BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 July, 2008, 08:24 GMT 13:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بایاں محاذ، حمایت واپس لینے پرغور

ہند امریکہ جوہری معاہدے پر
جوہری معاہدے پر حکومت اور بایاں محاذ کے درمیان اختلافات گہرائے
ہندوستان میں کانگریس کی قیادت والے حکمراں محاذ اور کمیونسٹ پارٹیوں کے درمیان ہند امریکہ جوہری معاہدے پر اختلافات اتنے بڑھ چکے ہیں کہ بائیں محاذ کو اب محض یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ حکومت کی حمایت کب ختم کرتا ہے۔

بائیں بازو کی جماعتوں کا یہ کوئی نیا موقف نہیں ہے لیکن اس میں وزير اعظم منموہن سنگھ کے اس بیان سے مذید شدت آئی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر پارلیمان کا سامنا کرنے کو تیار ہیں۔‘

کانگریس پارٹی نے بھی وزیر اعظم کے اس بیان کی حمایت کی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ جوہری معاہدے پر پیچھے ہٹنے والی نہیں اور اگر اس نیتے میں جلد انتخابات ہوتے ہیں تو وہ اس کے لیے تیار ہے۔

پارٹی کی ترجمان جینتی نٹراجن نے کہا کہ ’وزیراعظم نے جو بھی کہا ہے تو ہم یہ بتا دیں کہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے ہم بھی پابند ہیں اور اس کو آگے لے جانے کے بھی پابند ہیں۔‘

اس بیان کے بعد ہی مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سینیئر رہنما سیتا رام یچوری نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ اگر حکومت نے ہند امریکہ جوہری معاہدے کے حوالے سے اگلا قدم اٹھایا تو ہم حمایت واپس لے لیں گے، اب انہوں نے اپنا موقف دہرایا ہے تو پھر انہیں آگے بڑھنے دیجیے ہم بھی اپنے فیصلے کا مناسب وقت پر اعلان کردیں گے۔‘

 ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ اگر حکومت نے ہند امریکہ جوہری معاہدے کے حوالے سے اگلا قدم اٹھایا تو ہم حمایت واپس لے لیں گے اب انہوں نے اپنا موقف دہرایا تو پھر انہیں آگے بڑھنے دیجیے ہم بھی اپنے فیصلے کا مناسب وقت پر اعلان کردیں گے۔
کمیونسٹ رہنما سیتا رام یچوری

امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے پر بایاں محاذ اور حکمراں جماعت میں اختلافات پرانے ہیں اور اسے حل کرنے کے لیے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں لیکن مسئلہ حل نہیں ہوپایا ہے۔ بائیں محاذ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے بھارت کی خارجہ پالیسی امریکہ کی مرہون منت ہو جائےگی۔

امریکہ کی طرف اس معاہدے کی تکمیل کے لیے بھارتی حکومت پر دباؤ ہے اور وزیراعظم منموہن سنگھ اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں آئندہ سات جولائی سے جاپان میں جی 8 کانفرنس شروع ہونے والی ہے اور اطلاعات ہیں کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اس کانفرنس میں اس یقین دہانی کے ساتھ شرکت کرنا چاہتے ہیں کہ جوہری معاہدہ کو آگے بڑھایا جائے۔ کانفرنس میں اس حوالے سے ان کی ملاقات امریکی صدر جارج بش سے بھی ہوگی ہے۔

بائیں محاذ کا کہنا ہے کہ جی 8 کانفرنس میں وزیراعظم کی شرکت اس بات کا اشارہ ہوگی کہ حکومت جوہری معاہدے پر آکے بڑھ رہی ہے۔ سی پی ایم کے جنرل سکریٹری پرکاش کرات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یہی وجہ ہے کہ ہم آپس میں اس بات پرمشورہ کر رہے ہیں کہ حکومت سے حمایت کب واپس لی جائے۔‘

دلی میں گزشتہ کئی دنوں سے امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کے حوالے سے زبردست سیاسی گرمی کا ماحول ہے۔ بائیں محاذ کے 59 ارکان پارلیمان ہیں اور حمایت واپس لینے کی صورت میں حکومت اقلیت میں ہوجائےگی۔ لیکن ایک پہلو یہ بھی ہے ابھی کوئی جماعت عام انتخابات نہیں چاہتی ہے۔

حکومت کہتی ہے توانائی کی ضرورت کو پورا کرنےکے لیے جوہری معاہدہ ضروری ہے

خبریں گرم ہیں کہ حکمراں کانگریس نے اس کے لیے سماج وادی پارٹی سے بات چیت شروع کر دی ہے اور بائیں محاذ کی طرف سے حمایت ختم ہونے کی صورت میں وہ سماج وادی پارٹی کے انتالیس ارکان کی مدد حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

سماج وادی پارٹی کے بائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں اس لیے تمام سیاسی جماعتیں اپنے داؤں پیچ میں لگی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ اس بارے اپنی ہم خیال جماعتوں کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد تین جولائی تک کوئی فیصلہ کرےگی۔

ادھر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اگر کمیونسٹ جماعتوں نے حکومت سے حمایت واپس لی تو وہ پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کریں گے۔

بی جے پی کا کہنا ہے کہ سی پی ایم کی حمایت واپسی کے بعد حکومت کو اقتدار میں رہنے کا اخلاقی اختیار ختم ہو جاتا ہے اس لیے ایسے حالات میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا لازمی ہوجائےگا۔

فی الوقت ملک میں جو سیاسی صورت حال ہے اس سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عام انتخابات قبل از وقت ہوجائیں گے۔ بی جے پی نے لوک سبھا کے انتخابات کے لیے بعض امیدواروں کے نام جاری کر دیے ہیں تو سنیچر کو کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی نے بھی اپنے کارکنوں اور لیڈروں سے کہا تھا کہ وہ عام انتخابات کی تیاری میں لگ جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد