کیا ہندوستان میں ایسا ممکن ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بنگلور کے ڈاکٹر محمد حنیف دہشت گردی کے شبہے میں تقریباً تین ہفتے تک آسٹریلیا کی پولیس کی تحویل میں رہنے کے بعد بالآخر ہندوستان پہنچ گئے ہیں۔ان کے خلاف جو شکوک تھے وہ درست ثابت نہیں ہوئے۔ ان کی گرفتاری اور رہائی سے ہندوستان میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ اخباروں اور ٹیلی ویژن کے مباحثوں اور تبصروں میں خود سے سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ واقعہ اگر ہندوستان میں ہوا ہوتا تو حنیف کو رہائی ممکن ہو پاتی۔ حقوق انسانی کی تنظیموں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان کے جیلوں میں درجنوں محمد حنیف قید ہیں ان کی کوئی سننے والا نہیں ہوتا، ایک بار پولیس نے اگر کسی پر دہشت گردی کا الزام عائد کردیا تو الزام ہی ثبوت ہوتا ہے۔ موت کا طویل انتظار اورلمبی فہرست پچھلے دنوں ڈاکٹر اے پی جی عبدالکلام نے صدر کے عہدے کی مدت پوری کی۔ انہوں نے صدر کے طور پر سارا کام کاج پورا کرنے کے بعد دفتر سے رخصت لی۔ لیکن اپنی جانشیں محترمہ پرتیبھا پاٹل کے لیے وہ ایک کام چھوڑ گئے۔ صدر کے پاس موت کی سزا پانے والے کم از کم پچاس قیدیوں کی رحم کی درخواستیں ایک عرصے سے پڑی ہوئي ہيں جن پر ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا۔ ان میں پارلیمنٹ پر حملے کے سزا یافتہ محمد افضل گرو کی درخواست بھی شامل ہے۔ سابق صدر نے ان تمام درخواستوں کا فیصلہ نئی صدر پر چھوڑ دیا ہے۔ ان میں راجیو گاندھی کے قاتلوں کا بھی فیصلہ ہونا ہے۔ رحم کی درخواستیں صدر کے پاس آنے کے بعد انہيں صدارتی نوٹ کے ساتھ ریاستی اور مرکزي حکومت کو بھیجا جاتا ہے اور مرکزی حکومت جو رائے دیتی ہے صدر عموماً اسی کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجنے کی تیاری گزشتہ اپریل دلی میں پولیس نے باسٹھ پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان پاکستانی شہریوں کا کہنا تھا کہ انہيں ان کے مذہبی عقائد کے سبب پاکستان میں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ اس لیے انہیں ہندوستان میں سیاسی پناہ دی جائے ۔ان افراد نے اقوام متحدہ سے بھی اپیل کی تھی۔
ان افراد نے احتجاج کے دوران اپنے پاسپورٹ جلا دیے تھے، لیکن ہندوستانی حکام نے انہيں سیاسی پناہ دینے کے بجائے تہاڑ جیل بھیج دیا تھا۔ ان میں متعدد خواتین اور چھوٹے بچے بھی شامل ہیں۔ اطلاعات مل رہی ہيں کہ ان پاکستانی شہریوں کو شاید جلد ہی واپس پاکستان بھیج دیا جائے گا۔ گزشتہ دنوں حکام نے تہاڑ میں قید ان افراد کی شناخت کی تعین کے لیے ان سے بات چیت کی ہے اور کاغذات چیک کیے ہيں۔ وائی فائی دلی بنگلور کے بعد اب دارالحکومت دلی کو بھی پوری طرح وائی فائی بنایا جا رہا ہے۔ یعنی دلی میں آپ کہیں پر بھی ہوں ، آپ کے پاس اگر ایک کمپیوٹر ہو اور اس میں ایک خاص سافٹ ویر موجود ہو تو وہ خود بخود انٹرنٹ سے کنکٹ رہے گا۔ اس طرح کی کنکٹییوٹی بنگلور میں پہلے ہی آچکی ہے اورپونے اور کولکتہ بھی وائی فائی ہونے کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ دلی میں انفارمیشن ٹیکنولوجی کا محکمہ جلد ہی دلی کو’انٹرنٹ سٹی‘ بنانے کے پروجکٹ پر کام شروع کر رہا ہے۔ محکمہ کا کہنا کہ دلی میں ’وائی میکس‘ ٹیکنولوجی استعمال کیے جانے کی توقع ہے۔ وائی میکس جدید ترین ٹیکنولوجی ہے اور اس کی سپیڈ بھی باقی تمام ٹیکنولوجی سے تیز ہے ۔ دلی کا نعرہ ہے ’جہاں بھی رہیئے کنکٹڈ رہیئے‘۔ ہالی ووڈ سٹائل کی دہشت رات میں نو بجے کے بعد پچاس سے زیادہ موٹر سائیکلوں پر سوار نوجوانوں کا ایک جھنڈ شہر کی مختلف سڑکوں پر نکلتا ہے۔ جس راستے پر یہ موٹر سوار جاتے ہیں اس راستے پر جو بھی نظر آتا ہے اس کی وہ پٹائی کرتے ہیں ۔ لڑکیوں سے چھیڑ خانی کرتے ہیں، پٹرول پمپوں پر پٹرول بھروا کر پیسے نہیں دیتے ۔ کسی نے کوئی مزاحمت کی کوشش کی تو اس کی بری طرح پٹائی کی ۔ یہ کسی فلم کا منظر نہیں بلکہ دارالحکومت دلی کے موٹر سائیکل گینگ کی روداد ہے ۔ یہ گینگ رفتہ رفتہ بڑا ہوتا جا رہا تھا ۔ دلی کے با شندے ایک عرصے سے اس نئے طرز کے گینگ کی زیادتیوں کا شکار تھے۔ یہ گینگ بھی جو بظاہر ابتدا میں موج ومستی کی غرض سے بنا تھا دھیرے دھیرے مجرمانہ روش اختیار کرنے لگا۔ لیکن گزشتہ دنوں پولیس نے تقریباً پچاس موٹر سائکل سواروں کو بالآخر پکڑ لیا اور انہیں جیل بھیج دیا ۔ دلی کی یہ خاص بات رہی ہے کہ ابھی تک یہاں منظم گینگ پنپنے نہیں پائے ہیں۔ فضائیہ کے پائلٹوں کی نئی پرواز ہندوستان میں فضائی مسافروں کی تعداد میں تیزی سے اضافے سے متعدد پرائیویٹ ایر لائنز اس بزنس میں اتری ہیں ۔ درجن بھر ایر لائنوں کے سینکڑوں طیارے ہر وقت پرواز بھر رہے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں طیارے چلانے کے لیے بڑی تعداد میں پائلٹوں کی ضرورت ہے۔
پائلٹوں کی اس کمی کا فائدہ اب ہندوستانی فضائیہ کے پائلٹوں کو ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں تیرہ پائلٹوں نے فضائیہ چھوڑ کر ایر انڈیا کی ملازمت اختیار کر لی۔ ان میں سبھی چوون برس سے زیادہ عمر کے ہیں۔ فضائیہ میں انہیں تقریباً ساٹھ ہزار روپے ماہانہ ملتے تھے لیکن اب ان کی تنخواہیں تین لاکھ روپے تک ہو جائے گی۔ فضائیہ بھی اب اپنے پائلٹوں کی تنخواہیں بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔ شادی کی رجسٹری کی لازمی سپریم کورٹ نےگزشتہ دنوں تمام ریاستوں کو حکم دیا ہے وہ شادیوں کے رجسٹریشن کو لازمی بنائیں۔ عدالت نے کہا کہ شادی کا رجسٹریشن ہر برادری کے لیے لازمی ہوگا۔ یہ فیصلہ کم عمری میں شادی کے چلن کو روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ملک میں لڑکی کی شادی کے لیے کم سے کم عمر اٹھارہ سال ہونی چاہئیے۔ اس سے کم عمر میں شادی کرنا قانوناً جرم ہے۔ بہت سی ریاستیں مسلمانوں کی مخالفت کے سبب ابھی تک رجسٹریشن کو لازمی کرنے سے ہچکچاتی رہی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||