شکیل اختر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی |  |
 | | | وزارتِ دفاع نے پانچ سے آٹھ بلین ڈالر کی خریداری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے |
وزراتِ دفاع میں نجکاری ہندوستان میں اقتصادی اصلاحات کے تحت بیشتر شعبوں میں نجکاری کی جا رہی ہے اور اب محکمۂ دفاع میں بھی بڑے پیمانے پر نجی کمپنیوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔ وزارتِ دفاع نے آئندہ چند برسوں میں پانچ سے آٹھ بلین ڈالر کی خریداری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اطلاعات ہیں کہ اتنے بڑي مالیت کے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے ٹاٹا، مہندرا، لارسن،گودریج اور کئی دیگر کمپنیاں دفاعی ذیلی کمپنیاں تشکیل دے رہی ہیں۔ اسرائیلی ماہرین کشمیر میں اسرائیلی فوج کے ماہرین کا ایک وفد آئندہ دنوں میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر جائے گا جہاں وہ دراندازی اور شدت پسند سرگرمیوں کے حوالے سے ہندوستان کے فوجی اور انٹیلیجنس اہلکاروں کو مشورے دے گا۔ حالیہ برسوں میں اسرائیلی دفاع کے معاملے میں ہندوستان کا ایک بڑا ساتھی بن کر ابھر رہا ہے اور کشمیر میں شدت پسند سرگرمیوں کے سلسلے میں ہندوستان کو اسرائیل سے مسلح تعاون مل بھی رہا ہے۔ بحریہ کی جدیدکاری
 | | | بھارتی بحریہ چھ جنگی بحری جہاز غیر ممالک سے خریدے گی | ہندوستانی بحریہ میں آئندہ دو تین برسوں میں چالیس نئے جنگی جہاز شامل کیے جائے گیے۔ بحریہ میں اس وقت ایک سو چھتیس جنگی جہاز ہیں۔ بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سریش مہتہ کا کہنا ہے کہ تینتیس نئے بحری جہازوں کا آرڈر پہلے ہی دیا جا چکا ہے اور انہیں ہندوستانی کمپنیاں تیار کریں گی۔ ان جہازوں کی خریداری کے لیے فنڈ بھی جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ چھ جنگی بحری جہاز غیر ممالک سے خریدے جائیں گے۔ روس سے خریدا گیا’ایڈمرل گور شکوف‘ طیارہ بردار جدید جہاز بھی اس سال کے آخر تک ہندوستان کے بحری بیڑے میں شامل کیے جانے کی توقع ہے۔یوپی میں خاتون مجسٹریٹ اتر پردیش جیسی پسماندہ ریاست میں خاتون آئی ایس افسروں کی تقرری عموماً معمولی نوعیت کے عہدوں کے لیے ہی کی جاتی رہی ہے اور بہت کم خواتین ایسی ہیں جنہیں ضلع مجسٹریٹ بنایا جاتا تھا۔ تاہم نئی وزیرِاعلی مایا وتی نے ریاست میں ایک ہی بار میں دس اضلاع کے مجسٹریٹ کے عہدے پر خواتین کو تعینات کیا ہے۔ اتر پردیش میں ابھی تک ایک وقت میں عموماً چار سے زیادہ خواتین مجسٹریٹ کبھی نہیں رہی ہیں۔ گرمی کی شدت  | | | موسم سے تنگ آئے بچے گرمی کی شدت کم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں | گرمی آتے ہی دلّی والوں کی پریشانی دوچند ہو جاتی ہے۔دارالحکومت کی آبادی میں ہر برس نقل مکانی کے سبب زبردست اضافہ ہوتا ہے اور اسی وجہ سے بجلی اور پانی کی طلب میں بھی رسد سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے۔دلی کی بجلی اور پانی کی بیشتر ضرورت دوسری ریاستوں سے پوری ہوتی ہیں۔گرمی بڑھتے ہی بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی شروع ہو جاتی ہے اور اگر اترپردیش کی حکومت مہربان نہ ہو تو اکثر علاقوں میں پانی کی بھی قلت ہو جاتی ہے۔ دلی میں درجہ حرارت پہلے ہی پینتالیس ڈگری تک پہنچ چکا ہے اور محکمۂ موسمیات کی پیش گوئیوں کو اگر مان لیا جائے تو اس بار گرمی کی شدت انچاس ڈگری تک پہنچ سکتی ہے۔یہ امیروں کی کاریں
 | | | ہندوستان میں مہنگی کاروں کی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے | ہندوستان میں عام مسافر کاروں کی فروخت میں نو سے دس فیصد کی شرح سے ترقی ہو رہی ہے لیکن ایک کروڑ روپے سے زيادہ مالیت والی کاروں کی مانگ میں سو فیصد سے بھی زیادہ شرح سے اضافہ ہو رہا ہے۔ نسان، سکوڈا، مرسیڈیز اور رولز رائس جیسی لگژری کاریں بنانے والی کئی کمپنیاں تیزی سے بڑھتی ہوئی مانگ کو دیکھتے ہوئے کاریں برآمد کرنے کی بجائے اب ہندوستان میں ہی کاریں بنانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔ |