ایک اور تاریخی فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’لگان‘ اور ’دیوداس‘ کی کامیابی نے خستہ حال ممبئی فلمی صنعت کو پرانے فارمولے کی یاد دلادی ہے۔ہمیشہ نئے فارمولے کی تلاش میں رہنے والی بالی ووڈ میں آج کل بڑی تعداد میں ’ پیریڈ فلم‘ یعنی تاریخی فلمی بنانے کا رواج چل پڑا ہے۔ لیکن تاریخ پر مبنی ان فلموں میں سے زیادہ تر خود تاریخ کی نذر ہوگئیں اور جو مکمل ہوپائیں ان میں سے ایک فلم اکبر خان کی ’ تاج محل‘ ہے۔ ابتداء ہی سے اکبر خان کو تاریخ میں دلچسپی رہی ہے۔ اس فلم سے قبل انہوں نے اپنے بھائی سنجے خان کی مدد کے لیے ’ٹیپو سلطان ‘ سیرئل کی چند اقساط ڈائرکٹ کیں تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے خود ’اکبر دا گریٹ‘ سیرئل بنایا۔ تاج محل ان کی آنےوالی نئی فلم ہے جو محبت اور تاریخ دونوں کو بیان کرتی ہے۔ اکبر خان اپنی فلم کے بارے میں کہتے ہیں کہ شاہ جہاں نے جس جنون سے بیس برسوں اور 22000 مزدوروں کی مدد سے تاج کی تعمیر کروائی تھی اسی جنون سے انہوں نے یہ فلم بنائی ہے۔ اور تاج ہی کی طرح فلم کے ہر پہلو کو خوبصورتی سے تراشا گیا ہے تاکہ دیکھنے والوں کے ذہن میں یہ فلم اسی طرح جاں گزیں ہو جیسے تاج نے لوگوں کے دل و دماغ پر قبضہ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ممتاز محل کے کردار میں ایشوریہ رائے اور نورجہاں کے کردار کے لیے ریکھا کو لینا چاہتا تھے کیوں کہ دونوں ہی بہترین اداکارايں ہیں ۔ لیکن وہ دونوں بہت مصروف تھیں اور وہ اپنی فلم کے کردار کو پورا وقت دے کر اطمنان سے شوٹ کرنا چاہتا تھے ۔ انہوں نے کہا کہ فلم میں کردار سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اور تاریخی کرداروں کی شکل و صورت اور قد کاٹھی کی مناسبت سے ہی فلم کے کردار ا منتخب کئے گئے ہیں۔ شاہ جہاں کی شخصیت کے لیے انہوں نے کہا کبیر بیدی سب سے پہلے ان کے ذہن میں آئے اور اسی طرح نوجوان شاہ جہاں یعنی ذوالفقار سعید کا انتخاب کیاگیا۔ ممتاز محل کی نزاکت اور خوبصورتی کو ذہن میں رکھ کر سونیا جہاں کا انتخاب کیاگیا ۔ لیکن ان دونوں اداکاروں کو مغلیہ سلطنت کے طور طریقوں ، ان کی تہذیب و تمدن، اور تلفظ کی ادائیگی کی تربیت دی گئی ہے۔ شہزادی جہاں آراء جنہوں نے تخت کے لیے متصادم دو بھائیوں، اورنگ زیب اور دارہ شکوہ اور بوڑھے باپ، شاہ جہاں کے درمیان صلح کا کام کیا تھا۔ انکے اہم کردار کو منیشا کویرالا نبھا رہیں ہیں۔ اورنگ زیب کے غصے وجلال کو زندہ کرنے میں اربازخان نے اچھا رول کیا ہے ۔ شاہ جہاں کی والدہ کا کردار پوجا بترا نبھا رہی ہیں۔ نوشاد صاحب نے مغل آعظم اور بیجو باؤرا جیسی فلموں میں لازوال موسیقی کے جلوے بیکھیرے ہیں۔ انکا میوزک اس دور کے مزاج کو بہتر طور پر پیش کر سکتا ہے۔ آج کی تیز موسیقی لوگوں کے ذہن پر نقش نہیں ہوتی۔ تاج محل کے نغموں سے موسیقی میں ایک بار پھر ملیڈی واپس آئیگی۔ انہوں نے کہا کہ فلم کی زبان پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ اور زبان ایسی ہے کہ ہر خاص و عام کی سمجھ میں آجائے اور ساتھ ہی مغلوں کے انداز بیان کا ’فلیور‘ بھی ہو۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||