BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 October, 2005, 13:17 GMT 18:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی دھماکے، کم از کم اڑتالیس ہلاک

دلی دھماکے
دلی میں تین دھماکوں کے بعد متعدد عماتوں اور گاڑیوں میں آگ لگ گئی

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں تین مختلف بم دھماکوں میں اڑتالیس افراد ہلاک اور اسّی زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں دس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

بھارتی وفاقی سیکرٹری صحت پی ہوتا نے 48 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے اور اسی زخمیوں کو شہر کے ہسپتالوں میں داخل کر دیا گیا ہے۔

بھارتی وزیرِاعظم منموہن سنگھ نے ،جو کلکتہ کا دورہ مختصر کر کے واپس دہلی پہنچے ہیں، دھماکوں کو دہشت گردوں کی کارروائی قرار دیتے ہوئے بھارتی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پر سکون رہیں۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے دہشت گرد حملے ہیں۔ بھارتی
سکیورٹی اہلکاروں نے کشمیر کی آزادی کے لیے مسلح کارروائیاں کرنے والی تنظیم لشکرطیبہ پر شک کا اظہار کیا ہے۔تاہم کسی تنظیم نے دلی میں دھماکے کرنے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

دھماکے ایسے وقت میں ہوئے جب لوگ دیوالی، اور عید کی شاپنگ کر رہے تھے اور بازاوں میں گاہکوں کا ایک ہجوم تھا۔

عینی شاہدین نے دھماکوں کے ہولناک مناظر کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ ہر طرف خون میں لت پت لاشیں بکھری پڑی تھیں۔

ارون گپتا نے بتایا کہ دھماکے کی آواز سے وہ ششدر رہ گئے اور زمین پر لیٹ گئے۔ جب تھوڑی دیر میں دھواں چھٹا تو انہوں نے لوگوں کو ہر طرف بھاگتے ہوئے دیکھا۔

سروجنی نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار پال دنہر کے مطابق جائے حادثہ سے سوختہ لاشوں کو لے جاتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور امدادی عملہ دکانوں اور مکانات کے ملبے میں سے زخمیوں اور مرنے والوں کو تلاش کر رہا تھا۔

ایک عینی شاہد ارون گپتا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پہاڑ گنج میں ہونے بم دھماکے سے صرف ایک سو پچاس فٹ کے فاصلے پر تھے۔ یہ علاقہ سیاحوں میں بہت مشہور ہے۔

زخمی ہونے والے میں متعدد افراد کو ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے۔ دھماکوں کے بعد دلی میں ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا ہے۔

پہلا دھماکہ نئی دلی ریلوے سٹیشن سے تھوڑی دور پہاڑ گنج کے علاقے میں ہوا۔ دوسرا دھماکہ سروجنی نگر میں ہوا جہاں دھماکے کے بعد عمارتوں میں آگ لگ گئی جہاں سب زیادہ جانی نقصان ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تیسرا دھماکہ گووند پوری کے علاقے میں ایک بس میں ہوا جس میں کم سے کم تین لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

بعض خبروں کے مطابق پولیس کو پہلے ہی شک تھا کہ دلی میں تخریبی کاروائیاں ہو سکتی ہیں۔

پاکستان نے دہلی میں ہونے والوں دھماکوں کی مذمت کی ہے۔اسلام آباد سے بی بی سی اردو کے نامہ نگار کی مطابق پاکستانی دفترِ خارجہ نے دلی کے دہشت گرد حملوں میں انسانی ہلاکتوں کی پُر زور مذمت کی ہے۔

اسی بارے میں
بارودی سرنگ، 24 فوجی ہلاک
04 September, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد