نیوکلیئر معاہدہ، دلی میں اہم اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہند امریکہ جوہری معاہدے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے حکمراں اتحاد اور بائیں بازو کے محاذ کے رہنماؤں کے درمیان ایک اہم اجلاس پیر کو دلی میں ہو رہا ہے۔ اجلاس کی صدارت وزیر خارجہ پرنب مکھرجی کریں گے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے گزشتہ پیر کو امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جوہری معاہدے کے نفاذ میں مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم وزیر اعظم نے یہ بھی کہا تھا کہ جوہری معاہدہ ابھی ناکام نہیں ہوا ہے اور اس مسئلے پر وہ اپنی اتحادی جماعتو ں کے ساتھ اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے مسئلے پر حکمراں قومی ترقی پسند اتحاد (یو پی اے ) میں شدید اختلافات ہیں۔ یو پی اے میں شامل بائیں بازو کے محاذ کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر عملدرآمد ہوا تو وہ حکومت سے علحیدگی اختیار کر لے گا۔ مارکسسٹ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے پولٹ بیورو کے رکن سیتارام یچوری کا کہنا ہے کہ وہ پیر کو ہونے والے اجلاس میں جوہری معاہدے سے متعلق حتمی فیصلے کی توقع رکھتے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈيا کے رہنما اے وی وردھن کا کہنا ہے ’میں واضح طور پر نہیں جانتا کہ پیر کے اجلاس میں حکمراں اتحاد ہمیں معاہدے کے متعلق کیا بتانے والا ہے، لیکن میرے خیال میں معاہدے کے متعلق تنازعہ اس وقت ختم ہوگا جب یہ واضح کر دیا جائے کہ حکومت اس معاہدے کومعطل کر رہی یا سرِ دست سرد خانے میں رکھ رہی ہے۔‘ بائیں بازو کے محاذ کا کہنا ہے کہ موجودہ شکل میں جوہری معاہدے کی منظوری سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی امریکہ کے دباؤ میں آجائے گی۔ اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ جوہری معاہدے کے نفاذ کے سلسلے میں پیش قدمی فوراً روک دی جائے۔ محاذ سے اختلاف دور کرنے کے لیے گزشتہ مہینے وزیرخارجہ پرنب مکھرجی کی زير قیادت پندرہ رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کمیٹی کا یہ آخری اجلا س ہوگا۔ اس سے قبل کمیٹی کے کئی اجلاس ہو چکے ہیں جو نتیجہ خیز نہیں رہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ معاہدے پر عملدرآمد میں تعطل آنے سے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو دھچکا لگے گا۔ خیال رہے کہ اگر ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جوہری شعبے میں یہ تاریخی معاہدہ پائے تکمیل تک پہنچتا ہے تو اس نتیجہ میں ہندوستان کو امریکہ کی جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جائے گی۔ |
اسی بارے میں جوہری معاہدے پر مذاکرات جاری18 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا سونیا کے بیان سے بایاں محاذ برہم08 October, 2007 | انڈیا ’معاہدے کے مخالف ترقی کے دشمن‘07 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار19 September, 2007 | انڈیا پیچھے نہیں رہے سکتے: منموہن31 August, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||