’اعتماد کا ووٹ بائیس جولائی کو‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں جوہری معاہدے کے معاملے پر حکومت سے بائیں محاذ کی علیحدگی کے بعد مخلوط حکومت کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ بائیس جولائی کو ایوان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر یں گے۔ جمعہ کو صدر جمہوریہ کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے مشورہ پر صدر پرتیبھا پاٹل نے اکیس جولائی کو لوک سبھا کا خصوصی اجلاس طلب کرنے کی منظوری دی ہے تاکہ حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کر سکے۔ اعتماد کی تحریک اکیس جولائی کو پیش کی جائے گی اور اس پر ووٹنگ بائیس تاریخ کو ہوگی۔ ادھر متحدہ ترقی پسند اتحاد’یو پی اے‘ کی سربراہ سونیا گاندھی نے یقین ظاہر کیا ہے کہ حکومت بغیر کسی پریشانی کے مطلوبہ اکثریت ثابت کر دے گی۔ واضح رہے کہ آٹھ جولائی کو بائيں محاذ نے حکومت کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا تھا اور اس نئی صورت حال کے پیش نظر جمعہ کو یو پی اے کی رابطہ کمیٹی کی میٹنگ وزیراعظم کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ اجلاس کے بعد مخلوط حکومت کے وزیر اور راشٹریہ جنتادل کے رہنما لالو پرساد یادو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جوہری معاہدہ ملک کے مفاد میں ہے اور مخلوط حکومت کی تمام پارٹیاں متحد ہو کر اعتماد کا ووٹ حاصل کریں گی۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ حکومت کی حمایت کا اعلان کرنے والی سماج وادی پارٹی انتشار کا شکار ہے جبکہ بعض دیگر علاقائی پارٹیوں نے، جن کی حمایت کا حکومت دعوٰی کرتی ہے، ابھی بھی واضح نہيں کیا ہے کہ اعتماد کی ووٹنگ کے دوران ان کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ دوسری جانب حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد ہی وہ جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گی۔ |
اسی بارے میں بایاں بازو حکومت سے الگ ہوگیا08 July, 2008 | انڈیا بایاں محاذ، حمایت واپس لینے پرغور 01 July, 2008 | انڈیا جوہری معاہدے کے نشیب و فراز08 July, 2008 | انڈیا جوہری معاہدے کے نشیب و فراز08 July, 2008 | انڈیا ہند- امریکہ جوہری معاہدے کےاہم نکات08 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||