BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 08 July, 2008, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہند- امریکہ جوہری معاہدے کےاہم نکات

بھابھا اٹومک سنٹر
غیر معامول صورت حال میں یہ معاہدہ باہمی صلاح و مشوروں کے بعد معطل کیا جاسکتا ہے
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان سول جوہری اشتراک کے مجوزہ معاہدے کے اہم نکات ذیل ہيں۔

٭٭ جوہری توانائی کی جدید ترین تحقیق و ترقی میں اشتراک۔

٭٭ جوہری توانائي سے متعلق حفاظتی امور میں تعاون۔

٭٭ دونوں ممالک کے جوہری سائنس داں باہمی تحقیق، سیمنار اور میٹنگوں کے لیے ایک دوسرے کے ملک جا سکیں گے۔

٭٭ جوہری ریکٹروں کے سلسلے میں مکمل تعاون کرنا اور دونوں ملکوں اور منظور شدہ افراد کے درمیان صنعتی سطح پر جوہری ایندھن اور جوہری ٹکنولوجی کا تبادلہ۔

٭٭ ہندوستان اپنے ری ایکٹروں کے کام کرنے کی عمر تک ایندھن کی سپلائي برقرار رکھنے کے لیے ایندھن کا ذخیرہ کرسکے گا۔

 بائيں بازو کی جماعتوں اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ ان شرائط کے تحت ہندوستان ضرورت پڑنے پر جوہری دھماکے نہيں کر سکے گا اور دوسرے یہ کہ امریکہ جب چاہے وہ اس معاہدے کو ختم کر کے سپلائی روک سکتا ہے

٭٭ ماحولیات، موسمی تبدیلیوں، صنعت اور زراعت سمیت نیوکلیر سائنس میں ایڈوانس تحقیق میں اشتراک۔

٭٭ جوہری ساز و سامان کی سپلائی۔

٭٭منتقل کیے جانے والے ایندھن اور تمام جوہری ساز و سامان اور اس سے پیدا ہونے والے اضافی مادے عالمی جوہری ادارے آئی اے ای اے کی نگرانی کے دائرے میں رہیں گے۔

٭٭ ہندوستان کے سبھی سول جوہری ری ایکٹڑز آئی اے ای اے کے معائنے کے دائرے میں آئيں گے۔

٭٭اگر دونوں فریقوں میں سے کسی نے بھی معاہدے گی خلاف وزری کو تو دونوں فریق فورا صلاح و مشورے سے ایسا کوئی حل نکالیں گے جس سے دونوں کے جائز مفاد کا تحفظ ہو۔

٭٭معاہدہ ٹوٹنے کی صورت ميں معاہدے کے تحت جو بھی جوہری سازو سامان ، ایندھن اور غیر جوہری سامان منتقل کیے گیے وہ واپس کرنے ہونگے۔

٭٭غیر معامول صورت حال میں یہ معاہدہ باہمی صلاح و مشوروں کے بعد معطل کیا جائے گا۔

 یہ معاہدہ 40 برس کے لیے ہوگا۔ اس کے بعد یہ مزید دس دس برس تک کے لیے بڑھیایا جاسکتا ہے۔ دونوں فریق چالیس برس بعد چھ مہینے کی نوٹس پر کبھی بھی معاہدہ ختم کر سکتے ہيں

بائيں بازو کی جماعتوں اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ ان شرائط کے تحت ہندوستان ضرورت پڑنے پر جوہری دھماکے نہيں کر سکے گا اور دوسرے یہ کہ امریکہ جب چاہے وہ اس معاہدے کو ختم کر کے سپلائی روک سکتا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس معاہدے کے عوض امریکہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کرے گا۔

یہ معاہدہ 40 برس کے لیے ہوگا۔ اس کے بعد یہ مزید دس دس برس تک کے لیے بڑھایا جاسکتا ہے۔ دونوں فریق چالیس برس بعد چھ مہینے کی نوٹس پر کبھی بھی معاہدہ ختم کر سکتے ہيں۔ جبکہ 40 برس کے معاہدے کے دوران معاہدہ ختم کرنے کے لیے ایک برس کا تحریری نوٹس دینا ہوگا۔

معاہدے کے موثر نفاذ کے لیے ایک انتظامی طریقہ کار وضع کیا جائے گا۔

منموہن سنگھ اور جارج ڈبلیو بشجوہری معاہدہ
ہند امریکی جوہری معاہدے کےنشیب و فراز
ملائم سنگھ یادونئی صف بندیاں
ملائم سنگھ حکومت کے نئے سیاسی مسیحا
بھابھا اٹاماک سنٹر معاہدے پر اختلافات
ہند ،امریکہ جوہری معاہدے میں تعطل جاری
وزیراعظم منموہن سنگھہند امریکہ معاہدہ
جوہری معاہدہ آخری مرحلے میں: منموہن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد