہ کا مزار اب ’پاسپورٹ بابا‘ کے نام سے مشہور ہو گئی ہے اور یہاں جھارکھنڈ کے علاوہ بہار، بنگال، اڑیسہ، یو پی اور یہاں تک کہ پنجاب سے بھی لوگ آتے ہیں۔ لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر درگاہ کے خادموں نے ڈاک کے ذریعے پاسپورٹ کی فوٹو کاپی بھی قبول کرنی شروع کر دی ہے۔

اب نریندر مودی، جناح کےتنازعے میں

گجراتی رہنماؤں نے سرکاری رسالے میں شائع اس مضمون کے حوالے سے مودی پر سخت نکتہ چينی کی ہے
حزبِ اختلاف کے رہنما ایل کے اڈوانی کے بعد اب سخت گیر ہندتوا کے علمبردار گجرات کے وزیرِاعلٰی نریندر مودی پاکستان کے بانی قا‏ئداعظم محمد علی جناح کے تنازعے میں پھنس گئے ہیں۔

گجرات حکومت کے ایک سرکاری رسالے میں جناح پر ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں بانی پاکستان کی کافی ستائش کی گئی۔ یہ مضمون ایک گجراتی کالم نگار نے لکھا ہے اور اس میں قا‏ئد اعظم کو ایک سیکولرسٹ بتایا گيا ہے۔ اس مضمون میں ان کی ہندوؤں سے دوستی کی کئي مثالیں دی گئی ہیں۔

گجرات کی کئي مقامی رہنماؤں نے سرکاری رسالے میں شائع اس مضمون کے حوالے سے مودی پر سخت نکتہ چينی کی ہے اور جاننا چاہا ہے کہ کیا وہ جناح کے ’دو قومی نظریے‘ سے متفق ہیں۔اطلاعات ہیں کہ آر ایس ایس کو بھی اس مضمون پر اعتراض ہے۔

دور درشن نہ دیکھنے کی بھی فیس
ہندوستان میں انیس سو نوے کے عشرے کے اوائل سے پرائیوٹ ٹی وی چینلوں کے انقلاب کے بعد گزشتہ سترہ برسوں میں ناظرین اپنے پرانے سرکاری چینل دور درشن کو بھول چکے ہيں۔ دور درشن اب بیشتر وہی لوگ دیکھتے ہيں جہاں کسی وجہ سے دوسرے چینل دستیاب نہیں ہیں یا پھر وہ لوگ دیکھتے ہیں جو کیبل ٹی وی کی فیس ادا کرنے کی سکت نہيں رکھتے۔

سترہ برسوں میں ناظرین پرانے سرکاری چینل دور درشن کو بھول چکے ہيں

لیکن حکومت اب ایک تجویز پر غور کررہی ہے جس کے تحت ٹی وی ناظرین کو ہر ٹی وی پر ایک بڑی رقم سالانہ فیس کے طور پر دوردرشن کو ادا کرنی ہوگي۔ اب آپ دور درشن دیکھیے یا نہ دیکھیے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کو چلانے کے لیے تو فیس ادا کرنی ہوگي۔ یہ فیس ٹی وی اور ریڈيو کی خریداری کے ساتھ لائسنس فیس کے طور پر جلد ہی شروع ہوجائے گي۔

مسلمانوں کے لیے معلومات مرکز
راجستھان میں مسلم نوجوانوں کو تعلیم ، صحت اور ملازمت کے سلسلے میں معلومات فراہم کرنے اور انہيں مشورے دینے کے لیے اپنی نوعیت کا پہلا مرکز کھولا جا رہا ہے۔ پروگریسیو مسلم سرکل نامی ایک تنظیم کے ذریعے قائم کیے گئے اس مرکز میں کمپیوٹر اور ماہرین کے ذریعے تمام معلومات مسلم نوجوانوں کو دی جائیں گی۔ مرکز کے ماہرین نوجوانوں کو ملازمت کے انتخاب، تربیت اور روزگار شروع کرنے کی تربیت دیں گے اور بینک سے قرض کے حصول میں بھی مدد کريں گے۔ مرکز کاکہنا ہےکہ بہت سی سہولیات موجود ہيں لیکن معلومات کی کمی کے سبب مسلم ان سے استفادہ نہيں کرپاتے ہیں۔

صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام (فائل فوٹو)دلی ڈائری
صدر کی سادگی، مہنگی کاریں اور مجاہدین آزادی
دلی ڈائری
لڑکیاں نمبر لے گئیں، خفیہ ادارے کو دھچکہ
دلی ڈائری
لوڈشیڈنگ، لاپتہ غیرملکی،جج کا تبادلہ
دلی ڈائری
لز اور نائر کی شادی، چاند کا مشن، افراط زر
دلی ڈائری
کاروبار: انڈیا بدترین ملکوں میں: رپورٹ
افضلدلی ڈائری
افضٰل کی حمایت اورہیما کا بیان پارٹی کی مصیبت
دلی ڈائری
افضل گورو کی رحم کی اپیل، حج سبسڈی تنازعہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد