’امریکی مشوروں کی ضرورت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی حکومت نے امریکہ کی اس تجویز کو سختی سے رد کردیا ہے کہ وہ ایران کو یورینیئم کی افزودگی سے باز رہنے کے لیے کہے۔ بھارت کی وزارت خارجہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نہ تو بھارت کو نہ ہی ایران کو اپنے آپس کے تعلقات کے بارے میں کسی بیرونی مشورے کی کوئی ضرورت ہے۔ ایرانی صدر انتیس مارچ کو بھارت کے مختصر دورے پر پہنچیں گے اور اپنے مختصر دورے میں وہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات صدیوں سے قائم ہیں اور دونوں ملک پوری احتیاط کے ساتھ ان تعلقات کو قائم رکھنے کے لائق ہیں۔ اس بیان سے پہلے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان ٹوم کےسی نے کہا تھا کہ صدر احمدی نژاد جب اگلے ہفتے بھارت کے دورے پر جائیں تو امریکہ کو بہت خوشی ہوگی کہ بھارت ان سے کہے کہ ایران اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی قراردوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنے جوہری پروگرام میں تخفیف کر دے۔ انڈیا اور ایران کے تعلقات میں اس وقت سرد مہری آ گئی تھی جب انڈیا نے انٹرنیشنل اٹامک انرجی میں ایران کے خلاف ووٹ ڈالا تھا۔ انڈیا کی کوشش ہو گئی کہ وہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو پھر بہتری کی طرف لے جائے اور گیس پائپ لائن کا منصوبہ شروع ہو سکے۔ | اسی بارے میں ایرانی ایٹمی پیش رفت، امریکہ ناراض10 April, 2007 | آس پاس حملے سے باز رہیں: احمدی نژاد22 September, 2007 | آس پاس ایران: قدامت پسندوں کی کامیابی16 March, 2008 | آس پاس قدرتی گیس: بھارت، ایران معاہدہ14 June, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||