ممبئی حملوں کا مقصد ابھی پوری طرح واضح نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ بیس برس میں ممبئی نے بدترین گروہی فسادات، بار بار کے بم حملے، گینگ کے ذریعے تشدد اور اہم سیاسی شخصیات کا قتل دیکھا ہے۔ لیکن بدھ کی رات اس شہر میں جس دیدہ دلیری سے حملے کیے گئے ہیں اور انہیں جس مہارت کے ساتھ سر انجام دیا گیا ہے اس سے دو کروڑ کی آبادی کے اس شہر میں سراسیمگی پھیل گئی ہے۔ حملہ آوروں کا نشانہ شہر کا مین ریل سٹیشن تھا جو دنیا کا مصروف ترین سٹیشن ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ایسے ہوٹلوں اور ریستوارن کو ٹارگٹ کیا ہے جہاں پر مقامی اور باہر سے آنے والے کاروباری رہنماؤں کا بسیرا رہتا ہے۔ پورے بھارت میں یہ دہشت گردی کی ان کارروائیوں کو براہِ راست ٹیلی وژن پر دکھایا گیا۔ لوگوں نے اس شہر کے ایک بہترین ہوٹل کی چھت سے شعلے لپکتے دیکھے۔ لوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ پولیس اور پھر فوج کے جوان دوسرے بڑے ہوٹل کا بھی محاصرہ کیے ہوئے ہیں تاکہ اندر چھپے حملہ آوروں کو باہر نکال سکیں۔ ممبئی میں پہلے بھی حملے ہوئے ہیں۔ ایک حملہ سنہ دہ ہزار چھ میں ہوا تھا۔ حکام کے لیے اولین ترجیح اس ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنا اور ان افراد کو رہا کرانا ہے جو حملہ آوروں کے ہاتھوں یرغمال ہیں۔ حکام کی ترجیج اس وقت یہ نہیں کہ ان حملوں کا ذمہ دار کون ہے۔ انڈیا کے ٹی وی چینلز نے اس واقعے کے ابتدائی گھنٹوں میں بہت حد تک الزام تراشی سے گریز کیا۔
دکن مجاہدین نامی ایک تنظیم نے جس کے بارے میں کوئی کم ہی جانتا ہے اور جس کا نام بھی پہلے نہیں سنا گیا، ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تاہم اس دعوے سے اس شک کو تقویت ملے گی کہ حملوں کے پیچھے اسلامی ریڈیکل افراد ہیں۔ دو سال پہلے حکام نے ممبئی میں مسافر ٹرینوں پر میں بم حملوں کا ذمہ دار اسلامی شدت پسند گروپوں کو ٹھہرایا تھا جن کے اڈے پاکستان میں ہوتے تھے۔ سنہ انیس سو ترانوے میں ممبئی کے اہم مقامات پر کئی بم حملے جن میں سینکڑوں افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے، عام خیال یہی ہے کہ وہ ایک منظم جرم تھا۔ انڈیا نے اپنے ہمسایے پاکستان کو ان بم حملوں کا ذمہ دار قرار دیا تھا لیکن اسلام آباد نے یہ الزام بہت سختی سے مسترد کر دیا تھا۔ حال ہی میں ہونے والے کچھ بم حملوں کی، جو اس طرح کے بہر حال نہیں تھے جس طرح بدھ کی رات کیے گئے حملے ہیں، ذمہ داری شدت پسند ہندو تنظیموں پر ڈالی گئی ہے۔ مقصد بہر حال واضح نہیں۔ جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان کے انتخاب سے یہ عندیہ مل سکتا ہے کہ اس سے شہر کے کاروباری حلقوں کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دینا اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خوف میں مبتلا کرنا ہے۔ کچھ لوگ شاید یہ بھی سوچیں کہ ان حملوں کا مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کا ایک عمل ہے۔ یا شاید پھر ان حملوں کا مقصد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو غیر مستحکم کرنا ہو سکتا ہے۔ اگلے چند مہینوں میں بھارت میں انتخاب ہو رہے ہیں جبکہ سات ریاستوں میں اس وقت بھی انتخابی عمل جاری ہے۔ ان ریاستوں میں سے ایک کشمیر کی ریاست ہے جس کی وجہ سے جنوبی ایشیا کے دو نیوکلئیر ہمسایہ ممالک میں گزشتہ ساٹھ برس سے کشمکش اور نزع جاری ہے۔ |
اسی بارے میں دلی دھماکے: 55 ہلاک، ہائی الرٹ29 October, 2005 | انڈیا دھماکے،انڈین اخبارات کی رائے27 July, 2008 | انڈیا سورت میں مزید کئی بم ملے 29 July, 2008 | انڈیا احمدآباد دھماکے: آٹھ افراد گرفتار16 August, 2008 | انڈیا احمدآباد:ہلاکتیں 49، فوج کا گشت27 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||