BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 May, 2007, 23:20 GMT 04:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تاج محل کے لیے خاص ابٹن
تاج محل
تاج محل کی چمک واپس لانے کے لیے قدرتی مٹی کے استعال کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
ہندوستان میں حکام کا کہنا ہے کہ مغل فنِ تعمیر اور پیار و محبت کی نشانی آگرہ کے تاج محل کے نکھار کے لیے ملتانی مٹی کا ابٹن کار آمد ہوسکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق تاج محل کا رنگ پیلا پڑتا جا رہا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے بھارتی حکومت نے جو انتظامات کیے تھے وہ بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔

اس معاملے پر پارلیمنٹ کے ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تاج محل کا سنگ مرمر آس پاس کی آلودگی سے پیلا ہوتا جا رہا ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اسی کمیٹی نے اس کی چمک واپس لانے کے لیے قدرتی مٹی کو استعال کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔

اس کمیٹی کے صدر سیتا رام یچوری نے پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ’ تاج محل کے تحفظ کے لیے کسی بھی طرح کی منصوبہ بندی میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کا سنگ مرمر اپنی اصل صورت میں باقی رہے‘۔

رپورٹ میں اس کے حوالے سے وزارت ثقافت پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی گئی ہے کہ نہ تو ان معاملات پر خاطر خواہ توجہ دی گئی اور نہ ہی فنڈز کا باقاعدہ استعمال کیا گیا ہے۔

تقریباً ایک عشرہ قبل سپریم کورٹ نے تاج محل کے تحفظ کے لیے آلودگی پھیلانے ولی آس پاس کی سینکڑوں کمپنیوں کو بند کرنے اور انہیں دوسرے مقامات پر منتقل کرنے کے احکامات دیے تھے۔

عدالت نے تاج محل کے آس پاس موٹر گاڑیوں کے چلنے پر بھی پابندی لگا دی تھی۔

عدالت نے تاج محل کے آس پاس کی ہوا میں آلودگی کا پتہ کرنے کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی کے مطابق دھوئیں کی کمی سے سلفر ڈائی آ کسائیڈ اور نائٹروز میں تو کمی آئی ہے لیکن فضا میں بعض ایسے اجزاء بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں جن کے سنگ مرمر پر چپکنے سے رنگ پیلا پڑ رہا ہے۔

تاج محل کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیگم ممتاز محل کی یاد میں کروائی تھی۔ عمارت کے زمیں دوز حصے میں ممتاز محل کی قبر واقع ہے جبکہ شاہ جہاں کی قبر بھی ممتاز محل کی قبر کے نزدیک ہی ہے۔

تاج محل کے دیدار کے لیے ہر برس لاکھوں سیاح آگرہ آتے ہيں جس سے اربوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے

اسی بارے میں
چاندنی رات میں تاج محل
12 August, 2004 | انڈیا
تاج محل رات کو بند رہے گا
28 September, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد