BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 October, 2005, 20:13 GMT 01:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی دھماکے: 55 ہلاک، ہائی الرٹ
دلی دھماکے
دلی میں تین دھماکوں کے بعد متعدد عماتوں اور گاڑیوں میں آگ لگ گئی

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہفتے کی شام ہونے والے تین مختلف بم دھماکوں میں کم از کم 60 افراد کی ہلاکت اور 200 کے زخمی ہونے کے بعد شہر میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کا اعلان کیاگیا ہے۔

شہر کی اہم عمارتوں کے باہر مسلح پولیس کا پہرہ لگا دیا گیا ہے اور دھماکے کے بعد دیوالی اور عید کے تہواروں کی روشنیاں ماند پڑگئی ہیں۔ سیکورٹی اہلکاروں نے کہا ہے کہ دھماکوں میں لشکرِ طیبہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے مگر اعلیٰ سطح پر کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا اور نہ کسی نے دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے ،جو گزشتہ رات کلکتے کا دورہ مختصر کر کے واپس دہلی پہنچے تھے، دھماکوں کو دہشت گردوں کی کارروائی قرار دیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پر سکون رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معصوم لوگوں کے خلاف یہ ایک بزدلانہ کارروائی ہے۔ انہوں نے اپنی ہنگامی طور پر اپنی کابینہ کے اہم ارکان کی ایک اجلاس کی صدارت بھی کی ہے۔

دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب لوگ دیوالی، اور عید کی شاپنگ کر رہے تھے اور بازاروں میں گاہکوں کا ایک ہجوم تھا۔ دو دھماکے یکے بعد دیگرے ہوئے جبکہ تیسرا دھماکہ ایک بس میں ہوا۔

بھارتی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ یہ ایک بزدلانہ کارروائی ہے

کئی ممالک نے بھارت میں ہونے والے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان شدید ترین الفاظ میں ان دھماکوں کی مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی ہمدردیاں ان لوگوں کے لواحقین کے ساتھ ہیں جنہیں دیوالی اور عید کی شاپنگ کے دوران خون میں نہلا دیا گیا۔

عینی شاہدین نے دھماکوں کے ہولناک مناظر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکوں کے بعد ہر طرف خون میں لت پت لاشیں بکھری پڑی تھیں۔

اروجنی نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار پال دنہر کے مطابق جائے حادثہ سے سوختہ لاشوں کو لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور امدادی عملہ دکانوں اور مکانات کے ملبے میں سے زخمیوں اور مرنے والوں کو تلاش کر رہا تھا۔

ایک عینی شاہد ارون گپتا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پہاڑ گنج میں ہونے بم دھماکے سے صرف ایک سو پچاس فٹ کے فاصلے پر تھے۔ یہ علاقہ سیاحوں میں بہت مشہور ہے۔

ارون گپتا نے بتایا کہ دھماکے کی آواز سے وہ ششدر رہ گئے اور زمین پر لیٹ گئے۔ جب تھوڑی دیر میں دھواں چھٹا تو انہوں نے لوگوں کو ہر طرف بھاگتے ہوئے دیکھا۔

پہلا دھماکہ نئی دلی ریلوے سٹیشن سے تھوڑی دور پہاڑ گنج کے علاقے میں ہوا۔ دوسرا دھماکہ سروجنی نگر میں ہوا جہاں دھماکے کے بعد عمارتوں میں آگ لگ گئی جہاں سب زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تیسرا دھماکہ گووند پوری کے علاقے میں ایک بس میں ہوا جس میں کم سے کم تین لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

بعض خبروں کے مطابق پولیس کو پہلے ہی شک تھا کہ دلی میں تخریبی کاروائیاں ہو سکتی ہیں۔

اسی بارے میں
دلی دھماکوں کی وڈیو
29 October, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد