حملوں کی دنیا بھر میں مذمت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر ممبئی میں بدھ کی رات ہونے والے حملوں کی دنیا بھر میں مذمت کی جارہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا کہ اس طرح کا تشدد بالکل ناقابل قبول ہے جبکہ یورپی یونین نےاپنے غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ تاج ہوٹل پر حملے کے وقت وہاں یورپی یونین کے ممبران پارلیمان بھی ٹھہرے ہوئے تھے۔ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا کہ دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے علاقائی تعاون کو تیز کرنے کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان نے کہا کہ جنوب ایشیا سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن نےاپنے ہندوستانی ہم منصب منموہن سنگھ کو ایک پیغام بھیجا جس میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ مضبوطی سے ان کی حکومت کے ساتھ ہے اور جو بھی مدد درکار ہوگی، فراہم کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ان حملوں کا پوری شدت سے جواب دیا جائے گا۔‘ ادھر امریکی وزارت خارجہ نے اسے ایک ’ہولناک‘ حملہ قرار دیا جبکہ نو منتخب صدر باراک اوباما نےکہا کہ اس واقعہ سےایک مرتبہ پھر یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ دہشت گردی کا صفایہ کرنے کے لیے واشنگٹن کو دوسرے ملکوں کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ ان حملوں میں سو سے زیادہ لوگ ہلاک ہوچکے ہیں اور دو سو سے زیادہ زخمی ہیں۔ حملے کی ذمہ داری دکن مجاہدین نامی تنظیم نے قبول کی ہے۔ |
اسی بارے میں دلی دھماکے: 55 ہلاک، ہائی الرٹ29 October, 2005 | انڈیا دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے27 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||