قبروں کا خیال کرو، تاج محل بھول جاؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی حکومت نے سنی وقف بورڈ کے اس دعوے کو رد کردیا ہے کہ تاج محل اس کی ملکیت ہے کیونکہ وہی مسلمانوں کی قبروں کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ وزیر قانون اے آر بھردواج نےکہا ہے کہ تاج محل قومی ملکیت ہے اور سنی وقف بورڈ کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی عمارت کی دیکھ بھال بدستور وہ محمکہ کرتا رہے گا جسے آرکیاؤلیجکل سروے آف انڈیا کہتے ہیں۔ ترپردیش کے وقف بورڈ کا موقف ہے کہ تاج محل بھی اس کی جائداد اور اسے بورڈ کے نام درج ہونا چاہئے۔ حالانکہ بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ فی الوقت تاج محل کی دیکھ بھال آرکیلوجیکل سروے آف انڈیا کریگا۔ وقف بورڈ نے یہ فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ کے ایک حکم کے تحت کیا ہے جس میں عدالت نے ریاست کے تمام مقبروں کو وقف بورڈ کی ملکیت بتایا تھا۔ اگر تاج محل کو وقف بورڈ کی جائداد تسلیم کرلیا جاتا ہے توسیّاحوں سے حاصل شدہ رقم کا سات فیصد حصہ بورڈ کو ملےگا۔ بورڈ کا کہنا ہے ممتاز محل کی قبر کے علاوہ تاج محل میں مسجد اور اسکے احاطے میں کئی اور قبریں ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||