ہند امریکہ معاہدہ کی منظوری متوقع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جوہری توانائی کے بارے میں اقوام متحدہ کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے بارے میں خیال ہے کہ وہ جمعہ کو امریکہ اور انڈیا کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کی منظوری دے گا۔ نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ معاہدے کو ان خدشات کے باوجود منظور کر لیا جائے گا کہ اس سے ایک ایسے ملک کو فائدہ پہنچے گا جس نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط نہیں کیے۔ آئی اے ای اے کی منظوری جوہری معاہدے کی تکمیل کے لیے ایک اہم شرط ہے۔ انڈیا کی حکومت کہتی ہے کہ یہ جوہری معاہدہ اس کی توانائی کے ضروریات پوری کرنے کے لیے ضروری ہے۔ معاہدہ مکمل ہو جانے کے بعد انڈیا غیر فوجی مقاصد کے لیے جوہری فضلے اور ٹیکنالوجی کی عالمی مارکیٹ میں شامل ہو سکے گا۔ اب تک ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے اس کے ایسا کرنے پر پابندی تھی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر انڈیا کو آئی اے ای اے کی منظوری مِل گئی تو اس کے بائیس میں سے چودہ ری ایکٹر آئی اے ای اے کی مستقل نگرانی میں آ جائیں گے۔ اگست کے آخر میں انڈیا کو پینتالیس رکن ممالک پر مشتمل نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی منظوری بھی چاہیے ہو گی جو اسے حساس جوہری مواد کی تجارت کی اجازت دے گا۔ معاہدے کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری بھی چاہیے۔ | اسی بارے میں ایٹمی منصوبہ عالمی ادارے کو پیش10 July, 2008 | انڈیا ’ایٹمی ڈیل سلامتی کو خطرہ نہیں‘13 July, 2008 | انڈیا ’پہلےاعتماد کا ووٹ حاصل کريں گے‘ 08 July, 2008 | انڈیا ہند- امریکہ جوہری معاہدے کےاہم نکات08 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||