BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 October, 2005, 16:57 GMT 21:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی دہلی میں بم دھماکے
ہندوستان کے دارالحکومت نئی دہلی میں انتیس اکتوبر کی شام کئی بم دھماکے ہوئے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے دہشت گردوں کی کارروائی ہیں۔ یہ دھماکے نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے سے منسلک پہاڑ گنج کے علاقے میں اور مرکزی دہلی کے کئی مقامات پر ہوئے ہیں۔ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ان دھماکوں کا مقصد معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا ہے۔

یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب پورے ملک میں عوام روشنیوں کے تہوار دیوالی کی تیاری میں ہیں۔ان دھماکوں پر آپ کا ردعمل کیا ہے؟

آپ کی رائے

یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔

نیر خان، ٹیکساس:
یہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ جس نے میں یہ کیا اس کا کوئی مطلب نہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک بزدلانہ سازش ہے انسانی تہذیب کے خلاف۔ ایک انسان ایک انسان ہے، چاہے وہ مغرب میں رہتا ہو یا مغرب میں۔ جن لوگوں کی جانیں چلی گئیں اس پر مجھے بہت افسوس ہے، میں ایک کشمیری ہوں اور انڈین لوگوں کے صدمے کو محسوس کرسکتا ہوں، کیوں کہ میری قوم انیس سو نواسی سے کشمیر میں آئی ایس آئی کی جانب سے چلائی جانے والی تنظیموں کے ہاتھوں اسی کا شکار رہی ہے جو انسانوں کے قتل میں ملوث رہی ہیں۔ اس طرح کی کارروائیوں کی شدید مذمت کی جانی چاہئے، چاہے وہ کسی بھی نوعیت کی کیوں نہ ہوں۔

جاوید اقبال ملک، چکوال:
یہ ایک گھنونا اور شیطانی فعل ہے، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور اس طرح انسانی جانوں کو مارنا انتہائی شرمناک ہے۔

عفاف اظہر، ٹورانٹو:
یہ ایک انتہائی افسوسناک فعل ہے، انسان کا خون آج پانی سے بھی سستا ہوچکا ہے، پانی کے بغیر لوگ مررہے ہیں، مگر انسان کے خون کی قیمت دیکھیں سڑکوں پر پڑی مل رہی ہے، ایسی حرکتیں کرنے والے کو ظالم درندے جن کا نہ تو کسی مذہب سے کوئی واسطہ ہے نہ انسانیت سے۔۔۔۔

جاوید اختر خان، رسالپور:
میرے خیال میں یہ دھماکے کسی ایسی ایجنسی نے کیا جو پاک انڈیا ریلیشن کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتی۔ اور اس میں ان کے اپنے مفادات ہیں، یہ سی آئی اے بھی ہوسکتا ہے یا کوئی اور۔ دونوں کنٹریز کو گہری نظر سے دیکھنا چاہئے۔

ڈلوں فیروز، راولپنڈی:
یہ انڈین سکیورٹی ایجنسی را کی جانب سےبڑی دھاندلی ہے۔

احمد حسین، پاکستان:
میرے خیال سے جو کچھ ہوا وہ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ ہمیں ایک دوسرے ملک کو ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کرنا چاہئے کیوں کہ اس سے خطے میں مزید مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

سعدیہ سلام، دہلی:
جو نہیں اس کی ہی پہچان ہیں ہم،
کس خسارے میں مسلمان ہیں ہم۔
یہ مکافات عمل سے غافل،
آئنہ دیکھ کے حیران ہیں ہم۔
کل تلک الجھے رہے دوسروں سے،
آج اپنوں سے پریشان ہیں ہم۔

محمد یوسف آرائین، امریکہ:
جب بھی ایسا واقعہ رونما ہوتا ہے، مجھے شیھان ننگا ناچتا محسوس ہوتا ہے۔ دھماکے نہ انڈین گورنمنٹ نہ پاکستان گورنمنٹ کراتی ہے۔ بلکہ یہ کوئی تیسری شیطانی قوت ہے جو نہیں چاہتی کہ یہ دونوں ملک اچھے ہمسایوں کی طرح سے رہ سکیں۔ پہلے ہی زلزلے کی تباہیوں سے دل غم کی کیفیت میں ہے کہ اس بری خبر نے دل اور بوجھل کردی۔ اللہ سے دعا ہے کہ ان شیطانوں کے شر سے محفوظ فرما۔ اور حادثے کے شکار ہونے والوں کے لواحقین کو صبر عطا فرما۔

منتظر علی مانی، اٹک:
یہ برا وقت ہے، دہشت گردی۔ یہ لوگ انسانیت کے قاتل ہیں۔

نعیم تیمور، وغاری:
ان بم دھماکوں کے پیچھے کوئی مسلم تنظیم نہیں ہوسکتی کیوں کہ اسلام میں سِوِل لوگوں کا قتل حرام ہے۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اس کے پیچھے یقینان موساد یا سی آئی اے کا ہاتھ ہوگا۔

رانا، این ایف بی ای پراجیکٹ:
میرے خیال میں یہ بہت برا کام ہوا ہے، مجھے بہت افسوس ہے۔

ندیم احمد خان، پشاور:
دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے۔ دہشت گرد نہیں چاہتے کہ انڈیا اور پاکستان اچھے دوست بن جائیں۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے مجھے اس پر افسوس ہے، چاہے دہشت گردی دنیا میں کہیں بھی ہو۔ میری ہمدردیاں دھماکوں کے شکار لوگوں کے ساتھ ہیں۔ خدا انہیں اپنی رحمت میں جگہ دے۔

افتخار احمد، کشمیری:
ہر روز ایک نیا ستم ایجاد کرے گا
انسان ہے انسان کو برباد کرے گا

سیاست نیشنل لیول پر ہو یا انٹرنیشنل لیول پر، مرنا تو غریب اور عام لوگوں کو ہوتا ہے۔

محمد ارفد، اسلام آْباد:
یہ کارروائی میرے خیال میں ہندو تنظیم کی ہیں اور اس کے ساتھ اسرائیل کی ہیں، پاکستان سے کسی بھی بندے نے یہ نہیں کیا ہے کیوں کہ پاکستان میں زلزلہ ہے اور سارے لوگ اس کا کام کررہے ہیں۔

عبید، نئی دہلی:
یہ سماج مخالف کچھ عناصر کی جانب سے پلان کرکے کیا گیا ہے۔ وہ انڈین سوسائٹی میں تشویشناک حالات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ان کے ہاتھ میں کھیلنے کی ضرورت نہیں ہے۔

عدنان ثاقب، سیالکوٹ:
یہ دہشت گرد کارروائی ہے۔ اس طرح کے واقعے کبھی نہیں ہونے چاہئیں۔

عقیل واجد، گجرات:
میں اس واقعے کی بحیثیت مسلمان مذمت کرتا ہوں اور یہ اس بات کی نشانی ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان پیدا ہونے والی اچھی فضا کو خراب کرنا کوئی بھی انسان کسی دوسرے انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتا اور یہ بات بھی طے ہے کہ جو لوگ اس طرح کے فعل کرتے ہیں ان لوگوں کو انسان کہنا بےعقلی کا ثبوت ہے۔ پاکستان اور پوری دنیا کی انسانیت سے پیار کرنے والے انسان اس واقعے کی مذمت کرتے ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو ہدایت دے۔

احمد صدیقی، لندن:
یہ سب معمول کی باتیں ہیں، جب تک دونوں ممالک آپس میں نہیں بیٹھتے ایسے حالات کا ہونا معمولی بات نہیں ہے۔ پاکستان میں بھی ہوتا ہے، یہ خون دونوں ملکوں کی حکومتوں کے سر پر ہے، انہیں فیصلہ کن مذاکرات کرنا چاہئے۔

صابر، پشاور:
یہ دھماکے انڈین گورنمنٹ نے کرائے ہیں، لائن آف کنٹرول کھولنے کے معاملے کی وجہ سے۔ وہ ہم سے اچھے تعلقات نہی چاہتے۔

وحید ایاز، کراچی:
یہ انسانوں کے ہاتھ انسانیت کی بدترین تذلیل ہے۔ بم دھماکے کرنے والے بزدل ترین انسان ہوتے ہیں، اور انسانیت کے نام پر غلیظ ترین دھبہ ہیں، ان لوگوں کی مذمت کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں۔

محمد سلیم، نیویارک:
بہت افسوس کی بات ہے کہ کچھ لوگ ان دھماکوں پر بےگناہ لوگوں کے مرنے پر خوش ہورہے ہیں۔ ان لوگوں کو مسلمان کہنا جرم ہے۔ اسلام کا مطلب بےگناہوں کی جان لینا نہیں بلکہ ان کی جان بچانا ہے۔ کاش کہ یہ بات ہر پاکستانی مسلمان کی سمجھ میں آتی۔

سلیم رضا، یو کے:
یہ سب امریکہ کی دہشت گردی کے بارے میں غلط پالیسی سے شروع ہوا۔ حکومتیں ایسا کرتی ہیں اور دشمنوں کو ذمہ دار ٹھہراتی ہیں۔

محمد افضال، مانسہرہ:
ان ہلاکتوں کے لئے بہت افسوس ہوا۔

ایم حفیظ، حیدرآباد دکن:
جس طرح شیر انسان کا شکار کرکے آدم خور بن جاتا ہے اسی طرح کچھ آدم زاد اپنے ہی بھائی کا خون اور گوشت کے لوتھڑے دیکھنے کے شوقین ہوتے ہیں۔ اشرف المخلوقات کا درجہ پائے یہ خونخار درندہ یہ بھول گئے ہیں اوپر والے کی عدالت میں انہیں ہر خون کے خطرے کا حساب دینا ہے۔ ایسے حادثے انجام دینے والے اس ماہ مبارک میں لوگوں کو جنت میں بھیج رہے ہیں، خود دوزخ کی دیوار بن رہے ہیں۔۔۔۔

وارث خان، امریکہ:
پاکستان اور انڈیا کی دوستی اسرائیل کے مفاد میں نہیں۔ اس میں یقینا امریکن سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کا ہاتھ ہے۔

شہزاد ریاض، ضلع پونچ، حجیرہ:
جناب میں تو یہی کہوں گا کہ اب جب کہ کشمیر اور انڈیا بارڈر کھولی جاچکی ہے، اس وجہ سے یہ کسی کی سازش ہے کہ دونوں ملکوں کے حالات خراب ہوں اور زلزلے کے متاثرین کی حالت دوبارہ خراب ہو۔

شکیل خان، ورجینیا:
یہ کافی صدمے کی بات ہے۔ یہ جس نے بھی کیا ہے اس کے دل میں خدا کا خوف نہیں۔

سجاد حیدر، کوپن ہیگن:
اللہ ہم سب پر رحم کرے۔ جو کچھ بھی ہوا ہے میں صرف اتنا کہوں گا کہ یہ کسی مجاہد مسلم کی حرکت نہیں ہوسکتی کیوں کہ تاریخ گواہ ہے کہ نومسلم کو بھی اگر انصاف ملا تو مسلمانوں کے ذریعے ملا، ورنہ ان کے اپنے بھی انہیں انصاف نہیں دیتے تھے۔

طاہر چودھری، جاپان:
یہ دھماکے پاکستان پر پریشر ڈالنے کے لئے کرائے گئے ہیں تاکہ پاکستان ایران کے خلاف امریکہ کا ساتھ دے۔ یہ ڈبل بی کا کارنامہ ہے یعنی بش اور بلیئر کمپنی۔

ایم سلیم انجم، لاہور:
یہ پروفیشنل قاتلوں کا کام ہے، جن کا صرف کام ہے لوگوں کا قتل کرنا کیوں کہ اس کے لئے انہیں پیسہ ملتا ہے۔ یہ کم وقت میں زیادہ پیسے حاصل کرنے کا طریقہ ہوسکتا ہے۔

یاسر مختار، کراچی:
دہلی میں جو دھماکے ہوئے ہیں یہ ایک افسوس ناک واقعہ ہے۔ لیکن بھارتی حکومت ایسا ہر الزام مسلمانوں پر ڈال دیتی ہے جس سے ہندو مسلم فسادات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو بہر حال غلط ہے۔ ایک امکان یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ دھماکے انڈین حکومت نے خود کروائے ہوں تاکہ زلزلے کے بعد بھارتی عوام میں جو پاکستانیوں کے لئے ہمدردی پائی جاتی ہے وہ ختم کی جائے۔ لیکن یہ سب قیاس آرائیاں ہیں، حتمی بات نہیں کی جاسکتی لیکن ان دھماکوں کی آڑ میں وہاں رہنے والے مسلمانوں کو تنگ نہیں کرنا چاہئے، اور نہ ہی بلا سوچے سمجھے اس کا الزام مسلمانوں پر دھرنا چاہئے۔

محمد شوکت، کراچی:
اپنے ملک کے لوگوں نے کیا ہے جو پاکستان کے ساتھ انڈیا کی دوستی کو پسند نہیں کرتے۔ یہی الزام پاکستان پر لگے گا۔

سلیم نواز خان، سنگاپور:
مجھے تعجب ہوا اس رپورٹنگ پر کہ ’دھماکے ہندو تہوار سے قبل ہوئے‘۔ اس بیان سے ’جہادی نتیجہ‘ اخذ ہوتا ہے پاکستان کو ملوث کرنے کے لئے۔ اس رپورٹنگ میں مسلمانوں کے عیدالفطر کو بھی شامل کرنا چاہئے۔ ہمیں اسے ان لوگوں کے بیانات کے پس منظر میں دیکھنا ہے جو انڈین گورنمنٹ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ پاکستان میں زلزلے کے متاثرین کی مدد نہ کرے۔

نامعلوم:
میرے خیال میں اس میں کسی بھی مجاہد تنظیم کا ہاتھ نہیں ہے کیوں کہ اسلام اس بات کی بالکل بھی اجازت نہیں دیتا کہ معصوم لوگوں کو اس بےدردی سے مارا جائے۔ اس میں کوئی تیسرا ہے جو انڈیا پاکستان کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

عمران ہوتیانہ، ماڈل ٹاؤن:
اس طرح کی دہشت گردانہ کارروائی غیرحساس عناصر کی جانب سے کی گئی ہوگی۔ کسی نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن اگر کسی نے کی بھی تو ماضی کی طرح یہ کاغذی تنظیموں کی جانب سے ہوگا۔ جب تک کوئی سامنے نہیں آتا یا حکومت شواہد کے ساتھ کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتی، میڈیا کسی کی نشاندہی نہ کرے۔

محمد اے چودھری، امریکہ:
اس طرح کے ظالمانہ حملے کی مذمت کرنے کے لئے صحیح الفاظ تلاش کرنا بھی مشکل ہے۔ بدمعاشوں کے بھی کچھ اصول ہوتے ہیں لیکن موت کے ان ایجنٹوں کا کچھ بھی نہیں۔ رمضان کے مبارک مہینے میں اور دیوالی کے موقع پر، یہ غلط ہے۔

سائبر خان، ارتھ:
کہاں گئے را کے ایجنٹ؟ انڈیا کو بہت ناز ہے ان پر نا۔

غلام نبی فلاحی، لندن:
میں رمضان کی نماز ادا کرنے کے بعد گھر میں واپس داخل ہی ہوا تھا کہ میری بیوی کے زبان پر یہ الفاظ تھے کہ دہلی میں بم دھماکے ہوئے ہیں جس میں پچاس بےقصور مارے گئے ہیں۔ یہ سفاکانہ کام ہے، جس نے بھی کیا ہے اس کی مذمت کی جانی چاہئے۔ آج مغری دنیا ان تنظیموں کے بارے میں فکرمند ہے جو اسلام کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہی ہیں۔ یہ تشویش غلط نہیں ہے۔ یہ واضح ہے کہ جو اس طرح کی کارروائی کررہے ہیں انہیں سزا ملنی چاہئے، عالمی قوانین کے معیار کےمطابق۔ لیکن اس کے خلاف طویل المدت لائحۂ عمل تیار کرنے کی ضرورت ہے۔

امجد بھٹہ، کینیڈا:
جو بھی ان حملوں کے پیچھے ہے وہ انسانیت کا دشمن ہے۔ اس کے لئے انہیں سزا ملنی چاہئے۔

مہر افشان ترمذی، سعودی عرب:
جہادی تنظیمیں جس طرح جان توڑ محنت کررہی ہیں اس سے ان کا اِمپریسن لوگوں پر اچھا ہوجائے گا، اس لئے بم دھماکوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور پاکستان میں انہیں پکڑنا شروع کردیا جائے گا۔ پتہ نہیں اللہ کا عذاب حکمراں طبقوں پر کیوں نہیں آتا۔

شاہ نواز نصیر، ڈنمارک:
امید کرتا ہوں اس بار انڈین گورنمنٹ اس کا الزام آئی ایس آئی پر نہیں لائے گی جیسا کہ دونوں ملکوں کی روایت رہی ہے۔ جس نے بھی کیا لیکن مرے دونوں ہندو اور مسلمان۔

ارشد مقصود، انگلینڈ:
میں انڈیا میں معصوم لوگوں پر ہونے والے حملوں کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ میری دعائیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں۔

سید علی، آسٹریلیا:
یہ صدمے کی بات ہے، بالخصوص جب انڈیا اور پاکستان ایک دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جنہوں نے یہ کیا ہے وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کو سنجیدگی اور ایمانداری سے دہشت گردی کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس زلزلے سے ایک موقع ملا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان غلط اختلافات کو دور کیا جاسکے۔ ہمیں اس خطے میں امن اور محبت کی ضرورت ہے۔

جمیل عقیل بھٹی، امریکہ:
یہ لوگ کسی کے بھی دوست نہیں، انسانیت کے قاتل کو دوست دشمن کی کیا تمیز ہوگی۔

جنان مولائی، تہران:
صحیح دماغ آدمی کبھی ایسے جرائم کی تعریف نہیں کرسکتا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جب بھی انڈیا پاکستان قریب آنا چاہتے ہیں اس قسم کی کارروائیاں نفرت کی خلیج کو زیادہ کردیتی ہیں۔ حقیقت کیا ہے اس کا پتہ تو آج کے دور میں چلانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، مگر جو کچھ ہوا قابل افسوس اور لائق مذمت ہے۔ بےگناہوں کا خون بہاکر انسانیت کو نقصان پہنچایا جاسکتا ہے، حکومتوں کو نہیں۔ ایسا کرنے والوں کو اللہ عقل دے اگر اسلامی گروپ کا کام ہے تو اسلام کو سوائے نقصان کے ایسی کارروائیوں سے کچھ اور حاصل نہیں ہوسکتا ہے۔

علی وڑائچ، امریکہ:
یہ ساری دنیا میں ہورہا ہے۔ مجھے معلوم نہںی کہ کیا ہونے جارہا ہے۔

غالب کمال، کینیڈا:
جناب اگر انڈیا اور پاکستان دونوں ایک دوسرے کو آنے دیں گے تو لندن اور امریکہ کے ہتھیار کون خریدے گا؟ ذرا سوچئے۔ دھماکے تو ہونے ہی تھے۔

عدیل، سنگاپور:
چونکہ پاکستان کشمیر پر انڈیا کے ساتھ سفارتی طور پر بات چیت کررہا ہے، ہندو دہشت گرد تنظیمیں جیسے آر ایس ایس اور وی ایچ پی پریشان ہیں۔ یہ واضح ہے کہ وہی ان دھماکوں کے پیچھے ہیں۔

سعدی رحمان، اسلام آباد:
جو کچھ بھی ہوا ہے بہت برا ہوا ہے۔ انسانیت کا قتل ایک جرم ہے۔

عمران جلیل، ریاض:
دنیا میں ہر جگہ خون کی ہولی کھیلی جارہی ہے، چاہے وہ نیویارک میں ہو یا بالی میں یا پھر لندن میں۔ اور یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ بالکل ناکام ہوچکی ہے۔ میرے خیال سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے انسان کو زندگی کے ہر پہلو سے لڑنا ہوگا، یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر کون سی ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے لوگ دہشت گردی کی طرف مائل ہوتے ہیں۔۔۔۔

نامعلوم:
یہ سفاکانہ کام ہے، میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔

امداد حسین، سویڈن:
جیسا کہ ہندوستان کے وزیراعظم نے نشاندہی کی ہے، یہ دہشت گردانہ کارروائی لگتی ہے۔ لیکن ایسے حملوں کی صرف مذمت کرنا کافی نہیں۔ جب تک حکومتیں غریبوں کے مسائل حل نہیں کرتیں، یہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ہتھیار بنا رہے گا۔

عارف قریشی، ٹانڈو محمد خان:
اس وقت دہشت گرد کیا چاہتے ہیں؟ وہ انسانیت کے بڑے دشمن ہیں، پاکستان تو خود مشکل میں ہے، نہ جانے معصوم لوگوں سے کھیلکر اس کو کیا ملتا ہے؟ کوئی مذہب دہشت گردی نہیں سکھاتا۔ انڈیا اور پاکستان جب بھی نزدیک آتے ہیں ایسا ہی ہوتا ہے، دھماکوں میں کتنے معصوم کی جانیںچالی گئی ہیں، اس سے کسی کو کچھ نہیں ملے گا، سوائے رسوائی اور ذلت کے۔

ریاض احمد، سول، جنوبی کوریا:
ہم پردیس میں پہلے بھی بہت دکھی ہیں، قدرتی آفات سے اور اوپر سے یہ پھر ہم دو دوست ہیں یہاں انڈین یا پاکستانی کبھی نہیں لڑتے۔ اللہ ہدایت دے ان ظالم لوگوں کو۔ فی امان اللہ۔

محمد ریاض، امریکہ:
انڈین سپریم کورٹ نے انڈین پارلیمنٹ پر حملے میں معصوم لوگوں کو مجرم قرار دیا ہے۔ چنانچہ یہ اس کا ردعمہ معلوم ہوتا ہے۔ اب ہندوستان پاکستان کو سزاوار قرار دےگا، ہمیشہ کی طرح جب کہ پاکستان زلزلے کی وجہ سے اتنی مشکل میں پھنسا ہوا ہے کہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ لیکن ہندوستان کے لیڈر ضرور پاکستان کو قصوروار ٹھہرائیں گے۔

برہان الیاس، راولپنڈی:
ہر انسان کی موت ایک المیہ ہے، دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔

محمد عرفان بٹ، اسپین:
مجھے تو یہ انڈین والوں کی چال لگتی ہے، ابھی دو دن ہوئے ہیں کہ انڈیا والوں نے پاکستان کو پیسوں کی مدد دینے کی بات کی تھی، یہ دھماکے بھی انڈیا والے نے ہی کیے ہیں، تاکہ انڈیا اور پاکستان کے حالات آپس میں خراب ہوجاییں اور انڈیا پاکستان کی کوئی مدد نہ کرے۔

اویس احمد، ٹوبہ ٹیک سنگھ:
یقینان اس کا ہر باشعور مسلمان کو افسوس ہوگا۔

اکرام چودھری، اردن:
میرے خیال میں یہ دھماکے انہوں نے کیے ہیں جو نہیں چاہتے کہ ہندوستان اور پاکستان قریبی دوست بنیں، اور یہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ اس بار انڈیا نے ایک بڑا آفر دیا زلزلے کے پاکستانی متاثرین کی مدد کرنے کا۔ میں انڈین لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ سنجیدگی سے کام لیں کیوں کہ یہ کام انہوں نے کیا ہے جو نہیں چاہتے کہ ہم ساتھ رہیں۔ مجھے ان لوگوں کے لئے دکھ ہے جو ان دھماکوں میں ہلاک ہوگئے۔

راجہ احمد انیس، نیدرلینڈ:
جو بھی ہوا برا ہوا، پر مجھے یقین ہے کہ پاکستان اس کے پیچھے نہیں۔ سکون اور آرام سے وجہ ڈھونڈنی اور سمجھنی ہوگی۔

چاند بٹ، جرمنی:
ہندوستان ہمیشہ بہت چھوٹی چھوٹی ریاستوں کا برصغیر رہا ہے۔ ہندو اکثریت کا واحد یونٹ کبھی نہیں رہا۔ ہندوستان میں ہندو رویہ دوسری اقلیتوں سے بہت جارحانہ اور متعصبانہ رہا ہے۔ انسانی اقدار کی بلندکی کی پہچان کے دور میں اور انسانی حقوق کے اس دور میں جب برتر اکثریت کا ڈنکا بجے اور اقلیتوں کی جان اور مال مسلسل برباد ہوتی رہے تو کوئی بھی اقلیت ہندوستان میں خود کو محفوظ نہیں سمجھے گی۔ آسام، ناگالینڈ، کشمیر اور خالستان کی تحریک تو صرف ایک جھلکی ہے۔ ہندوستان کا کوئی بھی ہمیشہ ہمسایہ اس سے محفوظ نہیں، جب ایسی صورت حال ہو تو پھر ہندوستان میں دھماکے ہوں یا تباہی ہو تو ہندوستان کو یہ ضرور سمجھنا چاہئے کہ یہ کیوں ہے کہ آج کا ہندوستان کا شہری خود کو کیوں غیرمحفوظ محسوس کرتا ہے۔

شعیب احمد، دہلی:
انڈین سیاست دان آج بےحد خوش ہوں گے، مل گیا ایک اور موقع اپنی کوتاہیوں کی پردہ پوشی کرنے کا۔

اقبال جی، کراچی:
دھماکے خواہ کہیں بھی کیے جائیں، انسانوں کے درمیان، قابل مذمت ہیں۔ پتہ نہیں اس کے پیچھے کون لوگ ہیں۔ اور وہ کیوں کر انسان کہلانے کے مستحق ہیں؟ اسلام کسی صورت اس طرح کی مومنٹ کی اجازت نہیں دیتا۔ ہندو بھی عام طور پر محبت والے ہوتے ہیں۔ تو پھر یہ کون لوگ ہیں؟

عباس لغاری، سندھ:
یہ دھماکے پاکستان اور انڈیا کے بڑھتے ہوئے تعلقات کو خراب کرنے کے لئے کیے گئے ہیں۔ اس مںی وہ عناصر ملوث ہیں جو تعلقات میں بہتری نہیں چاہتے۔ اب یہ دونوں حکومتوں کو دیکھنا ہے کہ وہ عناصر کون ہیں۔

امداد علی شاہ، بکیرہ شریف:
کوئی بھی مجاہد تو ایسی گھناؤنی حرکت نہیں کرسکتا۔

نجف علی شاہ، بھکر:
دھماکے دنیا کے کسی خطے میں ہوں، قابل افسوس عمل ہے۔

ڈاکٹر نصیر احمد طاہر، بدوملہی:
انسانیت کے دشمن نہ مسلم ہیں نہ ہندو۔ بلکہ ان کا مذہب ہی ظلم اور فساد ہے۔ تھو تھو تھو۔ نفرت کا پرچار کرکے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔

داؤد بٹ، سول، جنوبی کوریا:
معصوم لوگوں کو مارنے کا یہ بہت برا قدم ہے۔ تمام مسلمان اور پاکستانی اس کے خلاف ہیں۔ ایسے لوگوں کا کوئی مذہب نہیں۔ کوئی مذہب کسی کو مارنے کی بات نہیں کرتا۔ اللہ ان لوگوں کو تباہ کردے جنہوں نے یہ جرائم کیے ہیں۔

ظفر حسین، فیصل آباد:
ڈال دیجئے اسامہ پر۔

کامران تہاور، لاہور:
یہ دہشت گردوں کا کام ہے، کیوں کہ لوگوں کو معلوم ہوگیا ہے کہ امیر کیسے بنیں۔

نعیم رزاق، لاہور:
میں بحیثیت پاکستانی دہلی میں ہونے والے بم دھماکوں کی سخت مذمت کرتا ہوں۔ میری دعائیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو ہلاک ہوگئے۔

شریف خان، فرینکفرٹ:
اچھا نہیں ہوا، جس نے بھی کیا ہو یہ بےگناہ معصوم لوگوں کی جان لینا کوئی اچھا کام نہیں۔ اگر وہ مسلم ہیں، غیر مسلم ہیں، افسوس اتنا ہی ہوتا ہے۔ اس کام کے کرنے والوں کو سزا ملنی چاہئے۔ کوئی مذہب اس طرح کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا، یہ تو سیاست کی باتیں ۔۔۔۔

آصف شاہ خان، پاکستان:
یہ بم دھماکے انڈین گورنمنٹ نے خود کروائے ہیں تاکہ کشمیر کے بارڈر پر جو بات جاری ہے اسے متاثر کیا جاسکے۔

پرویز بلوچ، بحرین:
محبت کرنے کے لئے لوگوں کے پاس ٹائم نہیں ہے۔ یہ نفرت پھیلانے کے لئے لوگ کہاں سے وقت نکالتے ہیں۔زلزلے میں کم لوگ مرے ہیں جو ان لوگوں نے دھماکے کرکے مارے ہیں؟ افسوس صد افسوس۔

ڈاکٹر احمد، برمنگھم:
انڈیا میں ہونے والے دھماکے بہت افسوس ناک ہیں۔ انڈیا والے بھی ہمارے بھائی ہیں اور ہم ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔ ہم تمام قسم کی دہشت گردی کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں چاہے وہ کسی حکومت کی طرف سے ہوں۔ افسوس یہ ہے کہ چند افراد کی طرف سے کی گئی دہشت گردی کو تو دہشت گردی کا نام دے دیا جاتا ہے لیکن اس وقت سب کے منہ پہ تالے لگ جاتے ہیں جب نام بش، مشرف، ٹونی یا انڈین گورنمنٹ کی دہشت گرید کا آتا ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس۔

احمد نواز نقوی، کراچی:
بہت صدمے کی خبر ہے۔ ظالم لوگ ہوتے ہیں، کاش ان لوگوں کو درد کا احساس ہوتا۔

نور احمد قاسمی، بلوچستان:
یہ بہت برا ہوا ہے۔ میں بطور پاکستان اس چیز کی مذمت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ منموہن سنگھ تمام مجرموں کو کڑی سزا دینے میں کامیاب ہوں۔ آمین!

ساجل احمد، امریکہ:
خدا اس دنیا پہ رحم کرے، اور ان دہشت گردوں کو عقل دے تاکہ یہ آنکھیں کھول کے دیکھ سکیں۔ ان کو اب لوگوں کو مارنے کی ضرورت نہیں ہے۔ پوری دنیا قدرتی آفت کے زد میں ہیں اور ہر جگہ تباہی کا سماں ہے۔ لوگ مررہے ہیں، ان کو بم دھماکے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے منموہن جی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ بم دھماکوں کا مقصد معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا تھا، اتنی تو سب کی سمجھ میں آتی ہے۔

محمد اشرف، بحرین:
کوئی بھی انسان ان دھماکوں پر افسوس اور مذمت کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ دہشت گردی کا نہایت ہی بزدلانہ اور سفاکانہ کام ہے۔

قمر جاوید، فیصل آباد:
یہ دہشت گردی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ مجھے افسوس ہوا یہ پڑھکر کہ دہلی میں بلاسٹ ہوئے ہیں۔ کوئی بھی مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی کنٹری کے عوام کو قتل کیا جائے یا بم سے اڑایا جائے۔ دہشت گردی دنیا کو درپیش ایک چیلنج ہے۔ اس کا سبب تلاش کرنے ہوں گے اور وہ مسائل حل کرنے ہوں گے۔ تب جاکر آدمی کو حقوق ملیں گے تو یہ ختم ہوگی۔ بہر حال مجھے دلی افسوس ہے۔

جمیل مقصود، برسلز:
معصوم لوگوں کا خون صدمے کی بات ہے۔ لیکن دہشت گردوں کے کوئی اصول نہیں، کوئی اخلاق یا مذہب نہیں۔ اس کی شدید مذمت کی جانی چاہئے۔

عمر فاروق، اٹک:
معصوم انسانوں کا قتل دردناک ہے، جسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جس نے بھی کیا ہے وہ غلط ہے۔

اظہر بٹ، یو اے ای:
میں پاکستانی ہوں اور ہمیشہ سے یہی سنا کہ انڈیا کے ہمارے ساتھ اچھے تعلقات نہیں، لیکن جب سے ہوش سنبھالا ہے تو یہی پھیل کیا ہے کہ ہم سب ایک ہیں، انسان ہیں اور یہ لڑائی خون خرابے نہیں ہونے، ہمارا مذہب ہم کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا اور جو آج دلی میں ہوا ہے بہت برا ہوا ہے۔ کہیں بھی ایسا نہیں ہونا چاہئے۔

عدیل فاروق، جہلم:
انڈیا جو کچھ کشمیر میں کررہا ہے اس کا بھی علاج ہے۔ جو کرا وہ بر لگا لیکن پھر بھی یہ غلط کام ہے۔

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
دھماکوں پر کیا ردعمل ہوسکتا ہے، ہمیشہ ہی ہر کوئی اس طرح کی کارروائیوں کی مذمت ہی کرتا ہے۔ بے گناہوں اور معصوموں کے خون سے ہاتھ رنگنا کسی بھی مذہبی میں جائز نہیں ہے، اور دنیا جو شاید ویسے ہی ختم ہونے کو ہے۔

لئیق احمد، بہار:
یہ بلاسٹ جس نے بھی کیا ہے وہ انسانیت کے خلاف ہے۔

عاصم شہزاد، جرمنی:
ان دھماکوں کا الزامب اب پاکستان پر لگے گا جیسا کہ دنیا کی روایت ہے۔ دونوں ملکوں کے غریب عوام مرتے ہیں تو سیاسی لیڈر اپنی سیاست چمکاتے ہیں۔ دہشت گردی کہیں بھی ہو اس کی مذمت کرنی چاہئے۔

یاسر، لاہور:
معصوم لوگوں کا قتل بہت بری بات ہے، انہیں معلوم نہیں کہ مسئلہ کیا ہے۔

جاوید اقبال، بیلجیئم:
دہشت گردی خواہ کشمیر میں ہو، یوکے میں یا امریکہ میں یا پھر عراق اور افغانستان میں ہم پہلے تو اس کی شیڈیڈ الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ آج انڈیا میں جو کچھ ہوا ہے یہ شاید ان لوگوں نے کیا ہے جو انڈیا پاکستان کے درمیان ہونے والے کشمیر پیس پروسیس کے خلاف ہیں یا پھر لائن آف کنٹرول کھولنے کے خلاف ہیں۔ اس طرح کرکے یہ انڈین گورنمنٹ کو اندرونی طور پر پریشان کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ بہت بڑا ظلم ہے، ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔

عمران حسین، آزاد کشمیر:
میں امید کرتا ہوں کہ انڈین انٹیلیجنس ناکام ہو اور انڈین گورنمنٹ انٹیلیجنس کے تمام بڑے اہلکاروں کو بدلے۔

عدیل احمد فاروق، لاہور:
میرے خیال میں یہ بہت برا ہوا ہے۔ ادھر پاکستان میں زلزلے سے تباہی ہوئی ہے اور انڈیا میں بم دھماکے ان دونوں ملکوں میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہئے۔

زبیر امتیاز، ریڈنگ:
یہ سب را کا کیا دھرا ہے، مجاہد کبھی بھی کسی بےگناہ کو نہیں مارسکتے، یہ سب مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہیں تاکہ مسلمانوں پہ دباؤ بڑھایا جاسکے ہر جگہ پہ۔ انٹیلیجنس ایجنسیز کے سفاک لوگ کبی بھی کسی بےگناہ کی جان لینے سے نہیں چوکتے۔

عاطف جاوید بٹ، بارسلونا:
جو آگ میں ہاتھ ڈالتا ہے اس کا ہاتھ جل جاتا ہے۔ کوئی اتنی عجیب بات نہیں کہ دہلی میں دھماکے ہوگئے ہیں، آخر دہلی والے بھی تو دوسرے کنٹریز میں دھماکے کرواتے رہتے ہیں۔ اور اب سارے کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈال دیا جائے گا کہ یہ سب دھماکے پاکستان نے کروائے ہیں۔ خیر یہ تو ہندوؤں کی پرانی عادت ہے۔

محمد ارشد، نیو یارک، امریکہ:
بہت ہو چکا، اس کے ذمہ داروں کو سرِعام سزا ملنی چاہئے جسے دنیا کے میڈیا پر دکھایا جانا چاہئے تاکہ سب کو اس غیر انسانی کام سے سبق ملے

آصف محمود، لاہور، پاکستان:
دشمن مرے تے خوشی نہ کرئے سجناں وی مر جانا۔ بہت برا فعل ہے جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انسانی جانوں کے دشمن نفسیاتی مریض ہوتے ہیں، خدا ان کی حالت بدلے۔ بہت دکھ کی بات ہے

زبیر عثمانی، پیرس، فرانس:
اس حادثے کا بہت ہی افسوس ہے ہم سب کو۔ بس دعا ہی کر سکتے ہیں ہم اللہ آپ کو صبر دے

خالد خان، لاہور، پاکستان:
دہلی کے بارے میں اس طرح کی خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔ ایسے ہی کام پاکستان میں بھی ہوتے ہیں۔ بے گناہ ہلاکتوں کو روکنے کے لئے فوری اقدامات ہونے چاہئیں

صدیقی بن وقار، بھارت:
یہ کام شیوسینا اور بجرنگ دل نے مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے کیا ہے

طارق رفیق، لاہور، پاکستان:
بھارتی حکومت کوشش کرے گی کہ کسی طرح ان دھماکوں کا الزام آئی ایس آئی پر عائد کرے

ارشد نعیم، حیدر آباد، پاکستان:
یہ معصوم انسانوں اور انکے لواحقین کے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے کہ دیوالی اور عید کے موقعوں پر انہیں اپنے پیاروں سے ہاتھ دھونے پڑیں۔ یہ بہت ہی دکھ کی بات ہے

سجاد علی، دبئی، متحدہ عرب امارات:
میں ان دہشت گرد حملوں کی شدید مذمت کرتا ہوں جس میں معصوم لوگ مارے گئے۔ اس کے کئی مقاصد ہو سکتے ہیں۔ براہِ مہربانی دہشت گردی بند کرو پھر ہی ہم امن کی میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل نکال سکتے ہیں

کرن احمد، کینیڈا:
یہ انتہا پسند انسانیت کے دشمن ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ہوں۔ ایسے افسوسناک واقعات سن کر تو ایسا لگتا ہے کہ صدر بش صحیح کر رہا ہے یہ لاتوں کے بھوت ہیں۔ ہم میں تو اتنی طاقت نہیں لیکن بش کے پاس ہے اور وہ ان کی زبان بھی سمجھتا ہے۔

خالد خان، حیدر آباد، پاکستان:
اگر یہ جہادیوں کا کام ہے تو بالکل قابلِ مذمت ہے۔ یہ جاہل اور سیاسی جہادی کر سکتے ہیں، دین کے مجاہدین ایسا نہیں کر سکتے۔اسلام اسکی کبھی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اگر ان جہادیوں کو اتنا ہی شوق ہے تو اپنے ملک کے منافقوں کو کیوں نہیں مارتے؟ اس واقعے میں بھارت کے دہشت گرد گروپ کا بھی ہاتھ ہو سکتا ہے جن کے پاس اب کوئی ایشو نہیں ہے۔

طارق محمود، سرگودھا، پاکستان:
کچھ ایسی خفیہ طاقتیں ہیں جو نہیں چاہتیں کہ پاکستان اور بھارت نزدیک آئیں۔ جب بھی کوئی ایسی تحریک چلی ہے کوئی نہ کوئی واقعہ ہو گیا ہے ان لوگوں کا مقصد صرف ایک ہے کہ اس خطے میں کبھی بھی امن نہ ہو۔ یہ دھماکے بھی اس کی کڑی ہیں۔

فیض محمود ، کراچی، پاکستان:
میں ان مقتولین کے لئے دعاءِ خیر اور ورثاء کے لئے صبرِ جمیل کے لئے دعا گو ہوں۔ بم دھماکے کس نے کئے ہیں ابھی تک معلوم نہیں ہے، میری رائے ہے کہ یہ کام آئی ایس آئی یا سی آئی اے کا ہے۔

جمال ناصر، ناروے:
میرے خیال میں یہ کام بھارتی ایجنسی راء کا ہے۔ وہ پاکستان کے زلزلے سے دنیا کی توجہ ہٹا کر دنیا کی ہمدردی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ راء نے ایسا پہلے بھی بہت مرتبہ کیا ہے۔

مجاھد حسین نقوی، کراچی، پاکستان:
کل جو کچھ ہوا بہت برا ہواہے جن لوگوں نے یہ بزدلانہ حرکت کی ہے اسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ہم پاکستانیوں کی طرف سے مرنے والے تمام خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اوپر والا ان کو صبر دے اور مجرموں کا پردہ فاش کرے۔

زاھد نور، پاکستان:
مجھے ان دھماکوں کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا ہے۔ پتہ نہیں یہ کیسے ہوے۔ ہمیں بھارت اور پاکستان کی سلامتی کے لئے دعا مانگنی چاہئیے۔

اسلم میمن، کراچی، پاکستان:
یہ انسانیت کا خون ہے جس میں ہندو مسلمان اور غیر ملکی سب ہلاک ہوے۔ آج دہلی گلوبل چیٹ پر ایک ہندوستانی نوجوان کہہ رہا تھا کہ وہ راء میں شامل ہو کر ہزاروں مسلمانوں کا خون کرنا چاہتا ہے۔ حالانکہ ابھی یہ پتا نہیں چلا کہ ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے لیکن اس انڈین کے جذبات سن کر پتا چل گیا کہ دھماکہ کرنے والوں کو ان کا مقصد حاصل ہوگیا۔

محمد عمران، پاکستان:
اہ دھماکے یقیناً آر ایس ایس کے پیروکاروں نے کروائے ہوں گے کیونکہ وہ یہ کبھی نہیں چاہتے کہ پاکستان اور بھارت کسی امن عمل میں کامیاب ہوں۔

ظفر خان، کینیڈا
جن لوگوں نے بھی یہ دھماکے کروائیں ہیں یا کئے ہیں ان پر انشاءاللہ اللہ کا ایک اور عذاب نازل ہو گا۔

:سعدیہ سلام، دہلی، بھارت
اپنے حصے کی زندگی جیتے
کاش ہم سب ہنسی خوشی جیتے
موت سے زیادہ زندگی پر یقین ہم جو رکھتے تو اور بھی جیتے۔
اب کہ کچھ ایسی جنگ ہو جس میں
دشمنی ہارے دوستی جیتے

فرخ شاہد، حافظ آباد، پاکستان:
یہاں ایک بات اہم ہے، ہر کوئی یہ کہے گا کہ یہ مسلمان انتہا پسندوں کا کام ہے لیکن یہ چیز ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بھارت کے اپنے بہت سے داخلی مسائل ہیں اور وہاں 15 سے زیادہ علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ ہمیں خون سے رنگے ان ہاتھوں کی مذمت کرنی چاہئے اور کسی پر بلاوجہ الزام نہیں لگانا چاہئے۔

معراج بلوچ، جاپان:
یہ دھماکے بھارتی سیاستدانوں نے کروائے ہیں کیونکہ جب بھی دونوں ملکوں کے عوام قریب آنے لگتے ہیں تو سبھی کو تکلیف ہوتی ہے۔ میری اپنے بھارتی بھائیوں سے گزارش ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ ہم پاکستانی آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

عاطف جاوید بٹ، بارسلونا:

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد