معاہدہ ختم ہو سکتا ہے:امریکہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے انڈیا پر واضح کیا ہے کہ اگر وہ جوہری تعاون کے معاہدے کی منظوری میں تاخیر کرتا ہے تو معاہدہ ختم بھی ہو سکتا ہے۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ نکولس برنز نے کہا ہے کہ امریکہ میں صدارتی انتخابات کی وجہ سے وقت ضائع ہو رہا ہے جبکہ بھارت میں امریکی سفیر ڈیوڈ ملفورڈ کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ کانگریس کی معیاد کے دوران جوہری معاہدہ منظور نہیں کرایا جاتا تو پھر امکان نہیں کہ انڈیا کو ایسی پیشکش دوبارہ کی جائے گی۔ واضح رہے کہ اس متنازعہ جوہری تعاون کے معاہدے کے تحت انڈیا کو، جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے پر دستخط کیے بغیر، امریکہ کے جوہری توانائی کے وسائل اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ انڈیا میں بائیں بازو کی جماعتیں امریکہ کے ساتھ اس معاہدے کے خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس سے امریکہ کو بہت زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہو جائے گا۔ موجودہ حکمران اتحاد میں شامل ان جماعتوں نے دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر کانگریس کی سربراہی میں قائم حکومت اس معاہدے کو حتمی شکل دیتی ہے تو وہ حکومت سے نکل جائیں گی۔ | اسی بارے میں جوہری تعاون کیلیے ابھی انتظار:سرکوزی25 January, 2008 | انڈیا امریکہ جوہری ڈیل کےاطلاق کا خواہاں30 October, 2007 | انڈیا ’جوہری معاہدے پر نظرثانی کرینگے‘28 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، بایاں محاذ کا نرم رویہ 16 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر مذاکرات 13 January, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||