فرضی تصادم،پولیس والوں کو عمر قید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاست اتردیش کی ایک ذیلی عدالت نے فرضی تصادم کے ایک معاملے میں پندرہ پولیس اہلکاروں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ تین سب انسپکٹرvz پر پانچ پانچ ہزار اور دیگر بارہ پر ایک ایک ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔ پولیس اہلکاروں کو راج نارائن عرف سبھا تیواری کو فرضی تصادم میں مارنے کا قصور وار پایا گيا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے بعد سبھی پولیس اہلکاروں کو جیل بھیچ دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ جنوری انیس سو بانوے کا ہے۔ پولیس نے دعوی کیا تھا کہ تیواری ایک ڈکیت تھے اور ان کی چمبل دریا کے پاس پولیس کے ساتھ ایک مقابلے میں موت ہوگئی تھی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ ان کی لاش دریا میں بہہ گئی ہے۔ لیکن سی آئی ڈی کی تفتیش سے پتہ چلا کہ ان کی موت ایک فرضی تصادم میں کی گئی تھی۔ ادھر ریاست میں مایا وتی کی حکومت نے تقریباً ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ پولیس اہلکاروں کو برخاست کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ملائم سنگھ کے دور اقتدار میں محکمہ پولیس کی بھرتی میں بد عنوانی ہوئي تھی۔ برخاست کیے گئے تمام پولیس ملازمین کو ملائم سنگھ کے دور حکومت میں بھرتی کیا گيا تھا۔ اس حکم کے تحت کئی سینیئر پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا ہے اور کئی کے خلاف تفتیش کے احکامات دیے گئے ہیں۔ اتر پردیش کی نئی وزیر اعلی مایا وتی نے اقتدار سنبھالتے ہی اعلان کیا تھا کہ ملائم سنگھ دور حکومت کے جن معاملوں میں بد عنوانی کا اندیشہ ہے ان تمام فیصلوں پر نظر ثانی کی جائے گی۔ | اسی بارے میں فرضی مقابلے، قبریں کھولنےکا کام معطل05 February, 2007 | انڈیا ممبئی دھماکے، پولیس بھی مجرم 26 September, 2006 | انڈیا پولیس افسر کو سزائے موت15 December, 2006 | انڈیا نوئیڈامعاملہ: پولیس اہلکار برخاست04 January, 2007 | انڈیا پولیس اصلاحات کی سفارشات26 June, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||