BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 July, 2008, 11:19 GMT 16:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیامیں جوہری توانائی کتنی اہم؟

بھابھا اٹامک سنٹر
ماحولیاتی نقتئہ نظرسے جوہری بجلی کوایک بہتر اور صاف متبادل سمجھا جاتا ہے
ہندوستان میں ہند امریکہ جوہری معاہدہ اس قدر متنازعہ بن گیا کہ حکمراں اتحاد میں پھوٹ پڑ گئی اور حکومت کو پارلیمنٹ میں دوبارہ اعتماد کاووٹ حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ آخرہندوستان کی حکومت جوہری توانائی پر اتنا زور کیوں دے رہی ہے۔؟

ہندوستان میں گزشتہ برسوں میں اقتصادی ترقی کی رفتار بہت تیز رہی ہے اور اسی رفتار سے بجلی کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت ملک میں روایتی تھرمل اور ہائیڈرو پاور اسٹیشنوں سے تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدہ ہو رہی ہے۔ جب کہ جوہری ری ایکٹروں میں چار ہزار میگاواٹ بجلی پیدہ کرنے کی صلاحیت ہے۔

حکومت نے اب بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے روایتی طریقوں کے ساتھ ساتھ جوہری توانائی پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کم قیمت پر بجلی
 اس وقت ہندوستان میں 17 جوہری ری ایکٹر کام کر رہے ہیں اور چھ زیر تعمیر ہیں۔ جوہری ری ایکٹروں سے جو بجلی پیدہ ہوتی ہے اس پر چونکہ اخراجات کم ہوتے ہیں اس لیے اس کی فی یونٹ بجلی کی قیمت بھی کم ہوتی ہے

اس وقت ہندوستان میں 17 جوہری ری ایکٹر کام کر رہے ہیں اور چھ زیر تعمیر ہیں۔ جوہری ری ایکٹروں سے جو بجلی پیدہ ہوتی ہے اس پر چونکہ اخراجات کم ہوتے ہیں اس لیے اس کی فی یونٹ بجلی کی قیمت بھی کم ہوتی ہے۔ اس وقت اوسط ایک یونٹ بجلی ڈھائی روپے کی پڑتی ہے۔ ملک کے سب سے پرانے ری ایکٹر تاراپور – ون اور ٹو میں تو یہ قیمت محض ایک روپیہ ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر میں چار سے ساڑھے چار برس تک لگتے ہیں۔ ہندوستان نے خود اپنی ٹیکنالوجی کے زور پرسنہ 2020 تک اپنی بجلی پیدہ کرنے کی صلاحیت چار ہزار سے بڑھا کر 20 ہزار میگاواٹ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ طویل مدتی منصوبے کے تحت سنہ 2052 تک ایٹمی ری ایکٹروں سے دو لاکھ میگاواٹ بجلی حاصل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

جوہری توانائی محکمہ کے ترجمان سوپنیش ملہوترانے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں جوہری ٹیکنالوجی جدید نوعیت کی ہے اور یہاں کے ری ایکٹر اعلیٰ درجے کے ہیں ۔یہاں آبادی بہت زیادہ ہے اور بجلی کی مانگ بھی اسی کی مناسبت سے بہت زیادہ ہے۔

ہماری پرابلم
 ہندوستان میں جوہری ٹیکنالوجی جدید نوعیت کی ہے اور یہاں کے ری ایکٹر اعلیٰ درجے کے ہیں لیکن ہماری پرابلم یہ ہے کہ ہمارے پاس یورینیم نہیں ہے اگر قدرت نے ہمیں یورینیم دی ہوتی تو ہیمں کسی سے کوئی سودا کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی
سوپنیش ملہوترا، سائنسدان محکمہ جوہری توانائی

بقول ملہوترا ’ہماری پرابلم یہ ہے کہ ہمارے پاس یورینیم نہیں ہے اگر قدرت نے ہمیں یورینیم دی ہوتی تو ہمیں کسی سے کوئی سودا کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔‘

سائنسدان سوپنیش ملہوترہ بتاتے ہیں کہ ایک ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والے جوہری ری ایکٹر کو سال بھر چلانے کے لیے 160 ٹن یورینیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگرامریکہ سے جوہری اشتراک کا معاہدہ عمل میں آگیا تو ہندوستان نے اس صدی کے وسط تک نو لاکھ میگاواٹ کی اپنی بجلی کی ضروریات کی 26 فی صد سپلائی جوہری ری ایکٹروں سے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔

اس وقت پوری دنیا میں تقریبا 439 ایٹمی ری ایکٹر کام کر رہے ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 104 ری ایکٹرز امریکہ میں ہیں۔ فرانس میں 59 ری ایکٹرز ہیں اور وہ اپنی80 فی صد بجلی کی ضروریات انہیں جوہری ری ایکٹروں سے پورا کرتا ہے۔

ماحولیاتی نقتئہ نظرسے جوہری بجلی کوایک بہتر اور صاف متبادل سمجھا جاتا ہے۔ ہندوستان یہ توقع کر رہا ہے کہ اگر ہند امریکہ جوہری معاہدہ تکمیل کو پہنچ گیا تو اس کی بجلی کی قلت کا مسئلہ بہت حد تک ختم ہو سکتا ہے۔

ملائم سنگھ یادونئی بحث
ہند امریکہ جوہری ڈيل ہندو ہے یا مسلمان؟
فائل فوٹوبائیں محاذ کا فیصلہ
مہنگائی پر جوہری ڈیل کو ترجیح، صحیح فیصلہ؟
منموہن سنگھ اور جارج ڈبلیو بشجوہری معاہدہ
ہند امریکی جوہری معاہدے کےنشیب و فراز
ملائم سنگھ یادونئی صف بندیاں
ملائم سنگھ حکومت کے نئے سیاسی مسیحا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد