برطانوی ارب پتی ممبئی میں ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والے ایک سو بیس افراد میں ایک قبرصی نژاد برطانوی ارب پتی تاجر بھی شامل ہیں جنہوں نے مرنے سے تھوڑی دیر قبل بی بی سی کو ایک انٹرویو دیا۔ برطانوی دفترِ خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ مرنے والے میں تہتر سالہ اندریس لیویراس بھی شامل تھے۔ برطانوی دفترِ خارجہ نے اندریس لیویراس کے مرنے کی خبر قبرص کی وزارت خارجہ سے تصدیق کے بعد جاری کی۔ قبرص کے خبر رساں ادارے نے اندریس لیویراس کے بھائی تھیوفینس کے حوالے سے کہا کہ اندرے کو بہت سے دوسرے لوگوں کے ساتھ ہوٹل سے یرغمال بنا کر بعد میں ہلاک کر دیا گیا۔ ہلاک ہونے سے چند گھنٹوں قبل تاج ہوٹل سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر ایک انٹرویو میں اندریس لیویراس نے کہا کہ ’جیسے ہی ہم کھانے کی میز پر بیٹھے ہی تھے کہ ہوٹل کی لابی سے مشین گن سے گولیاں چلنے کی آواز آئی۔‘ ’ہم میز کے نیچے چھپ گئے اور پھر بتیاں بھجا دی گئیں لیکن گولیاں چلنے کی آواز آتی رہی اور پھر وہ ہمیں ہوٹل کے باورچی خانے میں لے گئے اور وہاں سے ہوٹل کے تخانے میں۔‘ ان کے اندازے میں اس وقت ایک ہزار کے لوگ وہاں موجود تھے جن میں مقامی لوگ بھی تھے اور غیر ملکی سیاح بھی۔ لیویر نے بتایا کہ ’ہم چھپے ہوئے نہیں بلکہ بند ہیں۔ ہمیں کوئی کچھ نہیں بتا رہا۔ اس کمرے میں ہمیں بند کر دیا گیا ہے۔‘ ’ہم ہمارے ساتھ ہوٹل کا کچھ عملہ بھی موجود ہے جو ہماری مدد کر رہا ہے۔ ہمیں پانی اور سینڈوچ فراہم کررہے ہیں۔ لیکن کوئی کچھ نہیں کھا رہا ہو کوئی خوف زدہ ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ جب وہ فون پر بات کر رہے ہیں اس وقت بالکل خاموشی ہے۔ ’آخری بم پھٹنے کی آواز کوئی پینتالیس منٹ پہلے آئی تھی اور اس سے پوری عمارت لرز اٹھی تھی۔ کسی کو نہ اندر آنے دیا جا رہا نہ کسی کو باہر جانے دیا جا رہا ہے۔ ہمیں کچھ نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے۔‘ ان سے انٹرویو لینے والے نے کہا کہ آپ تو بہت خوف زدہ ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ’ ہر کوئی خوف زدہ ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔‘ اندریس لیویراس موناکو میں سمندری کشتیوں کی ایک کمپنی کے مالک تھے۔ انہوں نے آئن لائن پر اپنے سوانحی خاکہ میں لکھا ہے کہ کس طرح وہ لندن آنے کے بعد ایک بیکری میں ملازم کی حیثیت سے کام کرتے کرتے ایک دکان کے مالک بنے اور پھر اس دکان سے انہوں نے ایک بڑا کاروبار جمایا جسے بعد میں وہ بیچ کر سمندری کشتیوں کے کاروبار سے منسلک ہو گئے۔ اندریس لیویراس کا نام ایک اخبار نے لندن کے امیر ترین دو سو پینسٹھ افراد کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ بھارت میں برطانوی سفیر نے سر چرڈ سٹیگ نے ابتدا میں کہا تھا کہ ان حملوں میں سات برطانوی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم گارڈن براؤن نے کہا کہ برطانیہ پولیس ماہرین کو ان واقعات کی تحقیقات میں بھارتی حکام کی مدد کے لیے بھارت روانہ کر رہی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||