حمایت واپسی سے جیوتی بسو ناخوش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی کے مقتدر رہمنا اور مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلی جیوتی باسو نے ہند امریکہ جوہری معاہدے پر موجودہ سیاسی حالات پر اپنی ناخوشی کا اظہار کیا ہے۔ پچانوے سالہ جیوتی بسو نے بدھ کو نامہ نگاروں کو بتایا’جس طرح کانگریس جوہری معاہدے کے حمایت کر رہی ہے میں چاہتا ہوں کہ میرے ساتھی جوہری معاہدے کی مخالفت کریں لیکن میں یہ نہیں چاہتا کہ کانگریس کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے حکومت کے خلاف ووٹ دیں۔ یہ قدم ہندو نواز سیاسی جماعتوں کے لیے بہت مدد گار ثابت ہوگا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا’ہمیں اب نہایت ہی احتیاط برتنی چاہیے کیونکہ ہماری کوئی بھی غلطی مذہبی سخت گیروں کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔‘ کمیونسٹ پارٹی کے لیڈر کا یہ مشورہ نوجوان قیادت کو ایسے وقت میں دیا گیا ہے جب بائیں محاذ کی سبھی جماعتوں کے لیڈروں نےصدر مملکت سے ملاقات کی اور ہند-امریکہ جوہری معاہدے پرحکومت سے اپنی حمایت واپس لینے کے فیصلے سے انہیں مطلع کیا۔ بائیں محاذ کا یہ قدم وزیر اعظم منموہن سنگھ کے اس بیان کے بعد اٹھایاگیا ہے جس میں وزیر اعظم نے کہا تھا کہ حکومت بہت جلد جوہری معاہدے سے متعلق بات چیت کے لیے عالمی جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے جار رہی ہے۔ بائیں محاذ کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے کے سبب امریکہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ |
اسی بارے میں کمیونسٹوں نے صدر سے ملاقات کی09 July, 2008 | انڈیا جوہری معاہدے کے نشیب و فراز08 July, 2008 | انڈیا جوہری معاہدے کے نشیب و فراز08 July, 2008 | انڈیا ہند- امریکہ جوہری معاہدے کےاہم نکات08 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||