جوہری معاہدہ: ’وقت بہت کم ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے جنوب وسطی ایشیا رچرڈ باؤچر نے انڈیا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس کو امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا ہے تو اسے جلدی کرنی ہو گی۔ رچرڈ باؤچر نےانڈیا کے دورے کے دوران کہا کہ نومبر میں امریکہ میں اقتدار میں تبدیلی آنی والی ہے اور اگر انڈیا نےجلد جوہری معاہدہ کی تکمیل نہ کی تو یہ معاہدہ کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ بھارت کی بائیں محاذ کی جماعتوں جو موجودہ حکومت کا حصہ ہیں، انڈیا اور امریکہ کےدرمیان جوہری معاہدے کی مخالف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارت امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کر کے امریکہ کے دباؤ میں آ جائے گا اور اس کی خارجہ پالیسی آزاد نہیں رہ سکے گی۔ رچرڈ باؤچر نے کہا کہ وقت بہت کم ہے کیونکہ نومبر میں صدارتی انتخابات سے قبل پارلیمان کے سامنے بہت سے ایجنڈے ہیں۔ اور اگر جولائی تک اس معاہدے کو حتمی شکل نہيں دی جاتی تو اس کے بعد کانگریس سے معاہدے کی منظوری بہت مشکل ہوگی۔ اس سے پہلے امریکی سینٹروں نے بھی بھارت کو متنبہ کیا تھا کہ اگر بھارت نے جولائی سے قبل معاہدہ حتمی شکل میں گانگریس کے پاس نہ پہنچا تو کانگریس کو یہ معاہدہ منظور میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کانگریس اس معاہدے کو صدارتی انتخابات سے قبل منظوری نہیں دیتی تو آئندہ بننے والے صدر کے لیے بھی اس معاہدے کو منظور کرنا مشکل ہوگا اس لیے’اگر ہندوستان معاہدے کا خواہاں ہے تو اسے جلد ہی قدم اٹھانا ہوگا‘۔ واضح رہے کہ اس متنازعہ جوہری تعاون کے معاہدے کے تحت ہندوستان کو جوہری عدم توسیع کے عالمی معاہدے پر دستخط کیے بغیر امریکہ کے جوہری توانائی کے وسائل اور ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں معاہدہ ختم ہو سکتا ہے:امریکہ09 February, 2008 | انڈیا جوہری تعاون کیلیے ابھی انتظار:سرکوزی25 January, 2008 | انڈیا امریکہ جوہری ڈیل کےاطلاق کا خواہاں30 October, 2007 | انڈیا ’جوہری معاہدے پر نظرثانی کرینگے‘28 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، بایاں محاذ کا نرم رویہ 16 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر مذاکرات 13 January, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||