ڈیل یا نو ڈ یل: دلی میں اہم میٹنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور امریکہ کے جوہری معاہدے پر حکومت اور حکمراں متحدہ ترقی پسند اتحاد (یو پی اے) میں شامل بائیں باوز کی جماعتوں کا ایک اہم اجلاس بدھ کو دلی میں ہو رہا ہے۔ میٹنگ سے پہلے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی اور مارکسی کیمونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکریٹری پرکاش کرات کے درمیان بات چیت ہوئی ہے۔ بدھ کی صبح یو پی اے کی سربراہ سونیا گاندھی نے بھی اپنی رہائش گاہ پر کانگریس پارٹی کے سنیئر لیڈروں کی ایک میٹنگ طلب کی تھی۔ واضح رہے کہ بھارت اور امریکہ کے جوہری معاہدے پر یو پی اے اور بایاں محاذ کے درمیان اختلافات اتنے شدید ہوگئے ہيں کہ مرکزی حکومت کا استحکام خطرے میں پڑ گیا ہے اور سیاسی حلقوں میں قبل از وقت انتخابات کی بات باز گشت سنی جارہی ہے۔ حکمراں یو پی اے جوہری معاہدے سے متعلق جوہری نگرانی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے سے مذاکرات کے آخری مرحلے میں حصہ لیکر ہندوستان کی بات رکھنے کا حامی ہے جبکہ بایاں محاذ آئی اے ای اے سے مذاکرات کی مخالفت کررہا ہے۔ بایاں محاذ کا کہنا ہے کہ آئي اے ای اے سے بات چیت کرنے کے بعد ہند وستان کے پاس اپنی بات رکھنے کا کوئی موقع باقی نہیں رہے گا کیوں آئی اے ای اے کے مرحلے سے گزرنے کے بعد یہ بل یورینیم فراہم کرنے والے ممالک کے سامنے پیش کیا جائے گا اور پھر امریکی کانگریس میں منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔ لہذا آگے کا پورا عمل امریکہ کے ہاتھوں میں ہوگا۔ بایاں محاذ بھارت اور امریکہ کے جوہری معاہدے کی یہ کہہ کر بھی مخالفت کررہا ہے کہ اس سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی متاہر ہوسکتی ہے۔ محاذ نے واضح کردیا ہے کہ اگر حکومت آئی اے ای اے سے بات چیت کرتی ہے تو وہ حکومت سے حمایت واپس لے لیے لے گا۔ دوسری طرف امریکہ مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ اگر ہندوستان معاہدے کو حتمی شکل دینا چاہتا ہے تو اس کے پاس وقت بہت کم ہے۔ اس درمیان اطلاعات ہیں کہ ہندوستان میں امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ملفرڈ نے وزارت عظمی کے دفتر میں وزیر مملکت پرتھوی راج چوہان سے ملاقات کی ہے۔ یو پی اے میں شامل جماعت راشٹریہ جنتا دل اور دراوڈ منترم گژگم یعنی ’ڈی ایم کے‘ کا کہنا ہے کہ بھارت اور امریکہ کا جوہری معاہدہ ملک کی مفاد میں ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ عام انتخابات آئندہ برس ہونے والے ہيں اس لیے ایسے حالات میں بایاں محاذ کو ساتھ لیکر چلنا چاہیے۔ واضح رہے کہ بہوجن سماج پارٹی یو پی اے سے حمایت واپس لے چکی ہے جبکہ سماج وادی پارٹی نے ابھی واضح نہیں کیا ہے کہ اگر حکومت اقلیت میں آ جاتی ہے تو اس کی حکمت عملی کیا رہے گي۔ ادھر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما لال کرشن آڈوانی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی جوہری معاہدے کی حامی ہے لیکن وہ اس بات کی مخالفت کر رہے ہيں کہ اس معاہدے کے بعد ہندوستان جوہری دھماکہ کرنے کی آزادی کھو دے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو وہ معاہدے پر دوبارہ بات چیت کرنا چاہیں گے۔ |
اسی بارے میں جوہری معاہدہ : حکومت پردباؤ24 June, 2008 | انڈیا ہند۔امریکہ جوہری معاہدہ، تعطل برقرار07 May, 2008 | انڈیا نیوکلیئر معاہدہ، دلی میں اہم اجلاس22 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر مذاکرات بےنتیجہ 09 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار19 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ: کمیٹی کا اجلاس11 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||