دلی ڈائری: کروڑ پتی مایاوتی، پلاسٹک کے نوٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’را‘ اور انٹیلیجنس اداروں پر انگلیاں اٹھنے لگیں ہندوستان کی خارجی خفیہ سروس ریسرچ اینڈ اینالسس ونگ ’را‘ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ہمیشہ راز میں رہی ہے۔ یہ کیا کر رہی ہے، کتنی کامیاب ہے، اربوں روپے صحیح جگہ پر خرچ کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔ را اور انٹیلیجنس کے ادارے ان سوالات سے بالاتر رہے ہیں۔ لیکن حال میں ان اداروں میں اندورنی گڑبڑ، جاسوسوں کے فرار ہونے، کئی اہلکاروں کی گرفتاری اور کئی دیگر معاملات کے سامنے آنے کے بعد ان اداروں کی جوابدہی کے بارے میں سوال کیے جانے لگے ہیں۔’را‘ کے ایک سابق اہلکار میجر جنرل وی کے سنگھ کی’را‘ پر ایک کتاب آ رہی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ کہ اگر دفاعی افواج قانونی جوابدہی اور پارلیمانی جائزے کے دائرے میں آتی ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ انٹیلیجنس سروسز کو پارلیمانی جائزے اور جانچ سے مستثنی رکھا جائے۔ کامن ویلتھ گیمز کے لیے انٹر پول کی مدد ہندوستان دوہزار دس کے کامن ویلتھ گیمز میں کھلاڑیوں اور تماشائیوں کی حفاظت کے لیے برطانیہ کی سکاٹ لینڈ یارڈ اور بین الاقوامی پولیس انٹر پول سے مدد لے گا۔ حکومت جلد ہی لندن میں میٹرو پولیٹن پولیس اور انٹر پول سے رابطہ قائم کرے گی اور ان سے مدد کی درخواست کرے گی۔ ان سے حاصل کیے گئے تجربوں کو دو ہزار آٹھ میں پونا میں کامن ساؤتھ یوتھ گیمز میں استعمال کیا جائے گا۔ دو ہزار دس کے کامن ویلتھ گیمز میں پچاس ملکوں کے ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد ایتھلیٹ اور اہلکار دلی میں موجود ہوں گے۔
کروڑ پتی مایاوتی اتر پردیش کی وزیراعلیٰ مایا وتی کی دولت اور اثاثوں کی مالیت باون کروڑ روپے ہے۔ مایاوتی کی جماعت اترپردیش میں زبردست اکثریت کے بعد اقتدار میں آئی ہے تاہم انہوں نے ذاتی طور پر انتخاب نہیں لڑا تھا۔ تاہم وزیراعلیٰ کے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے انہوں نے قانون ساز کونسل کی رکنیت کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کیے۔ ضابطے کے تحت اپنے اثاثوں کی تفصیل دی ہے۔ ان کے مطابق ان کے پا س پچاس لاکھ روپے نقد، پچاس لاکھ کے زیورات، پچاس لاکھ کے کے ہیرے، پندرہ لاکھ کی پینٹگز۔ سوا لاکھ کا ایک چاندی کا ڈنر سیٹ، دلی میں اٹھارہ کروڑ روپے کا ایک گھر، لکھنؤ میں ستانوے لاکھ کا ایک مکان اور دلی اور یوپی میں انیس کروڑ روپے مالیت کی دکانیں ہیں۔ اب بھلا کوئی ان سے پوچھے کہ دلی کی ایک سکول ٹیچر سے سیاست میں آنے والی ایک سیدھی سادھی خاتون کروڑ پتی کیسے بن گئیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ سارے پیسے ان کی پارٹی کے کارکنوں نے دیے ہیں۔ جے این یو کا روایتی تہوار جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) اپنے اچھے معیار اور سیاسی سوجھ بوجھ کے لیے ہی نہیں، ہڑتال اور ٹکراؤ کے لیے بھی جانی جاتی ہے۔ جے این یو کی یہ روایت رہی ہے کہ ہر سال کسی نہ کسی معاملے پر طلبہ کا انتظامیہ سے ٹکراؤ ہوتا ہے۔ انتظامیہ بعض طلبہ کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ طلبہ بھوک ہڑتال کرتے ہیں اور اس کے بعد غیر معینہ مدت کی ہڑتال ہوتی ہے۔ نیا تعلیمی سال بھی ہنگامے اور احتجاج سے شروع ہوا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یونیورسٹی نے رجسٹرار کے ساتھ بدسلوکی کے الزام پر گیارہ طلبہ کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس سال کے اوائل میں مبینہ طور پر طلبہ کے ایک ہجوم نے ایک تحریک کے دوران رجسٹرار کو ان کے دفتر کے باہر ان کی کار میں محصور کر لیا تھا۔ انہیں کار سے چھ گھنٹے سے زيادہ دیر تک باہر نکلنے نہیں دیا تھا۔ طلبہ کے اس قدم کی ہر حلقے میں شدید مذمت ہوئی تھی۔
نشے کے عادی یہ پولیس والے پنجاب پولیس کے ایک جائزے کے مطابق امرتسر، ترن تارن اور گرداسپور کے سرحدی اضلاع میں باون فی صد پولیس اہلکار نشے کے عادی ہیں۔ان میں سے بیشتر شراب کی عادت کا شکار ہیں تو کچھ ایسے ہیں جو افیم کے عادی ہو گئے ہیں۔ ایک چھوٹی تعداد ہیروئن اور گانجے کی طرف بھی مائل ہو رہی ہے ۔ پولیس کا محکمہ نشے کی اس صورتحال کا مزید گہرائی سے جا ئزہ لے رہا ہے تاکہ وہ اصلاحی اقدامات کر سکے لیکن اعلیٰ افسروں کا کہنا ہے کہ یہ صورت حال پنجاب کی عمومی صورتحال کی عکاس ہے جہاں نشہ عام ہوتا جا رہا ہے۔ اب پلاسٹک کے نوٹ حکومت کاغذ کے بجائے اب پلاسٹک کے کرنسی نوٹ چلانے جا رہی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا جلد ہی ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کر رہا ہے۔ اس پروجیکٹ کے تحت بینک دس روپے کے دس لاکھ پلاسٹک کے نوٹ جاری کرے گا۔ پلاسٹک کے نوٹ کاغذ کے مقابلے میں زیادہ دنوں تک چلتے ہیں اور ان میں نمی جذب نہیں ہو پاتی جس سے یہ خرا ب نہیں ہوتے۔ اس طرح کے نوٹ پہلے ہی آسٹریلیا، نیو زی لینڈ، رومانیہ، برازیل، خین، میکسیکو اور سنگاپورمیں چلن میں ہیں۔ ہندوستان میں تجربے کے طور پر نئے نوٹ جلد ہی مارکیٹ میں آ جائیں گے۔ اس طرح کے نوٹوں کے جعلی نوٹ بنانا بھی مشکل ہے۔ |
اسی بارے میں مہنگائی، کرائے پر بیوی، نہرو پر مضمون اور کتے25 June, 2006 | انڈیا شہر ممنوعہ، ہاسٹل میں جرائم، ایڈز کیلیئے ٹماٹر02 July, 2006 | انڈیا محمد افضل کی پھانسی کے دن قریب15 October, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا انسانی سمگلنگ،ایڈز ٹسیٹ، مطمئن جنسی زندگی22 April, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کون، بدلتا وقت اور مایاوتی03 June, 2007 | انڈیا دفاعی نجکاری، گرمی، مہنگی کاریں10 June, 2007 | انڈیا تعلیم، جدید تھانے اور سٹیشن17 June, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||