ہندوستان: نئی صف بندی کا آغاز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزير اعظم منموہن سنگھ جی ایٹ کی میٹنگ میں شرکت کے لیے اس وقت جاپان میں ہیں اور دلی میں ان کی حکومت اقلیت میں آگئی ہے۔ بائیں بازو کی جماعتیں ہند امریکہ جوہری معاہدے کی ابتدا سے ہی مخالفت کر رہی تھیں اور 18 جولائی 2005 کے ہند امریکہ مشترکہ بیان کے بعد شاید ہی کوئی مرحلہ ایسا آیا جب محسوس ہوا ہو کہ کمیونسٹ اس معاہدے کی حمایت کریں گے۔ اگر کمیونسٹ مخالفت پرمصر تھے تو حکومت نے بھی اس معاہدے کو تقریباً وقار کا مسئلہ بنالیا تھا۔ پیر کو وزیر اعظم منموہن سنگھ نے دلی سے جاپان روانگی کے وقت طیارے میں صحافیوں سے جب یہ کہا کہ حکومت جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے سے جلد ہی بات کرے گی اس وقت وہ واضح طور پر کمیونسٹوں سے علحیدگی کا فیصلہ کر چکے تھے۔
تقریباً ساڑھے چار برس قبل کمیونسٹوں کی حمایت لینا کانگریس کی انتہائی تکلیف دہ مجبوری تھی۔ دو برس تک حکومت خوش اسلوبی سے چلتی رہی لیکن رفتہ رفتہ حکومت کو اقتصادی اور انتظامی اصلاحات کے اپنے فیصلے کمیونسٹوں کے دباؤ ميں اکثر بدلنے پڑے۔ حالات اتنے برے ہو گئے کہ حکومت کو’ رول بیک‘ حکومت کہا جانے لگا۔ گذشتہ دو برس سے حکومت اور کمیونسٹوں کے درمیان شدید اختلافات کے سبب حکومت تقریباً مفلوج ہو کر رہ گئی تھی اور غیر فطری اتحاد کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا تھا۔ کانگریس کو اس مرحلے پر حریف ملائم سنگھ یادو کی سماج وادی پارٹی کی غیر متوقع حمایت مل گئی ہے۔ اترپردیش میں مایاوتی کی فتح اور ان کے بڑھتے ہوئے اثرات کے نتیجے میں سماج وادی پارٹی اپنے وجود برقرار رکھنے کی جد و جہد کر رہی ہے۔
موجودہ ڈرامائی حالات نے سماج وادی پارٹی کو عزت کے ساتھ کانگریس کے قریب آنے کا موقع فراہم کر دیا ہے۔ دونوں کو ایک دوسرے کی سخت ضرورت ہے۔ یہ آنے والے پارلیمانی انتخابات کے لیے نئی صف بندی کا آغاز ہے۔ لوک سبھا میں 80 سیٹوں کے ساتھ اترپردیش سیاسی نقطہ نظر سے انتہائی اہم ہے۔ اگر یہ اتحاد نہیں ہوتا تو مبصرین کا کہنا ہے کہ آئندہ پارلمیانی انتخابات میں وزیر اعظم کون ہوگا اس کا فیصلہ صرف اترپردیش کی وزیر اعلیٰ مایاوتی کرتیں۔ لیکن اب صورت حال بدل سکتی ہے۔ سابق وزیر اعظم دیوے گوڑا کی جماعت اور بعض دیگر چھوٹی جماعتیں بھی منموہن سنگھ حکومت کی حمایت ميں سامنے آگئی ہیں اور حکومت بچ جائے گی۔ یہ آنے والے پارلمیانی انتخابات کی نئی صف بندیوں کا آغاز ہے۔ ہند امریکہ جوہری معاہدے نے خواہ ایک بھی میگا واٹ بجلی پیدا نہ کی ہو لیکن اس نے دلی کی سیاسی حرارت میں آگ ضرور لگا دی ہے۔ |
اسی بارے میں بایاں بازو حکومت سے الگ ہوگیا08 July, 2008 | انڈیا ڈیل یا نو ڈ یل: دلی میں اہم میٹنگ25 June, 2008 | انڈیا جوہری معاہدہ : حکومت پردباؤ24 June, 2008 | انڈیا ہند۔امریکہ جوہری معاہدہ، تعطل برقرار07 May, 2008 | انڈیا نیوکلیئر معاہدہ، دلی میں اہم اجلاس22 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر مذاکرات بےنتیجہ 09 October, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||