| حملوں کے لیے سمندری راستے کا انتخاب |
جمعرات کی علی الصبح ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہاراشٹر کے وزیرِ اعلٰی ولاس راؤ دیشمکھ نے ایک ہنگامی پریس کانفرس میں کہا کہ حملہ آور سمندری راستے سے بوٹ کے ذریعے شہر میں داخل ہوئے۔
بدھ کی رات ممبئی شہر میں دہشت کا راج تھا اور پولیس کے مطابق دہشت گردوں نےدس مختلف مقامات کو اپنا نشانہ بنایا۔ سات مقامات پر فائرنگ کر کے لوگوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ تین جگہ دھماکے کیے گئے۔ جمعرات کی صبح نو بجے کے بعد تک ایک ہوٹل میں کمانڈوز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی خبریں تھیں۔ تاج محل ہوٹل میں اب تک غیر ملکیوں سمیت کئی لوگ افراد یرغمال ہیں۔
ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے بعد فوری عالمی ردِ عمل سامنے آیا جس میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل سمیت عالمی رہنماؤں نے ان حملوں کی شدید مذمت کی۔
نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ دہشت گردوں نے اتنے وسیع پیمانے پر فائرنگ کر کے لوگوں کو ہلاک کیا ہو۔بھارتی وزیرِ داخلہ شیو راج پاٹل نے کہا ہے کہ یہ ممبئی پر نہیں بلکہ ملک پرحملہ ہے۔
بھارتی میڈیا نے حملہ آوروں کی جو تصاویر دکھائی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی عمریں بیس سے پچیس سال کے لگ بھگ ہیں۔ حملہ آور ٹی شرٹس اور جینز پہنے ہوئے تھے۔ نو مشتبہ دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ چار مارے گئے ہیں۔مارے جانے والے حملہ آور پولیس جیپ میں فرارہونے کی کوشش کر رہے تھے۔
| برطانوی اور امریکی شہری نشانہ |
بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے جن لکثری ہوٹلوں میں اعلیٰ کاروباری اور سماجی شخصیات کو یرغمال بنایا وہیں انہوں نے ان لوگوں کو خاص طور پر منتخب کیا جن کے پاس برطانوی یا امریکی پاسپورٹ تھے۔
| پاکستان وزیرِ خارجہ بھارت میں |
یہ حملے ایسے وقت ہوئے ہیں جب پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی بھارت کے دورے پر ہیں۔ انہوں نے بدھ کو اپنے بھارتی ہم منصب پرنب مکھرجی سے بات چیت کی اور جمعرات کو انہیں چندی گڑھ میں دہشت گردی کے حوالے سے ایک سیمینار میں شرکت کرنی ہے۔
| ذمہ داری قبول: دکن مجاہدین |
ممبئی حملوں کی ذمہ داری ’دکن مجاہدین‘ نامی تنظیم نے قبول کی ہے لیکن اکثر مبصرین کا خیال ہے کہ اس تنظیم کے بارے میں ابھی تک کسی کو کچھ معلوم نہیں۔
ان حملوں میں انسدادِ دہشت گردی سکواڈ (اے ٹی ایس) کے سربراہ سمیت گیارہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ اے ٹی ایس کے سربراہ ہیمنت کرکرے مالیگاؤں کیس کی تحقیقات میں مصروف تھے اور انہیں کچھ روز سے دھمکیاں موصول ہو رہی تھیں۔
| پولیس ناکام ہوئی تو کمانڈوز آئے |
اعلیٰ حکام کہتے ہیں کہ ممبئی حملے انتہائی مربوط تھے اور ان کی خبر پولیس یا خفیہ اداروں کو پہلے نہیں تھی۔ صورتِ حال پر پولیس کے قابو پانے میں ناکامی کے بعد فوج کے کمانڈوز کو طلب کیا گیا۔
| سکول اور دیگر تعلیمی ادارے بند |
مقامی حکومت نے صورتِ حال کی نزاکت کے پیشِ نظر ممبئی میں سکولوں اور دیگر درس گاہوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کئی جگہ ٹرین سروس ابھی تک معطل ہے البتہ کہیں کہیں ٹرینیں چلنا شروع ہو گئی ہیں۔ |