کیا بائیں محاذ سے غلطی سرزد ہوئی ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بائیں بازو کے اتحاد نے کانگریس کی قیادت والی مخلوط حکومت سے جوہری ڈیل کے تنازعہ پر الگ ہونےکا فیصلہ کیا ہے لیکن کیا ہندوستان کے موجودہ سیاسی تناظر میں مہنگائی اور بے روزگاری کا دامن تھامنا بہتر نہ ہوتا؟ یہ بات تو سب پر عیاں تھی کہ بایاں محاذ پارلیمانی انتخابات سے قبل حکومت سے علیحدہ ہو جائے گا کیونکہ مغربی بنگال اور کیرالہ جیسی بڑی ریاستوں میں اقتدار کے لیے اس کا مقابلہ کانگریس سے ہی ہوتا ہے۔ اور پارلیمانی انتخابات میں، جو اب سے لیکر آئندہ برس کے اوائل تک کبھی بھی کرائے جاسکتے ہیں، بائیں محاذ کے لیے حکومت کے ساتھ رہتے ہوئے انتخابی مہم میں اس کی مخالفت کرنا ممکن نہ ہوتا۔
یہ بات بھی سب پر ظاہر تھی کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کو بایاں محاذ کسی قیمت قبول نہیں کرسکتا۔ یہ نظریاتی اختلاف کا معاملہ تھا کیونکہ ان کا دیرینہ موقف یہ رہا ہے کہ اس سمجھوتے سے ہندوستان کی خارجہ اور جوہری پالیسی میں امریکی مداخلت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی حکومت نے گزشتہ چار برسوں میں کبھی بھی جوہری معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی بات نہیں کی۔ اور نہ ہی کسی مرحلے پر ایسا لگا کہ بایاں محاذ اپنے موقف میں نرمی کرسکتا ہے۔ لہذا اس مرحلے پر حمایت واپس لینے کے اعلان کی دو ہی وحوہات ہوسکتی ہیں۔ ایک تو وہ جو بایاں محاذ بتا رہا ہے: یعنی اب اسے یقین ہوگیا ہےکہ حکومت جوہری ڈیل کو عملی جامہ پہنانے سے گریز نہیں کرے گی۔ یا دوسرا یہ کہ اسے پارلیمانی انتخابات سے قبل حکومت سے الگ ہونے کے لیے کوئی بڑا اشو چاہیےتھا جس سے وہ انتخابی مہم کے دوران فائدہ اٹھا سکیں۔ اور اس دوسرے امکان کے لیے اس کے سامنے دو راستے تھے: مہنگائی یا جوہری معاہدہ۔ ہندوستان میں مہنگائی نے تیرہ برس کا ریکارڈ توڑا ہے اور حکومت حالیہ برسوں کی زبردست اقتصادی ترقی کے باوجود بے روزگاری کم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ بائیں محاذ کا فیصلہ کتنا درست ثابت ہوتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران عوام جوہری معاہدے کے فائدے اور نقصان پر تقاریر سننا پسند کریں گے یا بے روزگاری اور مہنگائی کے مسئلے پر جس سے ان کی زندگیاں محال ہو گئی ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ بائیں محاذ کا فیصلہ صحیح ہو لیکن ایک امکان یہ بھی ہے کہ انیس سو چھیانوے میں وزیر اعظم کا عہدہ (جب جیوتی بسو کو وزارت عظمیٰ کی پیش کش کی گئی تھی) ٹھکرانے کے بعد بائیں بازو کی جماعتوں نے اپنی سیاسی تاریخ کی دوسری سب سے بڑی غلطی کردی ہو۔ |
اسی بارے میں ہندوستان: نئی صف بندی کا آغاز08 July, 2008 | انڈیا ’حکومت پر آنچ نہیں آنے دیں گے‘08 July, 2008 | انڈیا بایاں بازو حکومت سے الگ ہوگیا08 July, 2008 | انڈیا ڈیل یا نو ڈ یل: دلی میں اہم میٹنگ25 June, 2008 | انڈیا جوہری معاہدہ : حکومت پردباؤ24 June, 2008 | انڈیا ہند۔امریکہ جوہری معاہدہ، تعطل برقرار07 May, 2008 | انڈیا نیوکلیئر معاہدہ، دلی میں اہم اجلاس22 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||