اترپردیش الیکشن اور شاہی عمارتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آر ایس ایس کا نیا رنگ اترپردیش کے انتخابات میں آر ایس ایس اور پورے سنگھ پریوار نے بی جے پی کی جیت کے لیے پوری طاقت لگا دی تھی۔ دراصل پنجاب اور اتراکھنڈ کی اسمبلیوں اور دلی کی کونسل میں پارٹی کی جیت کے بعد آر ایس ایس کے حوصلے بلند تھے۔ ہندو نظریاتی تنظیم اور بی جے پی کے بہت سے رہنما یہ سمجھنے لگے تھے کہ پارٹی کی جیت سخت گیر ہندو نظریات کے علمبردار پارٹی صدر راج ناتھ سنگھ کی وجہ سے ہورہی ہے۔ لیکن اترپردیش میں بی جے پی کی بھیانک شکست کے بعد آر ایس ایس مایاوتی کی تعریف کے راگ آلاپنے لگی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ مایاوتی کی جیت ان کی ’نرم ہندؤیت‘ کی پالیسی سے ممکن ہوئی۔ ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بی جے پی بیشتر ان حلقوں میں ہاری ہے جہاں آڈوانی اور راج ناتھ سنگھ جیسے بڑے لیڈروں نے انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔
آرٹ پر حملے میں تیزی ہندوستان میں ان دنوں فلم، آرٹ، کلچر اور ادب انتہا پسندوں کے نشانے پر ہے۔ شلپا شیٹی کے بوسے اور ایم ایف حسین کی پینٹنگز کے بعد اب بڑودہ یونیورسٹی کے فائن آرٹس کے شعبے کو ہندو شدت پسندوں نے اپنے حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ یہاں کا فائن آرٹس کا شعبہ ملک کے بہترین شعبوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں ایک طالب علم کی مصوری کی نمائش ہوئی لیکن بی جے پی کے بعض مقامی رہنماؤں کو وہ تصویریں پسند نہیں آئیں اب وہ طالب علم جیل میں ہے۔ شعبے کے ڈین کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔ اب پورے ملک میں مصور ادیب اور دانشور آزادی اظہار پر بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف ملک گیر احتجاج کی تیاری کررہے ہیں۔
شاہی عمارتیں شاہی آمدنی تاج محل اور قطب مینار جیسی تاریخی عمارتیں ہندوستان کی تہذیبی و ثقافتی شناخت ہی نہیں بلکہ ایک بڑي آمدنی کا ذریعہ بھی ہے۔ گزشتہ مالی برس دلی کے قطب مینار اور لال قلعہ میں سیاح کو آمد سے چار چار کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ اسی طرح ہمایوں کے مقبرے سے پونے تین کروڑ روپے داخلہ فیس کی طور پر جمع کے گۓ۔وزارات سیاحت کے مطابق ملک میں تاریخی عمارتوں میں سب سے زیادہ آمدنی تاج محل سے ہوئی ہے۔ گزشتہ برس تاج سے چودہ کروڑ اسی لاکھ روپے حاصل ہوۓ۔ جبکہ آگرہ فورٹ سے سات کروڑ اسی لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی ۔ اسی طرح کونارک کے سن ٹمپل ' سوریہ مندر' میں آنے والوں سے تیرہ کروڑ چالیس لاکھ جمع کیے گئے تھے۔
سپائیڈر مین کا جال سپائیڈر مین پہلی غیر ملکی فلم ہے جو ہندوستان کےپانچ سو اٹھاون سنیما گھروں میں ایک ساتھ ریلیز ہوئی ہے ۔ اس سے پہلے سب سے زیادہ پرنٹ جمیز بونڈ کی کسینو رویال تھی جس کے چار سو پچیس پرنٹ جاری ہوۓ تھے۔ سپائیڈر مین کے سب سے زیادہ پرنٹ ہندی میں جاری ہوۓ ہیں۔ ہندی میں یہ فلم دو سو اکسٹ سنیما گھروں میں دکھائی جارہی ہے۔ ایک سو پینسٹھ پرنٹ انگلش میں جاری ہوۓ ہیں۔ تمل اور تیلگو میں 78-78 اور چھ پرنٹ بھوجپوری میں ڈب کۓ گۓ ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب کوئی غیر ملکی فلم بھوجوپوری میں ڈب کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں دلی ڈائری: ایک لاکھ روپے کی کتاب۔۔۔۔05 March, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: ممبئی اور بنگلور میں بھی میٹرو09 April, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: وزیر خارجہ کیلیئے دوڑ22 October, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: سیاست دانوں کو قرض سے انکار26 November, 2006 | انڈیا دلی ڈائری: معیشت کا ایک رخ یہ بھی18 February, 2007 | انڈیا دلی ڈائری:’ملا کی دوڑ اسمبلی تک‘15 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||