جوہری معاہدہ، 7جولائی کی ڈیڈ لائن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہند امریکہ جوہری معاہدے پر حکومتی اتحاد اور اس کی حمایتی بائيں بازو کی جماعتوں کا رشتہ ٹوٹنے کے قریب پہنچ گیا ہے۔ بائیں بازو کی جماعتوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر کانگریس کی سربراہی والی حکومت اس ڈیل کے اگلے مرحلے کے لیے ایٹمی توانائی کے بین الاقوامی ادارے آئی اے اي اے کے پاس جاتی ہے تو وہ حکومت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لےگی۔ اس سلسلے میں بائیں بازو نے جمعہ کو وزیر خارجہ پرنب مکھر جی کو ایک خط لکھا ہے جس میں سات جولائی سے قبل ان سے یہ جواب مانگا ہے کہ وہ یہ واضح کریں کہ حکومت نے آئی اے ائی اے میں جانے سے متعلق کیا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر کانگریس کی طرف سے یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ وہ اس معاہدے کو جلد از جلد مکمل کرنے کے لیے کسی بھی قسم کے اختلافِ رائے کو آگے آنے دینا نہیں چاہتی ہے۔ فی الوقت بایاں محاذ اس انتظار میں ہے کہ حکومت کب یہ اعلان کرتی ہے کہ وہ جوہری معاہدے سے متعلق اگلے مرحلے کے لیے آئی اے ائی اے جا رہی ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ جیسے ہی حکومت اپنے قدم کا باضابطہ اعلان کرے گی وہ اپنی حمایت واپس لے لے گی۔
ادھر کانگریس بھی آنے والے دنوں کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سیاسی جوڑ توڑ میں لگ گئی ہے۔ اس کی ترجیح یہی ہے کہ کس طرح وہ دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کر کے اپنی حکومت کو اقلیت میں نہ آنے دے۔ اس سلسلے میں ظاہری طور پر سماج وادی پارٹی کانگریس کی پہلی پسند نظر آ رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادو اور پارٹی کے جنرل سیکرٹری امر سنگھ نے ابھی تک ظاہری طور پر یہ واضح نہيں کیا ہے کہ کیا وہ کانگریس کو حمایت فراہم کریں گے یا نہیں۔ حالانکہ اتنا ضرور ہے کہ امر سنگھ قومی سلامتی کے مشیر ایم کے نارائنن اور سابق صدر عبدالکلام سے جوہری معاہدے کے سلسلے میں ملاقات کر چکے ہیں اور جمعہ کو اپنے رہنما ملائم سنگھ کے ساتھ وزیراعظم اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سے بھی ملے ہیں ۔ اس ملاقات کے بعد سماج وادی نے یہ تو واضح کر دیا ہے کہ جوہری معاہدے سے متعلق ان کے تمام خدشات دور ہو گئے ہیں۔ کانگریس اور بائیں محاذ کے درمیان اگر یہ کہیں کہ پہلے آپ اور پہلے آپ کا کھیل چل رہا ہے تو شاید غلط نہيں ہو رہا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ سماج وادی کی جانب سے اپنے طور پر فیصلہ کیے جانے کے بعد بھی وہ سیاسی کشمکش قائم رکھنا چاہتی ہے۔
اس وقت سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اگر بائيں محاذ حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لیتا ہے تو کیا ہوگا؟ لوک سبھا کی کل 545 سیٹیں ہیں اور اکثریت حاصل کرنے کے لیے 273 سیٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ پارلیمان میں حکمراں اتحاد کے پاس 224 سیٹیں ہیں جبکہ انہیں بائيں محاذ کے 61 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ اگر بایاں محاذ اپنی حمایت واپس لے لیتا ہے تو حکمراں اتحاد کو اکثریت حاصل کرنے کے لیے کم از کم 50 اراکین کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔ فی الوقت سماج وادی پارٹی کے 39 اراکین ہیں۔ اور کانگریس اس امید میں ہے کہ چھ آزاد اور چار دیگر اراکین کی مدد سے وہ آسانی سے اپنی اکثریت ثابت کر دے گي۔ تاہم ایک بات تو طے ہے ایسی اتھل پتھل کے درمیان آئندہ عام انتخابات میں تقریباً ہر سیاسی جماعت کو عوام میں یہ یقین دہانی کروانی ہوگی کہ انہیں ووٹ دینا ہی ملک کی بہتری کے لیے ہوگا۔ کیونکہ عوام کے لیے جوہری معاہدے اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے جتنا بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے۔ | اسی بارے میں ڈیل یا نو ڈ یل: دلی میں اہم میٹنگ25 June, 2008 | انڈیا جوہری معاہدہ : حکومت پردباؤ24 June, 2008 | انڈیا پرنب مکھرجی امریکہ کے دورے پر23 March, 2008 | انڈیا جوہری معاہدہ: ’وقت بہت کم ہے‘06 March, 2008 | انڈیا ’جوہری معاہدے پر نظرثانی کرینگے‘28 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر اہم مذاکرات21 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، امریکہ کی ضرورت 21 November, 2007 | انڈیا امریکہ جوہری ڈیل کےاطلاق کا خواہاں30 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||