دلی ڈائری: صدر کی تنخواہ اور دلی کا بوجھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منتخب نمائندے نکسلیوں کے نشانے پر ہندوستان میں نکسلی تحریک قابو میں آتی ہوئی محسوس نہیں ہو رہی۔گزشتہ تین برس میں نکسل وادیوں نے اپنے حملوں میں مختلف منتخب اداروں کے ایک سو انتیس نمائندوں کو ہلاک کیا ہے۔ اس مدت میں چار سو گیارہ سرکاری اہلکار بھی کمیونسٹ انتہاپسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان میں بیشتر سکیورٹی کے اہلکار تھے۔ کشمیر کے لیے جہاد پر احتجاج وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ہندوستان نے پاکستان کے پارلیمانی سیکریٹری برائے دفاع سیدتنویر حسین کے کشمیر سے متعلق بیان پر پاکستان سے احتجاج کیا ہے۔ میجر حسین نے گزشتہ ماہ قومی اسمبلی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بحث کے دوران کہا تھا کہ’ پاکستان کشمیر کو جہاد کے ذریعہ چھ ماہ میں آزاد کرا سکتا تھا‘۔ ان کا کہنا تھاکہ ’حکومت کو چاہیے کہ وہ جہادی تنظیموں کو کشمیر جانے کی اجازت دے دے‘۔ مسٹر مکھرجی نے کہا کہ اسلام آباد میں مقیم ہندوستانی ہائی کمشنر کے توسط سے حکومت پاکستان سے اس طرح کے بیان پر احتجاج کیاگيا تھا۔ امریکہ سے بھی دوستی۔ ایران سے بھی دوستی بائیں بازو اور حزب اختلاف کی جماعتیں یہ دلیل دے رہی ہیں کہ ہند۔امریکہ جوہری معاہدے سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی آزاد نہیں رہ جائے گی۔ غالباً اسی کی تردید کرنے کے لیے حکومت نے بڑی خاموشی کے ساتھ ایرانی جہاز رانوں کی تربیت کے لیے بحریہ کو اجازت دے دی ہے۔ ایران نے اپنی بحریہ کے اہلکاروں کی تربیت کے لیے ایک عرصے سے درخواست دے رکھی تھی۔ گزشتہ ہفتے وزیر دفاع اے کے انٹونی نے اس خبر کی تصدیق کی کہ بعض ایرانی جہاز رانوں کو ہندوستانی بحریہ تربیت دے رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا خيال ہے کہ حکومت عوام کو یہ بتانے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ خارجہ پالیسی کے سلسلے میں امریکہ کے کسی دباؤ میں آنے والی نہیں ہے۔ ایرانی جہاز رانوں کی تربیت کی خبر ایک ایسے وقت میں آئی جب بعض امریکی سینٹرز نے وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو لکھے گیے ایک خط میں ’ایران سے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعلقات‘ پر تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ کم از کم دس سینٹرز نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ حکومت ہندوستان سے اپنے جوہری معاہدہ پر از سر نو غور کرے۔
شاید آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ہندوستان کے صدر مملکت کی تنخواہ ان وزراء سے بھی کم ہوتی ہے جس کا وہ تقرر کرتے ہیں۔ موجودہ صدر پرتیبھا پاٹل کو پچاس ہزار روپے کنسولیٹیڈ ماہنامہ تنخواہ ملتی ہے۔ یہ تنخواہ کئی سرکاری افسروں سے بھی کم ہے۔ وزیراعظم کی تنخواہ تریسٹھ ہزار ہے۔ حکومت ہند کے سیکریٹری کو باون ہزار روپے ملتے ہیں اور تینوں افواج کے سربراہوں کی تنخواہیں پچاس ہزار سے زيادہ ہیں۔ 1951 میں ملک کے پہلے صدر کی تنخواہ دس ہزار روپے تھی جبکہ اس وقت کے مرکزی وزراء کو صرف ایک ہزار روپے ملا کرتے تھے۔ چند ماہ قبل ملک کے ارکان پارلیمان نے متفقہ طور پر اپنی تنخواہیں بڑھا لیں لیکن صدر اور نائب صدر کے بارے میں نہیں سوچا گيا۔ اطلاعات ہیں کہ حکومت اب صدر کی تنخواہ دوگنی کرنے والی ہے۔ ’اسرو‘ کی پریشانی ایک ایسے وقت میں جب ہندوستان خلاء میں اپنی سرگرمیاں بڑھتے ہوئے چاند پر راکٹ اتارنے کی تیاریاں کررہا ہے۔ ملک کے باوقار خلائی ادارے ’اسرو‘ میں سائنس دانوں کی شدید کمی کی اطلاعات ہیں۔ اطلاعات کے مطابق گزشتہ سال ’اسرو‘ نے تین سو چون نئے سائنس دان بھرتی کیے لیکن اس دوران تقریباً دو سو تربیت یافتہ سائنس دان ’اسرو‘ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ گزشتہ ہفتے وزيراعظم کے دفتر میں وزیر پرتھوی راج چوہان نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ پرائیوٹ اور دوسرے سینٹر سے بہتر پیشکش ہونے کی وجہ سے ’اسرو‘ سے سائنس دان دوسری جگہ جا رہے ہیں۔ حکومت ان سائنس دانوں کی روکنے کے لیے اب نہ صرف تنخواہیں بہتر کرنے بلکہ خصوصی مراعات اور بہتر کارکردگي کے الاؤنس جیسی نئی سکیموں کے نفاذ پر غور کررہی ہے۔ ’اسرو‘ سے سائنس دانوں کے نکلنے کا سلسلہ کچھ برس قبل شروع ہوا تھا اور اس میں ہر برس تیزی آرہی ہے۔
دارالحکرمت دلی کی آبادی دو ہزار ایک میں ایک کروڑ اڑتیس لاکھ تھی۔ اس آبادی میں اتنی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے کہ دلی حکومت کا اندازہ ہے کہ 2011 تک دلی کی آبادی سال دو ہزار ایک کے مقابلے میں دو گنی ہوجائے گی۔ دلی میں روزگار کے بہترین مواقع، سیاست کا مرکز اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے گزشتہ چند برسوں میں دوسرے شہروں اور دیہی علاقوں سے مائیگرشن کا عمل تیز ہوا ہے۔ دلی کے اطراف میں زمینیں بہت مہنگی ہیں جس کی وجہ سے آبادی کا بوجھ اتنی شدت سے ابھی محسوس نہیں ہوا جتنا شاید آنے والے برسوں میں ہو۔ پاکستان میں جے این یو کا داخلہ مرکز دلی کی جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) اپنے یہاں پاکستانی طلباء کوداخلہ دینے کے لیے پاکستان میں داخلہ امتحانات کے مرکز کھولنے کی تیاریاں کررہی ہے۔ جے این یو اس طرح کے مراکز سارک کے دیگر مملکوں بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال میں پہلے سے ہی کھول چکی ہے۔اس یونیورسٹی میں تقریباً پندرہ فی صد طلبا پڑوسی ممالک کے ہوتے ہیں۔ غیر ملکی طلباء میں خاصی تعداد عرب ممالک کے طلباء کی ہوتی ہے۔ اس لیے جی این یو مستقبل قریب میں بحرین یا کسی متبادل جگہ پر اپنا مرکز کھولےگی۔ پاکستان میں امتحانی سینٹر کھولنے کا منصوبہ جے این یو کے منصوبوں میں ایک عرصے سے شامل تھا۔ لیکن اس کے لیے ابھی تک حالات سازگار نہیں ہوپائے تھے تاہم اب یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ |
اسی بارے میں دلی ڈائری: صدر کی سادگی، مہنگی کاریں08 July, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: صدر کی پارٹی اور پاسپورٹ بابا15 July, 2007 | انڈیا دلی ڈائری:فوجی اڈے اور ٹیکس کا شکنجہ22 July, 2007 | انڈیا کیا ہندوستان میں ایسا ممکن ہے؟ 29 July, 2007 | انڈیا لالو کا تنازعہ،فوجیوں کو ہدایت05 August, 2007 | انڈیا پاکستان پر حملے کی عرضی، مفت ہنی مون12 August, 2007 | انڈیا دلی ڈائری: ایچ آئی وی ٹیسٹ اور سڑک حادثے26 August, 2007 | انڈیا بابری کمیشن، پھر توسیع02 September, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||