BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 July, 2008, 10:24 GMT 15:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت پر آنچ نہیں آنے دیں گے‘
ملائم سنگھ اور کانگریش کی بات چیت پہلے سے چل رہی تھی۔
ہندوستان میں کانگریس کی قیادت والی وفاقی حکومت سے بائیں محاذ کے الگ ہو جانے کے بعد سماجوادی پارٹی نے کہا ہے کہ وہ حکومت پر آنچ نہیں آنےدے گی۔

بایاں محاذ کےحمایت واپس لینے سے وفاقی حکومت اقلیت میں آگئی ہے لیکن سماجوادی پارٹی نے یہ اعلان کیا ہے کہ وہ ہند امریکہ جوہری معاہدے پر پارلیمان میں حکمراں یونائٹڈ پروگریسو الائنس یعنی یو پی اے کی حمایت میں ووٹ دے گی۔

پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو نے کہا کہ پارٹی کی مجلس عاملہ میں متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ اگر ایوان میں عدم اعتماد کی تحریک لائی جاتی ہے تو ان کی جماعت کے سبھی 39 اراکین پارلیمان حکومت کے حق میں ووٹ دیں گے۔

 حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل ہے۔ حالانکہ پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم کا انتظار کرے رہے ہيں اور آگے کی حکمت عملی ان کے آنے پر ہی طے ہوگا
کانگریس ترجمان منیش تیواری

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جوہری معاہدے کو لوگ مسلمانوں کے جذبات سے جوڑنے کی کوشش کر رہے ہيں جو بالکل غلط ہے۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری امر سنگھ کا کہنا تھا کہ ’یہ ڈیل مسلمان یا ہندو ڈیل نہیں ہے۔ یہ ملک کے فائدے کے لیے ہے اور ہندوستان کا مسلمان ملک کے مفاد میں اس کی حمایت کرتا ہے۔‘

ادھر حکمراں کانگریس کا کہنا ہے کہ بائيں بازو کی جماعتوں کے فیصلے کے باوجود ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہيں ہے اور وہ پارلیمنٹ ميں اپنی اکثریت ثابت کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔

پارٹی کے ترجمان منیش تیواری کا کہنا ہے کہ ’حکومت کو پارلیمنٹ میں اکثریت ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل ہے۔ حالانکہ پارٹی نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم کا انتظار کر رہے ہيں اور آگے کی حکمت عملی ان کے آنے پر ہی طے ہوگا۔‘

حزب اختلاف کی بڑی جماعت بی جے پی نے کہا ہے کہ حکومت کو فوری طور پر پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنی چاہیے۔ پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ بائيں محاذ اور کانگریس کا اتحاد غیر فطری تھا اور اسے تو ایک نہ ایک دن ٹوٹنا ہی تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس اور کمیونسٹ دونوں ہی نے عوام کے درمیان اپنا بھروسہ کھو دیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم شروعات سے ہی جوہری معاہدے کی حمایت کر رہے تھے اور ان کی جانب سے کوئی نیا رد عمل ظاہر نہيں کیا گیا ہے، لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ کمیونسٹوں نے حمایت واپس لینے میں اتنی دیر کیوں لگا دی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد