BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 July, 2008, 11:25 GMT 16:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جوہری معاہدے کے نشیب و فراز
منموہن سنگھ اور جارج ڈبلیو بش
جوہری معاہدے پر بائیں بازو اور حکومت کے درمیان شروع ہی سے اختلافات تھے
آٹھ جولائی 2008
مرکز میں مخلوط ترقی پسند اتحادی یعنی یو پی اے کے اتحادی بائیں بازو نے حمایت واپسی کا اعلان کیا۔ بدھ کو وہ صدر سے ملاقات کر کے باضابطہ طور پر حمایت واپس لے لیں گے۔

چار جولائی 2008
بائیں بازو نے حکومت کو ایک خط لکھ کر سات جولائی تک وقت دیا اور کہا کہ حکومت یہ واضح کرے کہ کیا وہ ہند امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق بین الاقوامی توانائی کے ادارے آئی اے ای اے سے مذاکرات کےلیے جا رہی ہے یا نہیں۔

ایک جولائی 2008
بائیں بازو کی ایک اہم جماعت مارکسی کمیونسٹ پارٹی نے کہا کہ وہ ہند امریکہ جوہری معاہدے پر متحدہ ترقی پسند اتحاد سے حمایت واپس لینے پر غور کر رہی ہے۔

23 جون 2008
جوہری معاہدے نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کیا۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹ بیورو کے ممبر ایم کے پندھے نے سماج وادی پارٹی کو متبنہ کیا کہ اگر وہ جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہیں تومسلمان ان سے الگ ہوسکتے ہیں۔
25 جون 2008
جوہری معاہدے پر تعطل دور کرنے کے لیے یو پی اے کے اتحادیوں کی میٹنگ ہوئی، میٹنگ غیر نتیجہ خیز رہی۔

فروری 2008
امریکہ نے ہندوستان سے کہا کہ وہ صدر جارج ڈبلیو بش کی صدارت کی مدت کے ختم ہونے سے قبل جوہری معاہدے کو حتمی شکل دے دیں کیونکہ امریکہ میں نئی حکومت کے آنے کے بعد معاہدے پر از سر نو بات چیت کرنی پڑے گی۔
دسمبر 2008
بائیں بازو کی جماعتوں نے کہا کہ حکومت آئی ای اے ای سے بات چیت کرنا بند کرے۔
نومبر 2007
بائیں بازو نے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرتے ہوئےحکومت کو جوہری معاہدے سے متعلق آئی اے ای اے سے بات چیت کرنے کی اجازت دی۔ بعد میں بائیں محاذ نےحکومت پرگمراہ کرنے کا الزام لگایا۔

12 اکتوبر 2007
وزير اعظم نے جوہری معاہدے پر اپنے سابقہ عزم کے برعکس کہا ’اگر جوہری معاہدہ نہیں ہو پاتا ہے تو زندگی یہیں ختم نہیں ہوجاتی ہے۔‘ انہوں نے یہ بیان بائیں بازو کے دباؤ میں کہا تھا۔

اکتوبر 2007
کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے کہا کہ جوہری معاہدے کےمخالف ترقی در اصل ترقی کےمخالف ہیں۔اس کے بعد بائیں بازو اور حکومت کے اتحادیوں کے درمیان میٹنگ ہوئی جس کے بعد حکومت آئی ای اے ای سے رابط کرنے میں معمولی تاخیر کرنے پر آمادہ ہوگئی۔

اگست 2007
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی تفصیلات کو دونوں ملکوں میں ایک ساتھ جاری کیا گیا۔ ہندوستانی مبصرین نے اسے ملک کی ترقی کی ضرورتوں کے عین مطابق قرار دیا۔ بائيں بازو نے اس کی مخالفت کی اور کہا اگر حکومت یہ سمجھوتہ کرتی ہے تو وہ حمایت واپس لے لیں گے کیونکہ معاہدہ ملک کے مفاد کے خلاف ہے جبکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسے ملک کی ترقی کےلیے ضروری قرار دیا۔

جولائی 2007
ہندوستان اور امریکہ نے ایک ماہ کی طویل بات چیت کے بعد سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا۔ ہندوستان نے کہا کہ اگر اس میں کوئی شرط جوڑی جاتی ہے تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔

دسمبر 2006
امریکی پارلیمان کی جانب سے بنائے گئے قانون پر صدر جارج بش نے دستخط کیے۔ مبصرین کی رائے ميں آئندہ چھ مہینے میں معاہدے کو منظوری مل سکتی ہے۔

دسمبر 2006
امریکی پارلیمان نے سمجھوتے کی توثیق کی۔ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کےلیے پینتالیس ارکان پر مشتمل یورینیم سپلائر گروپ کے ممالک، آئی اے ای اے اور امریکی پارلیمان کی منظوری ضروری ہے۔

مارچ 2006
امریکی صدر جارج بش نے ہندوستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران ہندوستان نے سویلین اور فوجی استمعال کے جوہری جوہری ریکٹروں کو الگ الگ کرنے پر سمجھوتہ ہوا۔

جولائی 2005
وزیراعظم منموہن سنگھ اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش جوہری معاہدے پر رضامند ہوئے۔ یہ سمجھوتہ گزشتہ تیس برسوں سے ہندوستان کے ساتھ جوہری معاہدے نہ کرنے کی حکمت عملی کے بلکل برعکس تھا۔

ملائم سنگھ یادونئی صف بندیاں
ملائم سنگھ حکومت کے نئے سیاسی مسیحا
بھابھا اٹاماک سنٹر معاہدے پر اختلافات
ہند ،امریکہ جوہری معاہدے میں تعطل جاری
وزیراعظم منموہن سنگھہند امریکہ معاہدہ
جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد