BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 July, 2008, 08:19 GMT 13:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بایاں بازو حکومت سے الگ ہوگیا
 من موہن سنگھ
بائیں بازو کا موقف ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو متاثر کر سکتا ہے۔
ہندوستان میں بائیں بازو کی جماعتوں نےمنموہن سنگھ حکومت کی حمایت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

کیمونسٹ رہنماء بدھ کو صدر سے ملاقات کر کے حمایت واپس لینے کی باضابطہ تحریری اطلاع دیں گے۔

بائیں بازو کا موقف ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی کو متاثر کر سکتا ہے۔


بائيں بازو کے فیصلے پر وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ بائیں بازو کے فیصلے سے حکومت کے استحکام پر اثر نہیں پڑے گا۔

انہوں نے مزید کہا ہے کہ جوہری معاہدے سےمتعلق حکومت بہت جلد بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے سے رابطہ کرے گی۔

وزیر اعظم منموہن سنگھ اس وقت جی ایٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاپان میں ہیں۔

ادھر دلی میں وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ وزیر اعظم اپنے طے شدہ پروگرام کے تحت دورہ جاری رکھیں گے اور وہ جمعرات کو ملک واپس آئیں گے۔

لوک سبھا میں کمیونسٹ جماعتوں کے کل 60 ارکان ہیں اور ان کے حمایت واپس لینے سے حکومت اقلیت میں آگئی ہے لیکن حکومت کو سماج وادی پارٹی اور بعض دیگر جماعتوں کی حمایت مل سکتی ہے۔

ملائم سنگھ یادو
کانگریس حکومت کے قائم رہنے کا دارو مدار ملائم سنگھ یادو کی حمایت پر منحصر ہے

منگل کو بائیں بازو کی جماعتوں کی اہم میٹنگ ہوئی جس میں حمایت کی واپسی کا اعلان کیا کیا گيا۔

پرکاش کرات نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وہ بدھ کو صدر سے ملاقات کریں گے اور باضابطہ طور پر حمایت واپسی کا اعلان کریں گے۔

بائیں بازو کا یہ فیصلہ وزیر اعظم کے اس تازہ بیان کے بعد آیا جس انہوں نے ہند امریکہ جوہری معاہدے پر اپنے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدے کے سلسلے میں وہ بین الاقوامی جوہری توانائی کے ادارے آی اے ای اے میں بہت جلد جائیں گے۔

جاپان جانے سے پہلے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے کہا تھا کہ اگر بائیں بازو امریکہ سے جوہری معاہدے پر اپنی حمایت واپس لیتا ہے تو حکومت کے پاس ضروری ارکان پارلیمان کی حمایت ہے۔

واضح رہے کہ بائیں بازو نے جوہری معاہدے پر حکومت کو اپنا موقف ظاہر کرنے کے لیے سات جولائی تک کا وقت دیا تھا حالانکہ حکومت کی جانب سے اس پر کو ئی واضح جواب نہیں دیا گیا ہے، تاہم وزیر خارجہ پر نب مکھرجی نے خط لکھ کر دس جولائی کو مذاکرات کرنے کی پیش کش کی ہے۔

بھابھا اٹاماک سنٹر معاہدے پر اختلافات
ہند ،امریکہ جوہری معاہدے میں تعطل جاری
وزیراعظم منموہن سنگھہند امریکہ معاہدہ
جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد