دلی ڈائری: صدر کی پارٹی اور پاسپورٹ بابا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر کی الوداعی پارٹی بھارتی صدر اے پی جے عبدالکلام نے اپنے عہدے کی مدت پوری ہونے سے قبل اکیس جولائی کو راشٹرپتی بھون کے سارے عملے کا شکریہ ادا کرنے لیے انہیں ٹی پارٹی پر بلایا ہے ۔ ماضی میں عام طور پر صدر الوداعی پارٹی میں صرف سینیئر اہلکاروں کو بلایا کرتے تھے لیکن صدر کلام نے روایت سے انحراف کرتے ہوئے نہ صرف عملے کے تقریباً ڈیڑھ ہزار افراد بلکہ ان کے اہلِ خانہ کو بھی دعوت دی ہے۔ صدر نے بائیس جولائی کو اہم شخصیات کو الوداعی دعوت دی ہے جبکہ اپنی صدارت کے آخری دن 24 جولائی کو انہوں نے نئے منتخب ہونے والے صدر کے اعزاز میں وزراء اور دیگر اہم سیاسی شخصیات کو ایوان صدر میں مدعو کیا ہے۔ ’را‘ کتاب پر پابندی کے حق میں اطلاعات ہیں کہ را نے حکومت سے اس کتاب کی مزید اشاعت اور موجودہ ایڈیشن پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ حال ہی میں ’را‘ کے سربراہ نے قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن اور کابینہ سیکرٹری سے ملاقات کی جس میں انہوں نے کتاب پر پابندی لگانے کی دلیل بھی پیش کی۔ان کا کہنا ہے کہ اس کتاب میں بعض اہم باتیں افشاء کی گئی ہیں جس سے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے لیکن کتاب کے مصنف میجر جنرل وی کے سنگھ کا کہنا ہے کہ ’را‘ کو پارلیمانی جوابدہی کے دائرے میں لانا ضروری ہے ۔ چھ ہزار سے زائد ہندوستانی غیر ملکی جیلوں میں
جمشید پور کے’پاسپورٹ بابا‘
جمشید پور میں واقع حضرت مسکین شاہ کی درگاہ ہر جمعرات کو غیر ممالک جانے کی تمنا لیے سینکڑوں نوجوانوں سے بھری رہتی ہے۔ مرادیں مانگنے والے درگاہ میں واقع ایک پرانے پیپل کے درخت سے اپنا پاسپورٹ باندھ کر لٹکا دیتے ہیں۔ مریدوں کو پورا بھروسہ ہے کہ ان کی مراد پوری ہوگی۔ درگاہ کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ یہاں ہر فرقے اور مذہب کے لوگ اپنے پاسپورٹ لیے قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ حضرت مسکین شاہ کا مزار اب ’پاسپورٹ بابا‘ کے نام سے مشہور ہو گئی ہے اور یہاں جھارکھنڈ کے علاوہ بہار، بنگال، اڑیسہ، یو پی اور یہاں تک کہ پنجاب سے بھی لوگ آتے ہیں۔ لوگوں کی بھیڑ دیکھ کر درگاہ کے خادموں نے ڈاک کے ذریعے پاسپورٹ کی فوٹو کاپی بھی قبول کرنی شروع کر دی ہے۔ اب نریندر مودی، جناح کےتنازعے میں
گجرات حکومت کے ایک سرکاری رسالے میں جناح پر ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں بانی پاکستان کی کافی ستائش کی گئی۔ یہ مضمون ایک گجراتی کالم نگار نے لکھا ہے اور اس میں قائد اعظم کو ایک سیکولرسٹ بتایا گيا ہے۔ اس مضمون میں ان کی ہندوؤں سے دوستی کی کئي مثالیں دی گئی ہیں۔ گجرات کی کئي مقامی رہنماؤں نے سرکاری رسالے میں شائع اس مضمون کے حوالے سے مودی پر سخت نکتہ چينی کی ہے اور جاننا چاہا ہے کہ کیا وہ جناح کے ’دو قومی نظریے‘ سے متفق ہیں۔اطلاعات ہیں کہ آر ایس ایس کو بھی اس مضمون پر اعتراض ہے۔ دور درشن نہ دیکھنے کی بھی فیس
لیکن حکومت اب ایک تجویز پر غور کررہی ہے جس کے تحت ٹی وی ناظرین کو ہر ٹی وی پر ایک بڑی رقم سالانہ فیس کے طور پر دوردرشن کو ادا کرنی ہوگي۔ اب آپ دور درشن دیکھیے یا نہ دیکھیے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو کو چلانے کے لیے تو فیس ادا کرنی ہوگي۔ یہ فیس ٹی وی اور ریڈيو کی خریداری کے ساتھ لائسنس فیس کے طور پر جلد ہی شروع ہوجائے گي۔ مسلمانوں کے لیے معلومات مرکز |
اسی بارے میں دلی ڈائری: کروڑ پتی مایاوتی، پلاسٹک کے نوٹ01 July, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کون، بدلتا وقت اور مایاوتی03 June, 2007 | انڈیا دلی ڈائری:عدلیہ، بالی ووڈ اور عراق27 May, 2007 | انڈیا دلی ڈائری:’ملا کی دوڑ اسمبلی تک‘15 April, 2007 | انڈیا دلی: انتخابات میں کانگریس کی ہار07 April, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: معیشت کا ایک رخ یہ بھی18 February, 2007 | انڈیا گوا خطرے میں، دلی کے چور اور برہنگی فحاشی نہیں17 December, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||