دھماکے: خفیہ اداروں کی بے بسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات اور دلی میں اتوار کو اخبارات نے احمدآباد بم دھماکوں کی ایک تصویر شائع کی ہے جس میں ایک قطار میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے دو ٹھیلے کھڑے ہوئے ہیں جن پر سیب، آم، ناشپاتی اور دیگر موسمی پھل بہت سلیقے سے سجے ہوئے ہيں۔ ان ٹھیلوں کے سامنے زمین پر ایک خاتون اور ایک نوجوان مرد پھل فروش کی لاش خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔ دہشتگردی کی یہ ایک ایسی تصویر ہے جو بہت سے سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ گزشتہ بیس برس میں ہندوستان نے دہشتگردی کے سینکڑوں حملے سہے ہیں اور ہر واقعہ میں ہندوستان انہیں پھل فروشوں کی طرح بے بس نظر آیا ہے۔ گزشتہ سنیچر کو احمدآباد اور جمعہ کو بنگلور میں بہت منظم اور پیشہ وارانہ مہارت کے ساتھ چوبیس سے زیادہ بم دھماکے کیے گئے ہیں۔اتنے بڑے پیمانے پر ایک ساتھ اتنے سارے بم دھماکوں کا اب تک کا یہ سب سے بڑا واقعہ ہے۔
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دھماکوں کے بعد کئی شہروں میں ریڈ الرٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ یہ جاننے میں لگ گئے ہیں کہ کون سا دھماکہ خیز مادہ استعمال کیا گیا۔ سیاسی رہنماؤں نے دھماکے کی مذمت کی اور معمول کی طرح حزب اختلاف نے مزید سخت قانون بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ لیکن اصل سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ یہ دھماکے کس نے کیے ہیں؟ ہمیشہ کی طرح ٹی وی چینلز اور اخبارات نے دھماکے کو فوراً بعد لشکر طیبہ، جیش محمد، حرکت الجہاد اسلامی جیسی غیر ملکی تنظیموں اور برسوں پہلے ہندوستان میں کلعدم قرار دی گئی سیمی تنظیم کا نام لینا شروع کردیا۔ وزیر اعظم نے بھی دھماکوں کے بعد فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کر کے نا دانستہ طور پر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ان دھماکوں میں کوئی مذہبی زاویہ ہے۔ ان دھماکوں کے پیچھے جس کا بھی ہاتھ ہو لیکن ہندوستان کی غیر مسلم اکثریت ان دھماکوں کے لیے مسلم شدت پسند تنظیموں کا ہی ہاتھ سمجھتی ہے۔ گزشتہ دس برس میں جتنے بھی بم دھماکے ہوئے ہیں ان کی تفتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ ممبئی کے ٹرینوں کے دھماکے، حیدرآباد میں مکّہ مسجد کے دھماکے، اتر پردیش کی عدالتوں میں دھماکے، سمجھوتہ ایکسپریس اور جےپور کے دھماکے۔ ان سبھی میں ملک کی خفیہ ایجنسیاں اور پولیس کے خصوصی تفتیش کار ابھی تک کچھ خاص پیش رفت نہيں کر سکے ہیں۔
اتر پردیش کی کئي عدالتوں میں ایک ساتھ بم دھماکے ہوئے تھے۔اسی طرح جے پور میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔گزشتہ جمعہ کو بنگلور میں ایک ساتھ آٹھ مقامات پر بم دھماکے ہوئے۔ احمدآباد میں سترہ دھماکے ہوئے۔ اس نوعیت کی تخریب کاری میں درجنوں مقامی لوگوں کا ہاتھ رہا ہوگا، ہفتوں اور مہینوں کی تیاریاں کی گئی ہو گی، زبردست تربیت دی گئی ہوگی لیکن اتنے بڑے پیمانے پر تباہی کی سرگرمیاں چل رہی ہوں اور خفیہ اداروں کو اس کی معمولی سی بھنک بھی نہ پڑے تو پھر صرف خفیہ اداروں کی صلاحیت پر ہی شک کیا جا سکتا ہے۔ پولیس اور خفیہ اداروں نے ماضی کے بعض واقعات میں جو گرفتاریاں ہوئی ہیں وہ بھی قانونی اور تفتیشی اعتبار سے اطمینان بخش نہیں ہیں۔ ابھی تک تفتیشی ادارے دہشتگرد تنظیموں کا نام لےکر نکل جاتے تھے لیکن اب دباؤ بڑھ رہا ہے۔عوام نے دہشتگردوں کی کارروائیوں کے تناظر میں صبر و تحمل سے جینا خود سیکھ لیا ہے۔ لیکن وہ اب جاننا چاہتے ہیں کہ ان خونریز دھماکوں کے پیچھے کون لوگ ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے۔ ان کی منصوبہ بندی کون کر رہا ہے۔ وہ کون ہیں جو ہندوستان کو تاخت و تاراج کرنے پر لگے ہیں۔ حفیہ اداروں پر دباؤ بہت ہے۔ انہیں ان حقائق کا پتہ لگانا ہوگا۔ پورا ملک شدت سے سوال کا جواب چاہتا ہے اور سب سے زیادہ شدت سے ان جوابات کا انتظار ملک کے مسلمانوں کو ہے۔ |
اسی بارے میں احمدآباد دھماکے، پینتالیس ہلاکتیں 27 July, 2008 | انڈیا وفاقی تفتیشی ایجینسی پرغور27 July, 2008 | انڈیا دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے27 July, 2008 | انڈیا احمدآباد:ہلاکتیں 45، امن قائم رکھنے کی اپیل27 July, 2008 | انڈیا احمد آباد لرز گیا، 16 بم دھماکوں میں 29 ہلاک26 July, 2008 | انڈیا دھماکوں کا مقصد دہشت پھیلانا26 July, 2008 | انڈیا بنگلور ميں دھماکے، دو ہلاک25 July, 2008 | انڈیا بنگلور: دوسرے دن بم ناکارہ بنایا گیا26 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||