تاج محل پیلا پڑتا جا رہا ہے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مغل فن تعمیر کی ایک بہترین نشانی آگرہ کے تاج محل کا رنگ پیلا پڑتا جا رہا ہے اور اس کی روک تھام کے لیے بھارتی حکومت نے جو انتظامات کیے تھے وہ بے اثر ثابت ہوئے ہیں۔ اس معاملے پر پارلیمنٹ کے ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ تاج محل کا سنگ مرمر آس پاس کی آلودگی سے پیلا ہوتا جا رہا ہے جس پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ اس کمیٹی کے صدر سیتا رام یچوری نے پارلیمنٹ میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا: ’ تاج محل کے تحفظ کے لیے کسی بھی طرح کی منصوبہ بندی میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اس کا سنگ مرمر اپنی اصل صورت میں باقی رہے۔‘ رپورٹ میں اس کے حوالے سے ثقافتی وزارت پر یہ کہہ کر نکتہ چینی کی گئی ہے کہ نہ تو ان معاملات پر خاطر خواہ توجہ دی گئی اور نہ ہی فنڈز کا باقاعدہ استعمال کیا گیا ہے۔ تقریباً ایک عشرے قبل سپریم کورٹ نے تاج محل کے تحفظ کے لیے آلودگی پھیلانے ولی آس پاس کی سینکڑوں کمپنیوں کو بند کرنے اور انہیں دوسرے مقامات پر منتقل کرنے کے احکامات دیے تھے۔ عدالت نے تاج محل کے آس پاس موٹر گاڑیوں کے چلنے پر بھی پابندی لگا دی تھی۔ عدالت نے تاج محل کے آس پاس کی ہوا میں آلودگی کا پتہ کرنے کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔ اس کمیٹی کے مطابق دھوئیں کی کمی سے سلفر ڈائیو ا کسائیڈ اور نائٹروز میں تو کمی آئی ہے لیکن فضا میں بعض ایسے اجزاء بڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں جن کے سنگ مرمر پر چپکنے سے رنگ پیلا پڑ رہا ہے۔ رپورٹ میں یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ تاج محل کی قدرتی رنگت کو برقرار رکھنے کے لیے اس پر قدرتی مٹی کا ایک خاص قسم کا ابٹن استمال کیا جائے جس کا ماضی میں تجربہ کیا گیا تھا۔ تاج محل کی تعمیر سترہویں صدی میں مغل بادشاہ شاہ جہاں نے اپنی بیگم ممتاز محل کی یاد میں کروائی تھی۔ عمارت کے زمیں دوز حصے میں ممتاز محل کی قبر واقع ہے جبکہ شاہ جہاں کی قبر بھی ممتاز محل کی قبر کے نزدیک ہی ہے۔ تاج محل کے دیدار کے لیے ہر برس لاکھوں سیاح آگرہ آتے ہيں جس سے اربوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے | اسی بارے میں تاج محل کا معاملہ سپریم کورٹ میں12 August, 2005 | انڈیا مسلم بورڈ کا دعوٰی بے بنیاد ہے: جے پال 01 August, 2005 | انڈیا قبروں کا خیال کرو، تاج محل بھول جاؤ16 July, 2005 | انڈیا سفید ہڈی کا تاج محل01 April, 2006 | انڈیا اترپردیش الیکشن اور شاہی عمارتیں13 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||