BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 July, 2008, 07:51 GMT 12:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بائیں محاذ کی ڈیل مخالف مہم
فائل فوٹو
جوہری معاہدے کی مخالفت میں بائیں محاذ نے بہوجن سماج پارٹی کی صدر مایا وتی سے ہاتھ ملایا ہے
ہندوستان میں بائیں بازو کی جماعتوں نے ہند امریکہ جوہری معاہدے اور مہنگائی کے خلاف آج سے ملک گیر مہم کا آغاز کیا ہے۔ اس موقع پر ملک بھر کے پارٹی کے کارکن دلی میں جمع ہوئے جس سے پارٹی کے بڑے رہنماؤں نے خطاب کریں گے۔

ہند امریکہ جوہری معاہدے کی مخالفت میں بائیں محاذ نے حکومت سے حمایت واپس لے لی ہے اور ان جماعتوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اب عوام کو یہ بتائیں گي کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا ہے۔

بایاں محاذ کا کہنا ہے کہ وہ ان وعدوں کی طرف بھی توجہ دلائےگا جنہیں حکومت نے پورا نہیں کیا ہے۔ مہم کے دوران ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر خاص توجہ دی جائےگی اور یہ بات بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ حکومت نے ان باتوں کو نظر انداز کر دیا ہے جن پر اسے ترجیحی بنیادوں پر عمل کرنا چاہیے تھا۔

بائیں محاذ کی طرف سے حکومت سے حمایت واپس لینے کے بعد سے سیاسی سرگرمیاں تیز تر ہوتی جارہی ہیں۔ امکان ہے کہ لوک سبھا کے سپیکر سومناتھ چٹرجی بھی اپنے استعفے کے بارے میں آج کوئی اہم فیصلہ کرنے والے ہیں۔ سومناتھ چٹرجی کا تعلق مارکسی کمیونسٹ پارٹی سے ہے اور ان کی جماعت کی طرف سے استعفی دینے کے لیے ان پر زبردست دباؤ ہے۔ اس بارے میں وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے گزشتہ روز بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ جیوتی باسو سے بھی ملاقات کی تھی۔

حکمراں کانگریس پارٹی اور بائیں محاذ کی جماعتیں اعتماد کے ووٹ کے لیے خصوصی لوک سبھا کے اجلاس کے متعلق اپنی اپنی حکمت عملی طے کرنے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں سے صلاح و مشورے میں مصروف ہیں۔ یہ خصوصی اجلاس اکیس اور بائیس‎ جولائی کے درمیان ہوگا۔

اس بارے میں سی پی ایم کے جنرل سکریٹری پرکاش کرات نےگزشتہ روز اترپردیش کی وزیر اعلی مایا وتی سے ملاقات کی تھی۔ امکان ہے کہ تیلگو دیشم پارٹی کے صدر چندرا بابو نائیڈو بھی مایا وتی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

اب تک کی صورت حال یہ ہے کہ جوہری معاہدے پر حکومت اور اس کی حریف جماعتیں تقریباً برابری پر ہیں اور آئندہ چند روز میں جو بھی گروپ چھوٹی چھوٹی جماعتوں کو اپنے ساتھ لانے میں کامیاب ہوگا وہی اس لڑائی میں فاتح ہو سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد