BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 22 July, 2007, 09:59 GMT 14:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی ڈائری:فوجی اڈے اور ٹیکس کا شکنجہ

فوجی اڈے (فائل فوٹو)
جنگی طیارے بھی اس اڈے پر بھیجے جانے کا پروگرام ہے
غیرممالک میں ہندوستانی فوجی اڈے
ا طلاعات کے مطابق ہندوستان نے حال ہی میں تاجکستان میں اپنا ایک فضائی اڈہ قائم کیا ہے جو دارالحکومت دوشنبہ کے نواح میں واقع ہے۔

تاہم حکومت اس خبر کی تردید کر رہی ہے اور حکام کا کہنا ہےکہ بھارتی فوج صرف تاجک پائلٹوں کو وہاں تربیت دے رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہندوستان نےگزشتہ ہفتوں میں اس فضائی اڈے پر ایم آئی۔17ہیلی کاپٹر بھی بھیج دیے ہيں اور آنے والے دنوں میں مگ 27 جنگی طیارے بھی اس اڈے پر بھیجے جانے کا پروگرام ہے۔ یہ فضائی اڈہ روس اور تاجکستان کے ساتھ ایک مشترکہ معاہدے کے بعد قائم ہوا ہے اور اس کی کمان اور کنٹرول باری باری تینوں ملکوں کے پاس رہے گا۔ اس اڈے پر ہندوستان کے جنگی طیاروں اور جنگی ہیلی کاپٹروں کی موجودگی سے ہندوستان طیاروں کے اغواء اور دوسرے ایمرجنسی حالات میں تیزی سے فضائی کارروائی کرنے کا اہل ہو جائےگا۔

گزشتہ دنوں ہندوستان کی بحریہ نے بھی افریقہ کے سمندر میں مڈغاسکر کے جزیرے پر ایک مقام پٹے پر حاصل کیا ہے جہاں وہ’مانیٹرنگ سٹیشن‘ قائم کر رہی ہے۔ اس سٹیشن سے اس خطے میں دوسرے ملکوں کی بحریہ اور تجارتی جہازوں پر نظر رکھی جا سکے گی۔

سیکولر عدلیہ اور مولویوں کی شرعی عدالتیں

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ عدالتی فیصلوں پر نظر ثانی چاہتا ہے۔
حالیہ ماہ میں ہندوستان کی سپریم کورٹ نے طلاق کے بعض معاملات میں اسلام میں خواتین کے حقوق کے پیش نظر نان و نفقہ کے سلسلے میں بعض اہم فیصلے کیے ہیں۔ تاہم مسلم مولویوں، مذہبی رہنماؤں اور سیاسی و مذہبی تنظیموں کا نمائندہ ادارہ، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والے ان عدالتی فیصلوں پر نظر ثانی چاہتا ہے۔

مسلم پرسنل لاء بورڈ یہ بھی چاہتا ہے کہ مسلمان شادی اور طلاق جیسے معاملے میں سرکاری عدالتوں کی بجائے شرعی عدالت سے رجوع کریں۔ پرسنل لاء بورڈ ایک عرصے سے ملک میں ایک متوازی عدالت قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے لیکن مولویوں میں شدید اختلافات اور انتشار کے سبب وہ اپنے اس مقصدمیں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔

بے ایمانوں پر ٹیکس کا شکنجہ

محکمہ انکم ٹیکس ایک نئے نظام پر کام کر رہا ہے
ہندوستان کی بیشتر ریاستوں میں ویٹ(ویلو ایڈڈ ٹیکس) کے نفاذ کے ساتھ جس طرح بیشتر دکاندار رفتہ رفتہ سیلز ٹیکس کی دائرے میں آنے لگے ہیں اسی طرح اب انکم ٹیکس کا دائرہ بھی بڑھتا جا رہا ہے۔

محکمہ انکم ٹیکس ان دنوں ایک ایسے نظام پر کام کر رہا ہے جس کے تحت آنے والے دنوں میں انکم ٹیکس کی بے ایمانی کرنے والے بچ نہیں سکیں گے۔ اس کے تحت مشکوک نادہندہ کی آمدورفت، اس کے سماجی تعلقات، لین دین کی تفصیلات اور اس کے قریبی رشتے داروں تک کے لین دین پر نگرانی رکھی جائے گي۔ یہی نہیں مشکوک شخص کی فون پر بات چیت بھی خود کار آلے سے ریکارڈ کی جائے گي۔

شجرکاری کی انوکھی مہم

لاکھوں طلبہ و طالبات اور دیگر شہری اکتیس جولائی کو پودے لگائیں گے
ایک ایسے وقت میں جب انسانی بستیوں کی توسیع کے سبب درخت اور جنگلات کم ہوتے جارہے ہيں اترپردیش کے محکمۂ جنگلات نے شجرکاری کی ایک انوکھی مہم شروع کی ہے۔ شجرکاری کی اس مہم کے تحت اکتیس جولائی کو ریاست کے ستر اضلاع میں تقریباً آٹھ ہزار مقامات پر ایک کروڑ پودے لگائے جائیں گے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس مہم کے لیے حکومت سے ایک پیسہ نہيں لیا گيا ہے۔ شجرکاری کی اس مہم کے لیے ریاست کے سرکاری ملازمین نے اپنی ایک دن کی تنخواہیں وقف کی ہیں، صنعتکاروں نے پیسے دیے ہيں جبکہ کسانوں نے پودوں کی شکل میں مدد کی ہے۔ اس مہم میں لاکھوں طلبہ و طالبات اور دیگر شہری اکتیس جولائی کو پودے لگائیں گے۔ ان پودوں کے درخت بننے تک ان کی موثر دیکھ بھال کی جائے گي۔

ترقی کرنا ہے تو انگریزی پڑھیے

آئندہ چار برس میں پانچ لاکھ نوجوان انگریزی میں مہارت حاصل کریں گے
چند برس قبل کی بات ہے کئی سیاست داں انگریزی کی مخالفت میں دکانوں کے سائن بورڈز پر کالک پوتنے کی مہم چلاتے تھے لیکن آج گنگا الٹی بہہ رہی ہے اور اب رفتہ رفتہ انگریزی کی مخالفت کرنے والی ریاستیں سکولوں میں انگریزی کی تعلیم کو لازمی مضمون بنا رہی ہیں۔

گجرات حکومت نے اپنے طلبہ کے لیے انگریزی بولنے کا خصوصی کورس شروع کیا ہے جس کے تحت آئندہ چار برس میں پانچ لاکھ نوجوان انگریزی میں مہارت حاصل کریں گے۔ راجستھان اور مدھیہ پردیش کے سکولوں میں انگریزی پہلے ہی سے لازمی مضمون ہے اور اب اتراکھنڈ نے بھی اسے لازمی مضمون بنا دیا ہے۔صرف اترپردیش ہی ایک ایسی ریاست ہے جہاں اب تک انگریزی اختیاری مضمون ہے لیکن اس ریاست کا تعلیمی معیار دن بدن گرتا جا رہا ہے اور خدشہ ہے کہ جلد ہی اس کا شمار قومی سطح پر پسماندہ ترین ریاستوں کی فہرست میں ہونے لگے گا۔
`

نریندر مودیدلی ڈائری
صدر کی پارٹی، مودی پر تنقید اور پاسپورٹ بابا
صدر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام (فائل فوٹو)دلی ڈائری
صدر کی سادگی، مہنگی کاریں اور مجاہدین آزادی
دلی ڈائری
لڑکیاں نمبر لے گئیں، خفیہ ادارے کو دھچکہ
دلی ڈائری
لوڈشیڈنگ، لاپتہ غیرملکی،جج کا تبادلہ
دلی ڈائری
لز اور نائر کی شادی، چاند کا مشن، افراط زر
دلی ڈائری
کاروبار: انڈیا بدترین ملکوں میں: رپورٹ
افضلدلی ڈائری
افضٰل کی حمایت اورہیما کا بیان پارٹی کی مصیبت
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد