جوہری معاہدہ: ہندو کا یا مسلمان کا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں سیاست کا تانابانا کچھ ایسا ہے کہ کسی بھی مسئلے کو مذہبی رنگ دینا یا پھر اسے ذات پات سے جوڑ دینا ایک عام بات ہے۔ حکومت کی کسی پالیسی یا اہم فیصلے پر بحث میں بالآخر یہ دو پہلو سب سے زیادہ اچھالے جاتے ہیں اور ہند امریکہ جوہری معاہدے پر بحث میں بھی اب یہ پہلو غالب ہوگيا ہے کہ آیا اس معاہدے کی مسلمان حمایت کر رہے یا نہیں۔ اس بحث کا آغاز اس وقت ہوا جب مارکس وادی کمیونسٹ پارٹی کے ایک رہنما ایم کے پندھیر نے یہ کہا کہ سماج وادی پارٹی نے اگر ہند امریکہ جوہری معاہدے کی حمایت کی تو ’مسلمان رائےدہندگان ان سے الگ ہوسکتے ہیں۔‘ گرچہ سی پی ایم نے اپنے اس بیان کو دوسرے روز ہی واپس لے لیا تھا لیکن جوہری معاہدے کے حوالے سے ایک نئی بحث کے آغاز کے لیے یہی بہت تھا۔ اترپردیش کی وزیر اعلٰی مایاوتی کو جب پتہ چلا کہ ریاست میں ان کی مخالف جماعت سماج وادی پارٹی نے کانگریس سے ہاتھ ملانے کا فیصلہ کر لیا ہے تو انہوں نے بھی ملائم سنگھ پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ ’امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ مسلمانوں کے خلاف ہے اور ملائم سنگھ نے ان کے جذبات کا خیال نہیں رکھا۔‘
اس بیان کے فورا بعد لکھنؤ کے بعض مولانا حضرات نے مایا وتی سے ملاقات کی اور ان کے اس بیان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ لکھنؤ میں مولانا کلب صادق اور کلب جواد نے بھی امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدے کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ گزشتہ روز سماج وادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو نے جب معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تو انہوں نے مسلم ارکان پارلیمان کے نام گناتے ہوئے کہا ’ ہم سب نے متفقہ طور پر جوہری معاہدے کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔‘ بعد میں پارٹی کے جنرل سیکریٹری امرسنگھ نے اس بارے میں مزید وضاحت کی۔’ ہمارا ماننا ہے کہ مسلمان ہندوستانی پہلے ہے بعد میں اس کا مذہب ہے۔ جو لوگ اس معاہدے کو ہندو یا مسلمان ڈیل کہہ رہے ہیں تو ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔‘ امر سنگھ نے اس موقع پر ان فتووں کا بھی ذکر کیا جو اس معاہدے کی حمایت میں مختلف مدرسوں اور مکتب فکر کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔
امر سنگھ نے کہا ’دیوبند، بریلوی مکتب فکر، بہرائچ اور کئی شہروں کے مسلمانوں نے جوہری معاہدے کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔‘ تاہم اس بارے میں بعض حلقوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جوہری معاملات اور جوہری معاہدے کے بارے میں فیصلہ کرنا مولانا حضرات، مدرسے یا اماموں کا کام نہیں بلکہ ملک کے سائنس دانوں کا ہے۔ اس بحث میں حصہ لیتے ہوئے کشمیری رہنماؤں عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بھی وضاحت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کو فائدہ ہے اور اسے’ ہندو یا مسلمان کی ڈیل کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔‘ ذرائع بلاغ میں بحث کے دوران ایک پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ سماج کا ایک طبقہ نفع اور نقصان سے الگ اسے صدر بش اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کے درمیان کا ایک معاہدہ مانتا ہے اور چونکہ صدر بش کی پالیسیز سے مسلمان عام طور پر ناراض ہیں اس لیے بہت سے مسلمان حکومت کے اس فیصلے سے ناخوش ہیں۔ اس پوری بحث میں کئی مسلم رہنماؤں سے بھی ایسے ہی سوال کیے گئے اور بعض اس پہلو سے متفق بھی تھے۔ لیکن سب کا یہی کہنا تھا کہ معاہدہ اگر ملک کے مفاد میں بھی ہو تو بھی سب کو اعتماد لے کر آگے بڑھنا چاہیے۔
میڈیا میں بحث کے ساتھ ساتھ بعض اخبارات نے ایسے جائزے بھی پیش کیے ہیں کہ کتنے فیصد مسلمان اس معاہدے کے حق میں ہیں اور کتنے اس کے مخالف ہیں۔ دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انہیں دیکھ کر بعض جائزوں سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ کون کس خیمے میں ہیں۔ گذشتہ تقریبا دو برس سے جوہری معاہدے کے مختلف نکات پر بحث و مباحثے ہوتے رہے ہیں لیکن ڈیل مسلمان کی ہے یا ہندو کی یہ اس کا نیا پہلو ہے اور بعض مبصرین کے مطابق یہ انتخابات سے قبل کا ایک نیا نعرہ ہے۔ اس معاہدے کے ابتداء میں ہی ہندوستان نے اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف ووٹ دیا تھا اور اس وقت ریاست کیرالا کے اسمبلی انتخابات میں یہ ایک اہم موضوع بنا تھا۔ فی الوقت بائیں محاذ کے رخ سے ایسا لگتا ہے کہ آئندہ اسمبلی اور عام انتخابات میں یہ ایک اہم موضوع ہوگا اور اسے بش بنام منموہن پیش کیا جاسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں بایاں بازو حکومت سے الگ ہوگیا08 July, 2008 | انڈیا ڈیل یا نو ڈ یل: دلی میں اہم میٹنگ25 June, 2008 | انڈیا جوہری معاہدہ : حکومت پردباؤ24 June, 2008 | انڈیا ہند۔امریکہ جوہری معاہدہ، تعطل برقرار07 May, 2008 | انڈیا نیوکلیئر معاہدہ، دلی میں اہم اجلاس22 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر مذاکرات بےنتیجہ 09 October, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||