BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 July, 2008, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پہلےاعتماد کا ووٹ حاصل کريں گے‘
پرنب مکھرجی
پرنب مکھرجی کا کہنا ہے کہ حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کر لے گی
ہندوستان کی حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک حکومت پارلیمنٹ میں اکثریت ثابت نہيں کر لیتی وہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے اگلے مرحلے کی بات چیت کے لیے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے ای اے نہیں جائے گی۔

وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے دلی میں صحافیوں کو بتایا کہ پارلیمنٹ کا بارانی اجلاس مقررہ تاریخ (11 اگست) سے ہی شروع ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا بائيں بازو کی جانب سے حمایت واپس لینے کے بعد وہ کل صدر سے ملاقات کرنے والے ہیں اور جیسے ہی ہمیں صدر کی جانب سے اکثریت ثابت کرنے کے بارے میں کہا جائے گا ہم لوک سبھا ميں اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گے۔

پرنب مکھری جی کے بیان سے یہ واضح ہے کہ حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے جلد ہی پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس طلب کرے گی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومت آئندہ 28 جولائی کو آئی اے ای سے رابطہ کرنے جا رہی ہے۔ لہذا حکومت کو اعتماد کا ووٹ 28 جولائی سے قبل ہی حاصل کرنا ہو گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ حکومت کو بظاہر کوئی خطرہ نہیں ہے۔

اس وقت لوک سھبا ميں 543 اراکین ہیں جس میں سے حکمراں یونائٹڈ پروگریسو الائنس یعنی یو پی اے کے 225 اراکین ہيں۔ بائيں بازو کے 59 اراکین حکومت کو باہر سے حمایت فراہم کر رہے تھے۔ پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے حکومت کو تقریبا 47 اراکین کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔

ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی نے حکومت کے حق میں ووٹ دینے کا پہلے ہی اعلان کر دیا ہے۔ ان کے 39 اراکین ہیں۔ وہيں اب کانگریس آزاد امیدواروں اور دیگر علاقائی جماعتوں سے حمایت حاصل کرنے کی کوششوں ميں ہے۔ ان میں پیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے حکومت کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ انڈین نیشنل لوک دل، تیلنگانہ راشٹریہ سمیتی اور جنتا دل (سکیولر) کی جانب سے حکومت کے حق میں ووٹ دیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

اگر اراکین کی تعداد پر غور کریں تو حکومت کو اس وقت بظاہر کوئی خطرہ نظر نہیں آ رہا ہے اور وہ پارلیمنٹ ميں اپنی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائے گی لیکن ملک کی سیاسی تاریخ میں ایسا بھی لمحہ آ چکا ہے جب محض ایک ووٹ سے حکومت گر گئی تھی۔

بھابھا اٹاماک سنٹر معاہدے پر اختلافات
ہند ،امریکہ جوہری معاہدے میں تعطل جاری
وزیراعظم منموہن سنگھہند امریکہ معاہدہ
جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد