معاہدہ ضوابط کے تحت: البرادعی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی نے کہا ہے کہ انڈیا جس منصوبے کے تحت اپنے بعض ایٹمی ری ایکٹرز اقوام متحدہ کی نگرانی میں دینے کو تیار ہے وہ آئی اے ای اے کے ضوابط کے تحت ہیں۔ محمد البرادعی ویانا میں ایٹمی توانائی سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے یعنی انٹرنیشنل اٹامِک اینرجی ایجنسی کے ایک خصوصی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ محمد البرادعی نےکہا کہ اگرچہ ہند-امریکہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کے لیے آئی اے ای اے کو پیش کیا جانے والا ایٹمی تنصیبات کی نگرانی کا انڈین منصوبہ جامع نہیں ہے تاہم یہ اقوام متحدہ کے ضوابط کے مطابق ہی ہے۔ آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں آئی اے ای اے کے اجلاس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ جمعہ کو امریکہ اور انڈیا کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کی منظوری دے گا۔ آئی اے ای اے کی منظوری جوہری معاہدے کی تکمیل کے لیے ایک اہم شرط ہے۔ انڈیا کی حکومت کہتی ہے کہ یہ جوہری معاہدہ اس کی توانائی کے ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری ہے۔ نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ معاہدے کو ان خدشات کے باوجود منظور کر لیا جائے گا کہ اس سے ایک ایسے ملک کو فائدہ پہنچے گا جس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ آئی اے ای اے سے معاہدہ مکمل ہو جانے کے بعد انڈیا غیرفوجی مقاصد کے لیے جوہری فضلے اور ٹیکنالوجی کی عالمی مارکیٹ میں شامل ہو سکے گا۔ اب تک ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے اس کے ایسا کرنے پر پابندی تھی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا کو آئی اے ای اے کی منظوری مِل گئی تو اس کے بائیس میں سے چودہ ری ایکٹر آئی اے ای اے کی مستقل نگرانی میں آ جائیں گے۔ اگست کے آخر میں انڈیا کو پینتالیس رکن ممالک پر مشتمل نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی منظوری بھی چاہیے ہو گی جو اسے حساس جوہری مواد کی تجارت کی اجازت دے گا۔ معاہدے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری بھی چاہیے۔ |
اسی بارے میں ایٹمی منصوبہ عالمی ادارے کو پیش10 July, 2008 | انڈیا ’ایٹمی ڈیل سلامتی کو خطرہ نہیں‘13 July, 2008 | انڈیا ’پہلےاعتماد کا ووٹ حاصل کريں گے‘ 08 July, 2008 | انڈیا ہند- امریکہ جوہری معاہدے کےاہم نکات08 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||