BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 06 September, 2008, 13:04 GMT 18:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہند- امریکہ جوہری معاہدے کا سفر
ہند امریکہ سولئین جوہری معاہدے کے لیے این ایس جی ممالک سے منظوری حاصل کرنا ایک اہم اور مشکل مرحلہ تھا
6 ستمبر 2008
ہندوستان کی تاریخ کے لیے ایک اہم دن، وینا میں جوہری ساز و سامان فراہم کرنے والے ممالک کے گروپ یعنی این ایس جی نے متفقہ طور پر ہند امریکہ جوہری معاہدے کو منظوری دے دی۔ اب اگلا مرحلہ امریکی کانگریس ہوگا۔

4-5-6 ستمبر 2008
21-22 اگست کو این ایس جی کی میٹنگ میں جب ہند امریکہ جوہری معاہدے کو منظوری نہيں ملی تو ایک اور میٹنگ طلب کی گئی۔ اس میٹنگ میں بھی این ایس جی کے چھ رکن ممالک معاہدے کے نئے مسودے میں تبدیلی چاہی اور میٹنگ دو روز کے بجائے تین دن تک چلی۔

4 ستمبر 2008
امریکی جریدے واشنگٹن پوسٹ میں شائع خفیہ خط کے بعد ہندوستان کے سیاسی حلقوں میں ایک بار پھر جوہری معاہدے پر سیاسی گہما گہمی تیز ہوگئی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے وزیر اعظم پر ملک کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا اور ساتھ ہی مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔

3 ستمبر 2008
واشنگٹن پوسٹ میں امریکی صدر جارج بش کا ایک خفیہ خط شائع ہوا۔ جس کے مطابق اگر ہندوستان جوہری دھماکہ کرتا ہے تو امریکہ معاہدے کو ختم کر سکتا ہے۔

21-22 آگست 2008
وینا ميں جوہری معاہدے کو منظوری دینے کے سلسلے میں ایک اہم میٹنگ ہوئی، تاہم بعض ممالک نے ہندوستان کے جوہری عدم توسیع کے معاہدے پر دستخط نہيں کرنے اور معاہدے کے مسودے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ میٹنگ میں معاہدے کو منظوری نہيں مل سکی۔

24 جولائي 2008
امریکہ کے اعلی اہلکاروں نے امید ظاہر کی یہ معاہدہ ستمبر میں امریکی کانگریس میں پہنچ جائے گا۔ اور صدر جارج بش نے وزیر اعظم منموہن سنگھ سے فون پر بات بھی کی۔

22 جولائی 2008
پارلیمنٹ میں جوہری معاہدے کے تناظر میں وزیر اعظم کے اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہوئی اور حکومت نے انیس ووٹوں کے فرق سے یہ تحریک جیت لی، لیکن یہ جیت حکومت کے لیے داغدار بن گئی کیوں کہ حزب اختلاف کے تین ارکانِ پارلمیان نے الزام لگایا کہ انہیں حکومت کی ایک حامی جماعت نے ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہنے کے لیے بطور رشوت ایک کروڑ روپے دیے۔ رشوت میں ملے روپوں کو ان ارکان نے ایوان میں دکھایا۔

21جولائی 2008
جوہری معاہدے پر 21 جولائي کو پارلیمنٹ پر بحث کا آغاز ہوا۔ جہاں حکومت کی حامی جماعتوں نے معاہدے کا دفاع کیا وہیں حزب اختلاف جماعتوں نے اس معاہدے کو ملک کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیا۔

نو جولائی 2008
بائیں محاذ نے باضابطہ طور پر صدر جمہوریہ پرتیبھا پاٹل سے ملاقات کی اور حکومت سے حمایت واپسی کا خط صدر کو سونپ دیا۔

آٹھ جولائی 2008
مرکز میں مخلوط ترقی پسند اتحادی یعنی یو پی اے کے اتحادی بائیں بازو نے حمایت واپسی کا اعلان کیا۔

23 جون 2008
جوہری معاہدے نے فرقہ وارانہ رنگ اختیار کیا۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے پولیٹ بیورو کے ممبر ایم کے پندھے نے سماج وادی پارٹی کو متبنہ کیا کہ اگر وہ جوہری معاہدے کی حمایت کرتے ہیں تومسلمان ان سے الگ ہوسکتے ہیں۔

25 جون 2008
جوہری معاہدے پر تعطل دور کرنے کے لیے یو پی اے کے اتحادیوں کی میٹنگ ہوئی، میٹنگ غیر نتیجہ رہی۔

فروری 2008
امریکہ نے ہندوستان سے کہا کہ وہ صدر جارج ڈبلیو بش کی صدارت کی مدت کے ختم ہونے سے قبل جوہری معاہدے کو حتمی شکل دے دیں کیونکہ امریکہ میں نئی حکومت کے آنے کے بعد معاہدے پر از سر نو بات چیت کرنی پڑے گی۔

دسمبر 2007
بائیں بازو کی جماعتوں نے کہا کہ حکومت آئی اے ای اے سے بات چیت کرنا بند کرے۔

نومبر 2007
بائیں بازو نے اپنے موقف میں نرمی پیدا کرتے ہوئےحکومت کو جوہری معاہدے سے متعلق آئی اے ای اے سے بات چیت کرنے کی اجازت دی۔ بعد میں بائیں محاذ نےحکومت پرگمراہ کرنے کا الزام لگایا۔

12 اکتوبر 2007
وزير اعظم نے جوہری معاہدے پر اپنے سابقہ عزم کے برعکس کہا ’اگر جوہری معاہدہ نہیں ہو پاتا ہے تو زندگی یہیں ختم نہیں ہوجاتی ہے۔‘ انہوں نے یہ بیان بائیں بازو کے دباؤ میں کہا تھا۔

اکتوبر 2007
کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے کہا کہ جوہری معاہدے کےمخالف ترقی در اصل ترقی کےمخالف ہیں۔اس کے بعد بائیں بازو اور حکومت کے اتحادیوں کے درمیان میٹنگ ہوئی جس کے بعد حکومت آئی ای اے ای سے رابط کرنے میں معمولی تاخیر کرنے پر آمادہ ہوگئی۔

اگست 2007
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے سمجھوتے کی تفصیلات کو دونوں ملکوں میں ایک ساتھ جاری کیا گیا۔ ہندوستانی مبصرین نے اسے ملک کی ترقی کی ضرورتوں کے عین مطابق قرار دیا۔ بائيں بازو نے اس کی مخالفت کی اور کہا اگر حکومت یہ سمجھوتہ کرتی ہے تو وہ حمایت واپس لے لیں گے کیونکہ معاہدہ ملک کے مفاد کے خلاف ہے جبکہ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اسے ملک کی ترقی کےلیے ضروری قرار دیا۔

جولائی 2007
ہندوستان اور امریکہ نے ایک ماہ کی طویل بات چیت کے بعد سمجھوتے کو حتمی شکل دینے کا اعلان کیا۔ ہندوستان نے کہا کہ اگر اس میں کوئی شرط جوڑی جاتی ہے تو وہ اسے تسلیم نہیں کریں گے۔

دسمبر 2006
امریکی پارلیمان کی جانب سے بنائے گئے قانون پر صدر جارج بش نے دستخط کیے۔ مبصرین کی رائے ميں آئندہ چھ مہینے میں معاہدے کو منظوری مل سکتی ہے۔

دسمبر 2006
امریکی پارلیمان نے سمجھوتے کی توثیق کی۔ جوہری معاہدے کو حتمی شکل دینے کےلیے پینتالیس ارکان پر مشتمل یورینیم سپلائر گروپ کے ممالک، آئی اے ای اے اور امریکی پارلیمان کی منظوری ضروری ہے۔

مارچ 2006
امریکی صدر جارج بش نے ہندوستان کا تین روزہ دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران ہندوستان نے سویلین اور فوجی استمعال کے جوہری ریکٹروں کو الگ الگ کرنے پر سمجھوتہ ہوا۔

جولائی 2005
وزیراعظم منموہن سنگھ اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش جوہری معاہدے پر رضامند ہوئے۔ یہ سمجھوتہ گزشتہ تیس برسوں سے ہندوستان کے ساتھ جوہری معاہدے نہ کرنے کی حکمت عملی کے بلکل برعکس تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد